ایف بی آر نے سرینا فائز عیسیٰ کی منی ٹریل کو غیرتسلی بخش قرار دے دیا

اسلام آباد :فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سرینا فائز عیسیٰ کی منی ٹریل کو غیرتسلی بخش قرار دے دیا ہے، سرینا عیسیٰ محدود آمدن میں لندن جائیدادیں نہیں خرید سکتیں، سرینا عیسیٰ نے ایف بی آر پر عدم اعتماد کیا اور کہا کہ ایف بی آر نے میری 2243 کنال زرعی زمین، کلفٹن کی جائیداد کی وصول آمدن،میری ملازمت کی آمدن کوشامل نہیں کیا، ایف بی آر میرے گوشواروں میں ردوبدل کرسکتی ہے۔تفصیلات کے مطابق جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ کو اب تک ایف بی آر کی جانب سے چار نوٹس بھیجے گئے، سرینا ان نوٹسز کا جواب دے رہی ہے، لیکن ایف بی آر جوابات کو غیرتسلی بخش قرار دے رہا ہے۔ایف بی آر نے سرینا کی لندن میں جائیدادوں کی منی ٹریل کا جائزہ لیا ہے۔ایف بی آر اس میں ظاہر کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ سرینا اپنی محدود آمدن سے لندن میں جائیدادیں نہیں خرید سکتیں۔یعنی سرینا اپنی مجموعی آمدنی سے لندن میں جائیداد نہیں خرید سکتیں۔ایف بی آر نے سرینا عیسیٰ کو 21اگست کو سیکشن 122اور سیکشن 111کے تحت دو نوٹسز بھیجے۔جس میں کہا گیا کہ لندن کی دونوں جائیدادوں کی قیمت 10کروڑ 43لاکھ روپے تھی۔ ایف بی آر کے مطابق سرینا کی ٹیکس والی آمدنی 93لاکھ 75ہزار روپے تھی۔اس پر سرینا عیسیٰ نے بھی ایف بی آر کو 21اگست کے خطوط کا جواب جمع کروا دیا ہے۔جس میں سرینا عیسیٰ نے سوال اٹھایا کہ ایف بی آر نے میری 2243کنال زمین کی زرعی آمدن شامل نہیں کی ہے۔ایف بی آر نے کلفٹن کی جائیداد کی وصول آمدن بھی شمار نہیں کی۔میری ملازمت کی آمدن بھی لندن کی جائیدادوں میں شامل نہیں کی گئی۔ایف بی آر میں جمع میری انکم ٹیکس کی تفصیلات نہیں ظاہر نہیں کی گئیں۔سرینا عیسیٰ نے کہا کہ انہیں ایف بی آر کی ٹیم پر اعتماد نہیں ہے۔ایف بی آر کی ٹیم میرے گوشواروں میں بھی ردوبدل کرسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں