غلط پالیسیوں، بے حسی اور ناقابل معافی کوتاہیوں نے بلوچستان کی سماجی، معاشی اور تجارتی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا، مولانا واسع

کوئٹہ(این این آئی)امیر جمعیت علماءاسلام بلوچستان و سینیٹرمولانا عبدالواسع نے کہا کہ جعلی اور نااہل نمائندوں نے اس صوبے کو کھنڈر بنا کر رکھ دیا ہے۔ ان کی غلط پالیسیوں، بےحسی اور ناقابلِ معافی کوتاہیوں نے بلوچستان کی سماجی، معاشی اور تجارتی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ صوبے کے تاجر اپنی تجارت صوبے سے باہر منتقل کر رہے ہیں، سرمایہ کار اپنا سرمایہ سمیٹ رہے ہیں اور کاروباری سرگرمیاں مفلوج ہو چکی ہیں۔ یہ صرف لمحہ فکریہ نہیں بلکہ پورے نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے کہ کاروباری طبقے کا اعتماد ٹوٹ چکا ہے اور ان کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے کی بزنس کمیونٹی جو کبھی ترقی کا محور تھی، آج مکمل مایوسی اور بےیقینی کا شکار ہے۔ روزگار کا خاتمہ، تجارت کی پسپائی اور سرمایہ کی منتقلی نے عام شہری سے لے کر سرمایہ کار تک سب کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات سب ایک زوال پذیر نظام کی تصویر پیش کر رہے ہیں اور حکومتی مشینری محض تماشائی بنی بیٹھی ہے۔امیر جے یو آئی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی معاش تین بنیادی ستونوں پر کھڑی تھی مگر حکومت نے نااہلی، بدانتظامی اور بےحسی کے ذریعے ان تینوں ستونوں کو یکسر تباہ کر کے رکھ دیا۔ صوبے کی 53 فیصد آبادی سرحدی اضلاع میں رہتی ہے اور ان کا معاش براہِ راست بارڈر ٹریڈ پر منحصر تھا، مگر حکومت نے بارڈر کی بندش کرکے لاکھوں لوگوں کو نان شبینہ کا محتاج بنا دیا۔ ہزاروں خاندانوں کا روزگار ختم ہو گیا، کاروباری ضابطے بیٹھ گئے اور سرحدی پٹی معاشی قتلِ عام کا منظر پیش کر رہی ہے اسی طرح سیلابی صورتحال نے بلوچستان کی زراعت کو مکمل طور پر اجاڑ کر رکھ دیا۔ کھیت، کھلیان، باغات، مویشی سب تباہ ہو گئے مگر حکومت نے ان بے سہارا کسانوں کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔ جو لوگ برسوں زمین سے روزگار حاصل کرتے تھے وہ آج بےگھر، بےروزگار اور دربدر ہیں، اور آنے والے دنوں میں یہ تباہی خوراک کے شدید بحران کو جنم دے سکتی ہے۔معدنیات اور کانکنی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی معدنی دولت ریاست کی نظر میں تو قیمتی ہے مگر عام آدمی کی پہنچ سے ہمیشہ دور رکھی گئی۔ معدنیات سے وابستہ ہزاروں مزدور، کانکن اور چھوٹے ٹھیکیدار سیکورٹی خدشات، عدم توجہی اور غیر محفوظ ماحول میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کی مشکلات پر نہ کوئی توجہ دیتا ہے، نہ سہولت فراہم کی جاتی ہے، جس کے باعث ہزاروں خاندان معاشی تباہی اور ذہنی کرب میں مبتلا ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال کسی سانحے سے کم نہیں۔ صوبے کے وسائل، تجارت، زراعت اور معدنیات سب پر نااہل حکمرانوں نے کاری ضرب لگائی ہے۔ عوام کے درد، تاجروں کے نقصان، کسانوں کی تباہی اور کانکنوں کی بے بسی کے باوجود کوئی ادارہ حرکت میں نہیں آیا۔ اب وقت بیانات نہیں بلکہ عملی اور فیصلہ کن اقدام کا ہے۔ حکومت، عدلیہ اور ریاستی ادارے فوری طور پر بارڈر ٹریڈ کو بحال کریں، متاثرہ کسانوں کے لیے ہنگامی ریلیف اور بحالی پروگرام دیں، معدنیات اور کانکنی سے وابستہ افراد کو تحفظ اور سہولیات فراہم کریں اور سب سے بڑھ کر اس تباہی کے ذمہ دار عناصر کا سخت ترین احتساب کریں۔انہوں نے آخر میں کہا کہ جب تک بلوچستان کے تین معاشی ستون بحال نہیں ہوتے، صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ یہ صوبہ ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے، اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں بھی آج کی بدانتظامی اور نااہلی کا خمیازہ بھگتیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں