سرفراز بگٹی کی تبدیلی کی خبروں میں صداقت نہیں، اتحادی حکومت ان کیساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے، پی پی ، ن لیگ
کوئٹہ (ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) دونوں جماعتوں کے پارلیمانی رہنماﺅں نے بلوچستان کے وزیراعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹر میر دوستین خان ڈومکی کا دعویٰ بے بنیاد ہے اور وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کو تمام اتحادی جماعتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے جمعہ کے روز کہا کہ یہ بظاہر مسلم لیگ (ن) کے میر دوستین خان ڈومکی کی ذاتی خواہش معلوم ہوتی ہے، کیوں کہ دونوں جماعتوں کی مرکزی قیادت نے اس طرح کا کوئی فیصلہ نہ تو کیا ہے اور نہ ہی اس پر غور کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر برائے مواصلات و تعمیرات میر سلیم کھوسہ نے کہا کہ ان کی جماعت کے سینیٹر کا بیان یا تو ان کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے یا وزیراعلیٰ بگٹی کے ساتھ کسی اختلاف کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو امن و امان اور طرز حکمرانی کے سنگین مسائل کا سامنا ہے، اور ان امور کا جائزہ اسمبلی میں ہونے والی ان کیمرا بریفنگ کے دوران لیا گیا۔ میر سلیم کھوسہ نے کہا کہ میر دوستین خان ڈومکی کے بیان کے بعد انہوں نے قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق سے بات کی، اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت یقیناً سینیٹر سے پوچھے گی کہ انہوں نے پارٹی قیادت کی اجازت کے بغیر ایسا بیان کیوں دیا۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی اختلافات ہو سکتے ہیں، مگر پارٹی پالیسی کے خلاف بیانات دینا مناسب نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا پیپلز پارٹی کے اندرونی معاملات سے کوئی تعلق نہیں، اور ہر جماعت کے اپنے مسائل ہوتے ہیں، اختلافات خاندانوں میں بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ اراکین اسمبلی اور وزیراعلیٰ کے درمیان اختلافات معمول کی بات ہیں، اور ان کی اپنی جماعت (پیپلز پارٹی) کے اراکین بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہیں، جنہیں بات چیت کے ذریعے حل کیا جاتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر نے کہا کہ سرفراز بگٹی مو¿ثر اور محنتی انداز میں کام کر رہے ہیں، اور اتحادی حکومت ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ہر حال میں وزیراعلیٰ بگٹی کی حمایت جاری رکھے گی، بلوچستان کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں بیرونی خطرات بھی شامل ہیں، مگر صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔


