پھلوں اور سبزیوں کی درآمد سے بلوچستان کے زمینداروں کا نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کبیر محمدشہی

کوئٹہ:نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر سینیٹر میر کبیر احمد محمد شہی نیکہاہے کہ ایران اورافغانستان سے پھلوں اور سبزیوں کی درآمد کی وجہ سے بلوچستان کے زمینداروں کو سیب ، انگور ، پیاز اور ٹماٹر کی مناسب قیمتیں نہیں ملتیں وزارت تجارت سبزیوں اورپھلوں کی درآمد سے قبل مقامی کاشتکاروں کے تحفظ اور مقامی پیداوار کے استعمال کے لئے اقدامات اٹھائے کیونکہ زمینداروں کیلیے موجودہ صورتحال میں زرعی اخراجات بھی پورا کرنا ممکن نہیں فائدہ تودور کی بات ہیاس لیے ہمسایہ ممالک سے سیزن کے وقت سبزیوں اور پھلوں کی درآمد پر پابندی عائد کی جائے ان خیالات کااظہارانہوںنے گزشتہ روز اسلام آباد میں سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے تجارت /تجارت سے متعلق ایس ایس سی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی سینیٹر مرزا محمد آفریدی نیکی میرکبیر نے کہاکہ بلوچستان کی 70فیصد آبادی کا واحد ذریعہ معاش زراعت سے وابستہ ہے زمینداروں کیلئے مہنگی بجلی ڈیزل کھاد ٹریکٹرکے اخراجات اور ہزار فٹ زیر زمین سے پانی کھیتوں تک لانا آسان کام نہیں ان مشکلات اورمصائب کے باوجود بھی کسان زمینداری کررہے ہیں مگرافسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ جب سیب انگوارآلوپیازٹماٹر ودیگر فصلات مارکیٹ میں آتی ہیں تو ایران اورافغانستان سے یہ پھل اورسبزیاں آنے سے زمینداروں کو مناسب نرخ نہیں ملتے اس وقت سو کلو پیاز کی بوری ایک ہزار جبکہ ٹماٹر کی کریٹ150روپے میں فروخت ہورہی ہے جو ان کے معاشی قتل کے مترادف ہے وزارت تجارت کو اس حوالے سے ٹھوس حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے جس پر وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبد الرزاق داوداور سیکرٹری تجارت نیکمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ معاملات وزارت خوراک کی مشاورت سے حل کرینگے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں