بڑھتی ہوئی لاقانونیت کو لگام دی جائے
لاہور اور سیالکوٹ کے درمیان موٹروے سے سفر کرنے والی خاتون کے ساتھ علاقے کے جرائم پیشہ عناصر نے جس بربریت کا سلوک کیا اس نے پنجاب میں قانون کی حکمرانی کے دعووں کا پول کھول دیا ہے۔سی پی او لاہور عمر شیخ کے ریمارکس نے زخموں پر نمک پاشی کا کام کیا ہے۔انہیں یہ نہیں کہنا چاہیئے تھا کہ مظلوم خاتون کو رات کے وقت اول تو سفر نہیں کرنا چاہیئے تھا، اور اگر انہوں اس راستے سے جانا پسندکیا تو چلتے وقت گاڑی میں پیٹرول چیک کرلینا چاہیئے تھا۔ عام حالات میں یہ الفاظ ایک نصیحت کے طور پر لئے جاتے مگر موجودہ صورت حال میں یہی سمجھا گیا کہ پولیس افسر نے اپنے محکمہ کی نااہلی اور غفلت کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کی ہے اور مظلوم خاتون کی بروقت مدد کو نہ پہنچنے کے ذمہ داران کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کی بجائے الٹا خاتون پر الزام تراشی کی ہے۔ اگر خاتون نے فرانس میں زندگی گزارنے کی بناء پر یہ سمجھا کہ پاکستان میں بھی امن و امان کی صورت حال بہتر ہوگی تب بھی سی پی او لاہور کو متأثرہ خاتون سے معافی مانگنا چاہیئے تھی کہ لاہور پولیس ان کی توقعات کے برعکس ثابت ہوئی۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ موٹر وے کا یہ حصہ اتنے عرصے سے لاوارث کیوں چھوڑا گیا تھا؟کیا ایسے ہی واقعہ کے رونما ہونے کا انتظار کیا جا رہا تھا؟چند روز قبل ایک خاتون کے ساتھ کئی روز تک اجتماعی زیادتی کرنے کے بعداسے گوجرانوالہ کے قریب پھینکنے والے درندہ صفت مجرم تا حال پولیس گرفتار نہیں کر سکی۔اس پر بھی پولیس افسر کو ندامت کا اظہار کرنا چاہیئے تھا۔قصور لاہور سے جڑا ہوا علاقہ ہے،لیکن بچوں کے ساتھ زیادتی اور انہیں قتل کئے جانے کی وارداتیں روز کا معمول بنی ہوئی تھیں۔کمسن زینب کے قتل کے بعد قصور کے شہری مشتعل ہوکر سڑکوں پر نہ آتے تو عمران علی ابھی تک آزاد گھوم رہا ہوتا اور نہ جانے کتنے معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی کے بعد انہیں بے دردی سے قتل کر چکا ہوتا۔عام شہری اس لاقانونیت کا فوری خاتمہ چاہتا ہے۔زینب کے دکھی والد کا یہ مطالبہ اپنی جگہ وزن رکھتا ہے کہ ایسے درندہ صفت مجرموں کو چوک میں دن دہاڑے پھانسی کی سزا دی جائے تاکہ مجرم اس بھیانک انجام سے عبرت حاصل کریں۔لیکن اقوام متحدہ کے بعض قانونی ضابطوں کی پابندی کے باعث پاکستاناس مطالبے کے مطابق عمل نہیں کر سکتا۔ جیل کی چاردیواری میں سورج نکلنے سے پہلے پھانسی دینے کا پابند ہے۔مان لیا بعض رکاوٹیں حائل ہیں مگر آج کے جدید دور میں ڈی این اے، اور سی سی کیمروں کی فوٹیج جیسی ناقابل تردید شہادتوں کے باوجود مجرم کو فوری سزا کیوں نہیں دی جاتی۔ ارتکاب جرم کے بعد شواہد سامنے آتے ہی چند دنوں میں سماعت سے اپیل تک کے مراحل مکمل کرنے کی راہ میں اقوام متحدہ کی کون سی کنونشنز حائل ہیں؟ 90دنوں میں تمام مراحل کی تکمیل ہو جانی چاہیئے۔