کوئٹہ میں دودھ فروشوں کی من مانیاں، سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی عروج پر
کوئٹہ:صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں دودھ فروشوں وڈیری فارمز نے بلوچستان ہائی کورٹ اور حکومتی احکامات ہوا میں اڑا دئیے،سرکاری ریٹ مقرر ہونے کے باوجود دودھ مارکیٹ میں 120سے 125روپے میں فروخت کیا جارہا ہے پرائس کنٹرول کمیٹی کے غیر فعال ہونے کے باعث سرکاری نرخ محض کاغذوں کی حد تک ہی محدود ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ کی کارروائی ٹویٹر اور اخبارات تک محدود ہیں۔عوامی حلقوں نے مطالبہ کیاہے کہ فوری طورپر پرائس کنٹرول کمیٹی کو فعال کرکے مہنگائی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سرکاری نرخ کے تعین کے باوجود دودھ وہی مہنگے داموں فروخت تاحال جاری ہے انتظامی محکموں کا آپس میں ٹکرا بھی جاری ہے محکمہ انڈسٹریز نے دودھ کی سرکاری نرخ مقرر کرکے خود کو دودھ میں مکھی کی طرح نکال دیا،دوہفتے قبل دودھ کی فی کلو میں 15سے20اضافے کیا گیا تھامارکیٹ میں دودھ 120سے 125روپے میں فروخت کیا جارہا ہے،دودھ فروشوں کاکہناہے کہ ڈیری فارمز کی جانب سے انہیں مہنگے داموں دودھ فراہم کی جارہی ہے جس کی وجہ سے وہ مہنگے داموں فروخت کرنے پرمجبور ہیں۔سرکاری نرخ کے مطابق ڈیرہ فارمز مالکان107روپے جبکہ دوکاندار115روپے فی کلودودھ فروخت کریں گے دوسری جانب پرائس کنٹرول کمیٹی کے غیر فعال ہونے کے باعث سرکاری نرخ محض کاغذوں کی حد تک ہی محدود ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں ٹویٹر اور اخباری بیانات تک محدود ہے،عوامی حلقوں نے مطالبہ کیاہے کہ فوری طورپر پرائس کنٹرول کمیٹی کو فعال کرکے روزانہ کی بنیاد پر مہنگائی کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیاجائے تاکہ لوگوں کوریلیف مل سکیں۔


