کچھی کینال ،باقی کاموں کے تحت 40کلو مٹر طویل پختہ مین کینال تعمیر کی جائے گی‘: چیئرمین واپڈا
لاہور:کچھی کینال بلوچستان میں آب پاش زراعت کی ترقی اور غربت کے خاتمے کی بدولت صوبے کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں شدت پسندی کے تدراک کے لئے بہت اہم ہے،منصوبے کی اہمیت کے پیش نظر واپڈا نے کچھی کینال فیزون کے باقی کاموں کی تعمیر کا مرحلہ شروع کر دیا ہے، فیزون کے بقیہ کاموں کے تحت 3سال کی مدت میں 40کلو میٹر طویل پختہ مین کینال اور 32کلو میٹر طویل ذیلی نہروں پر مشتمل آبپاشی کا نظام تعمیر کیا جائے گا، جس کے بعد ڈیرہ بگٹی ضلع میں مزید 30 ہزار ایکڑ بنجر زمین سیراب ہو سکے گی۔اِن خیالات کا اظہار چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے کچھی کینال کے دورے کے موقع پر کیا۔جنرل منیجر (سنٹرل)واٹر عطا اللہ میمن اور پراجیکٹ ڈائریکٹرسید اختر علی شاہ بھی اِس دوران موجود تھے۔چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے کہا کہ اِن کے لئے یہ بات خوشی کا باعث ہے کہ سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں واقع کچھی کینال کے کمانڈایریا میں 52 ہزار ایکڑ اراضی پر کاشت کاری شروع کی جاچکی ہے۔جو سوئی اور ڈیرہ بگٹی کے پسماندہ علاقوں میں لوگوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بلوچستان کی حکومت باقی 20ہزار ایکڑ اراضی کو بھی بہت جلد ہموار کر دے گی جس کے بعد اِس اراضی پر بھی فصلیں کاشت کی جائیں گی۔چیئرمین واپڈا نے مزید کہا کہ واپڈا نے کچھی کینال کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کی فزیبلٹی رپورٹس تیار کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔قبل ازیں جنرل منیجر (سنٹرل) واٹرعطا اللہ میمن نے چیئرمین واپڈا کو منصوبے کے پہلے مرحلے کے باقی کاموں کی تعمیر جبکہ دوسرے اور تیسرے مرحلے کی فزیبلٹی رپورٹس کی تیاری بارے پیش رفت سے آگاہ کیا۔کچھی کینال منصوبہ بلوچستا ن میں زراعت، زرعی شعبہ سے متعلق صنعت کے فروغ کے ساتھ ساتھ صوبے کی اقتصادی اور سماجی ترقی کے لئے نہایت اہم ہے۔کچھی کینال پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ میں واقع تونسہ بیراج سے نکلتی ہے اور اِس کا کمانڈ ایریا صوبہ بلوچستان کے اضلاع ڈیرہ بگٹی، نصیر آباد، بولان اور جھل مگسی میں واقع ہے۔ اِس منصوبے کی تعمیر تین مختلف مراحل میں مکمل ہوگی۔