برسوں بعد دی جانے والی سزامجرموں کے لئے خوف پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔بدقسمتی سے ہمارے ملک میں تفتیش اور عدالت کے روبرو استغاثہ پیش کرنے کا معیار اتناناقص اور پست ہے کہ پولیس اپنے پیٹی بند بھائی ٹریفک سارجنٹ عطا اللہ کو ڈیوٹی کی ادائیگی کے دوران ایک با اثر شخص کے ہاتھوں قتل کی سزا دلوانے میں بھی ناکام ہے جبکہ اس کی سی سی فوٹیج اور صلح نامے جیسی شہادتیں بھی موجود ہیں۔قانون میں اتنے سقم ہیں کہ اکثر مجرم سزا سے بچ جاتے ہیں۔پارلیمنٹ بہتر قانون سازی کے لئے تیار نہیں۔اکثر دیکھا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ سے ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد پولیس ملزموں کوگرفتار نہیں کرتی، وہ ٹہلتے ہوئے بآسانی فرار ہو جاتے ہیں۔اس کے معنے ہیں کہ بہت کچھ ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔پی اے ٹی کے سربراہ مولانا طاہر القادری اسلام آباد کے ڈی چوک میں طویل دھرنا دینے کے باوجود6برس گزرنے کے بعد بھی ماڈل ٹاؤن تھانے (لاہور) کی حدود میں نہتے شہریوں پر گولیاں برسانے والوں سزا نہیں دلوا سکے۔نہ قانون کے لمبے ہاتھ قاتلوں تک پہنچ سکے ہیں اور نہ ہی قانون کی نظر میں سب برابر ہونے والی کہاوت کہیں دکھائی دیتی ہے۔ عام آدمی قیام پاکستان کے 73سال بعد بھی انصاف کو ترس رہا ہے۔پنجاب پولیس کا رویہ پی ٹی آئی کی حکومت دو سال میں ٹھیک نہیں کرسکی۔پولیس کے ایس پی اور ڈی ایس افسران اپنے چیف کے ساتھ تلخ کلامی والے افسر کو ناپسند کرتے ہیں، چیف کے گرد جمع ہوجاتے ہیں مگر قصور کی معصوم زینب کے قاتلوں کو گرفتار کرنے میں ایسے اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ کراچی میں بھی اپنی مظلوم بچی کی لاش کچرا کنڈی سے اس کا مغموم اور پریشان حال باپ اٹھا کر گھر لاتا ہے، پولیس اس دوران کچی ایف آئی آر سے پکی ایف آئی آر کی الجھن دور کرنے میں مصروف رہتی ہے۔یوں لگتا ہے جیسے پاکستان کی تشکیل کا بنیادی مقصدمجرموں کے لئے محفوظ پناہ گاہ وجود میں لانا تھا۔ورنہ کیسے ممکن ہے کہ جو جتنا بڑا مجرم ہے اسے معاشرے میں اتنی زیادہ عزت ملتی ہے۔ عام آدمی اپنے معاشی مسائل کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے، مہنگائی نے اس سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی ہے۔پینے کے پانی سے محروم ہے، لوڈشیڈنگ کے عذاب سے جان نہیں چھوٹی۔سیاست دان اپنی مشکلات سے نکلنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔اے پی سی بلانے اور تحریک چلانے کی فکر میں گم ہیں۔حکومت ساری گڑ بڑ کی ذمہ دار مافیاز کو قرار دیتی ہے۔ عام آدمی بڑھتی ہوئی لاقانونیت کا خاتمہ چاہتا ہے۔ابھی اس کی آس نہیں ٹوٹی، سوچتا ہے شائد کل کاسورج اس کے لئے امن و آشتی کی نوید لے کر ابھرے گا!حکومت اس خاموشی کوکسی ان دیکھے طوفان کا پیش خیمہ سمجھے، لاقانونیت کے خاتمے میں مزیددیر نہ کرے۔


