ناصرشاہ نے کراچی کے لیے 10ارب ڈالر مانگے ہیں، شبلی
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ سندھ کے وزیر اطلاعات ناصر شاہ نے کہا کراچی کے لیے دس ارب ڈالر درکار ہیں، دس ارب ہمارے پاس نہیں، ہوتے بھی تو انھیں نہیں دیتے، انہیں پیسے دینے کا مطلب تھا اومنی اکاؤنٹ میں چلے جاتے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم کی ہمدردیاں کراچی کے عوام کے ساتھ ہیں، وہ شہر قائد کی صورتحال پر مسلسل رابطے میں ہیں۔ وزیراعظم عمران خان جلد کراچی کا دورہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر ناصر شاہ نے ایک بیان میں کہا کہ کراچی کے لیے 10 ارب روپے درکار ہیں، ہمارے پاس اتنے پیسے ہوتے تو بھی ان کو نہ دیتے۔
سینیٹر شبلی فراز نے مزید کہا کہ ان کو پیسے دینے کا مطلب ان کی جیبیں بھرنا ہے، سندھ حکومت سے پیسے کسی اور کے اکاؤنٹ میں چلے جاتے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے استفسار کیا کہ کیا ہم اس بات کے متحمل ہوسکتے ہیں کہ پاکستان بلیک لسٹ میں چلاجائے؟
سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن این آر او مانگ رہی ہے، یہ چاہتے ہیں کہ ان سے چوری کا حساب نہ لیا جائے، وزیراعظم اپوزیشن کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) علامتی ہوگی، انہیں ایک دوسرے پر اعتماد ہی نہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے عوام کو غربت سے اٹھانے کےلیے اقدامات کیے ہیں، جلد اچھے دن آنے واہے ہیں، ملکی معیشت عندیہ دیتی ہے کہ آٹا اور چینی کی قیمتیں کم ہوں گی۔


