بلوچستان کے کوٹے پر 21ہزار لوگ وفاق میں ملازم، تحقیقات کی جائیں، اپوزیشن اراکین

کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر)پشتونخواملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر نصراللہ زیرے،بی این پی کے پارلیمانی ملک نصیراحمدشاہوانی اور ایم پی اے شکیلہ نوید دہوار نے کہاہے کہ وفاقی محکموں میں صوبے کے جعلی لوکل وڈمیسائل پر50فیصد سے زائد آفیسران اور ملازمین بلوچستان کے کوٹے پر تعینات ہیں،جعلی ڈومیسائل کی بنیاد پر نہ صرف بلوچستان کے نوجوانوں کوملازمتوں سے محروم کیاجارہاہے بلکہ بلوچستان سے حاصل کردہ ڈومیسائل کی بنیاد پر ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں اور بیرون ملک اسکالرشپس پر بھی دوسرے صوبوں سے لوگ جارہے ہیں جو ہمارے نوجوانوں کی حق تلفی ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے زیروآورمیں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ پشتونخوامیپ کے رکن اسمبلی نصراللہ زیرے نے کہاکہ وفاقی محکموں میں صوبے کے جعلی لوکل وڈمیسائل پر50فیصد سے زائد آفیسران اور ملازمین بلوچستان کے کوٹے پر تعینات ہیں صوبائی حکومت نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو جعلی لوکل اور ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کی تصدیق کرنے کی ہدایت کی ہے تاہم اس پر صحیح معنوں میں عملدرآمد نہیں ہورہاہے انہوں نے کہاکہ ڈپٹی کمشنر لورالائی شہریوں حتی کہ صحافیوں کو اس ضمن میں معلومات فراہم نہیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت ضلعی آفیسران کو پابند کیاجائے کہ وہ معلومات تک رسائی دیں،ملک نصیرشاہوانی نے کہاکہ21ہزار لوگ وفاق میں بلوچستان کے کوٹے پر کام کررہے ہیں انہوں نے کیسے ڈومیسائل حاصل کئے اس کی چھان بین وقت کی اہم ضرورت ہے،لولکل کمیٹی کے لوگ اپنے علاقے کے لوگوں کی شناخت کرکے انہیں لوکل سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں،انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ اس کیلئے ایک ایسی حکمت عملی بنائی جائیں کہ یونین کونسلز کی سطح پر ڈو میسائل کی تصدیق کرسکیں بہت سے ایسے ڈومیسائلز جاری ہوچکے ہیں جن کا تعلق متعلقہ علاقوں سے نہیں ہے۔6فیصد کوٹے پرعملدرآمد نہیں ہورہا۔بی این پی کی شکیلہ نوید دہوار نے کہاکہ جعلی ڈومیسائل کی بنیاد پر نہ صرف بلوچستان کے نوجوانوں کوملازمتوں سے محروم کیاجارہاہے بلکہ بلوچستان سے حاصل کردہ ڈومیسائل کی بنیاد پر ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں اور بیرون ملک اسکالرشپس پر بھی دوسرے صوبوں سے لوگ جارہے ہیں جو ہمارے نوجوانوں کی حق تلفی ہیں۔اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر نے کہاکہ یقینا یہ ایک اہم اور سنجیدہ معاملہ ہے انہوں نے رولنگ دی کہ آئندہ اجلاس میں متعلقہ وزیر یاپارلیمانی سیکرٹری اس حوالے سے اب تک ہونے والی پیشرفت اور اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگا ہ کرے بعدازاں انہوں نے اجلاس غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردیا

اپنا تبصرہ بھیجیں