یورپی یونین: لیبیا کو ہتھیار فراہم کرنے والی کمپنیوں پر پابندیاں

یورپی یونین نے اقوام متحدہ کی جانب سے لیبیا کو ہتھیاروں کی سپلائی پرعائد پابندی کی خلاف ورزی کرنے والی تین کمپنیوں اور اس میں ملوث بعض افراد پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یورپی یونین کے تمام وزراء خارجہ نے ان کمپنیوں پر پابندی عائد کرنے پر اتفاق کر لیا ہے جو لیبیا میں اقوام متحدہ کی جانب سے ہتھیاروں کی فراہمی پر عائد پابندی کے باوجود اسلحہ فراہم کرنے میں ملوث رہی ہیں۔ اس اقدام کے تحت اردن، قزاقستان اور ترکی کی ان تین کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو لیبیا کو اسلحہ فراہم کرنے میں ملوث رہی ہیں۔ اس کے تحت یونین نے ان دو افراد پر بھی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو لیبیا میں جنگی ساز و سامان کی تیاری کے لیے جیٹ طیاروں، جہازوں اور دیگر رسد کی فراہمی میں ملوث رہے ہیں۔

سن 2011 میں لیبیا کے حکمراں کرنل معمر قذافی کی معزولی کے بعد سے ملک میں خانہ جنگی کے سبب افرا تفری کا ماحول ہے۔ ملک کے مشرقی اور مغربی علاقوں میں الگ الگ حکومتیں قائم ہیں جو ایک دوسرے کی حریف ہیں۔ اقوام متحدہ نے 2011 میں ہی لیبیا میں ہتھیاروں کی سپلائی پر پابندی عائد کر دی تھی تاہم اس پر پوری طرح سے عمل نہیں کیا گیا۔

کرنل معمر قذافی کی معزولی کے بعد کئی برسوں سے لیبیا شدید سیاسی، معاشی اور انسانی بحران میں مبتلا ہے۔ ملک کی دونوں حریف حکومتیں ایک دوسرے کو زیر کر کے اپنا تسلط قائم کرناچاہتی ہیں اور اسی کے لیے لڑائی جاری ہے۔ دارالحکومت طرابلس میں دی گورنمنٹ آف نیشنل اکورڈ (جی این اے) کو اقوام متحدہ کی حمایت حاصل ہے۔ ترکی اور قطر بھی اسی حکومت کے حامی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں