حاجی ربنواز کرد کی بطور سرداردستار بندی کردی گئی

دشت( نامہ نگار) کرد قبیلے کے نومنتخب سردار حاجی ربنواز نے کہا ہے کہ دستار محض صرف چند گز کپڑے یا رسم کا نام نہیں بلکہ ہمارے صدیوں پر محیط قبائلی معاشرے میں اس کی بہت بڑی اہمیت اور زمہ داری ہے۔اور اس میں ہمارے تمام قبائلی رسم و رواج پروئے ہوئے ہیں اور یہ ہمارے قبائلی رسم ورواجات صدیوں پر محیط ہے جو نسل در نسل آرہے ہیں اور یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا رہے گا اکیسویں صدی قوموں کی شعور کا صدی ہے اور بلوچ قبائل کے رسم و رواج دنیا کی نایاب رسم و رواج ہے اس کو برقرار رکھنے کے لیے کرد قبائل سمیت تمام قبائل کو کردار ادا کرنا ہوگا اور اس صدی میں قبائلی تنازعہ کا کوئی گنجائش نہیں اور نہ ہی بلوچ قوم کسی تنازعہ کا متحمل ہوسکتا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحصیل دشت کے علاقہ کلی سردار دینار خان کرد گونڈین میں رسم دستاربندی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر کرد قبائل کے ذیلی شاخوں کے ٹکری صاحبان اور سادات برادری جن میں سیدتیمورشاہ، سیداحمد شاہ مروی،سائین عبدالغفور مروی،وڈیرہ عبدالناصر کرد،چیف ٹکری جمعہ خان مسوداڑی کرد،ٹکری محبوب زردازی کرد،ٹکری جمشیر گورگے زئی کرد،ٹکری منظوراحمدکرموزئی کرد،ٹکری عبدالخالق شادی زئی کرد،ٹکری محمدحسن محمدزئی کرد،ٹکری محمداسحاق پھلانزئی کرد،ٹکری فضل سفرزئی کردنے بلوچی رسم رواج کے مطابق نومنتخب سردار حاجی ربنواز کرد کو دستار بندی کیے۔،جبکہ اعزازی دستارمیں سردار عطاءالرحمان بلانوشی سیندک،سردار سعیداحمد نیچاری نیچارہ،رئیس حاجی محمدعالم کرد جھالاوان،سردارذادہ میرزوہیب کرد،میر محمدیوسف سردارخیل،میرنزیر احمد کرد،میر نوید کرد،میر سیفل کرد،بی اے پی کے رہنماء حاجی نورالحق لہڑی،میر عبدالحمید بنگلزئی،ٹکری رسول بخش سمالانی،بلاچ خان پرکانی،شکیل احمد یوسفزئی،حاجی قاسم رئیسانی،میر عثمان رند،میرمظفر ابڑو،میر باقی شے،ٹکری اللہ بخش کردجھالاوان،میرشہزاد کرد،محمدانور ساتکزئی،سردارذادہ جہانزیب تہیمم سندھ،حاجی علی لہڑی،ٹکری ذادہ شمس الحق کرد کمال خان زئی اوردیگر شامل ہیں۔رسم دستار بندی کے پروقار تقریب سے عمائدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نامساعد حالات اور قبائل کے آپس میں نااتفاقی کی وجہ سے آج قبائلی رسم و رواجات کو مسخ کرنے کی مزموم سازشیں کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ وقت و حالات کاتقاضا بھی یہی ہے کہ کردقبائل سمیت نہ صرف تمام قبائل اپنے صفوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کرے بلکہ دیگر اقوام کے ساتھ بھی بہترین قبائلی خطوط استوار و تعلقات رکھیں اور آنے والے ہر چیلنجز کے مقابلے کے لیے تیار رہے کیونکہ اقوام قبائلی تنازعات سے زوال پذیری کاشکار ہوجاتے ہیں موجودہ صدی تنازعات کے خاتمے اور تعلیم و شعور کی صدی ہے اور قبائلی تنازعات کے خاتمہ ناگزیر ہو چکے ہیں اس موقع پر کرد قبیلہ کے نو منتخب سردار حاجی ربنواز کرد نے کہا کہ آج ہمارے قبائل اور دوسرے اقوام نے ہمارے کاندھوں پر جو ذمہ داریاں ڈال دی ہے ہم اپنے اسلاف کی نقش قدم پر چل کر اپنے آباو اجداد کی قبائلی رسم و رواج کی ہر صورت پاسداری ممکن بنائنگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں