عسکری قیادت سے پارلیمانی رہنماؤں کی ملاقات وزیراعظم کی خواہش پر نہیں ہوئی، شہزاد اکبر
اسلام آباد :مشیر داخلہ شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ پولیس محکمے میں خامیاں ہیں لیکن اصلاحات پر تیزی سے کام کرنا ہو گا۔ پی پی سی سیمنٹ نیب کا این آر او ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن اندر سے ایک ہیں اور حزب اختلاف ہمیں بلیک میل کرتی ہے کہ کل کو آپ کا بھی احتساب ہو گا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر داخلہ کا کہنا تھا کل کو ہمارا احتساب ہوتا ہے تو ہوجائے کیونکہ احتساب ہوتا ہی ان کا ہے جن کے پاس اتھارٹی رہی ہو۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے رہنما قیادت کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔شہزاد اکبر نے کہا کہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کا نواز شریف کی تقریر سے متعلق قانونی آپشن کی بات ان کی ذاتی رائے تھی لیکن وزیر اعظم نے واضح کیا تھا کہ نواز شریف کی تقریر نشر ہونے پر پابندی نہیں لگے گی تاہم نواز شریف کے حوالے سے اشتہاری کہنا مناسب ہو گا۔انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کو ملکی مفاد کے لیے ہی سچ کا سہارا لینا چاہیے۔ پارلیمانی رہنماؤں کی عسکری قیادت سے ملاقات عمران خان کی خواہش پر نہیں ہوئی تھی اور اگر عسکری قیادت سے ملاقات عمران خان کی خواہش پر ہوتی تو وہ بھی اس میں شریک ہوتے۔اے پی سی پر تبصرہ کرتے ہوئے مشیر داخلہ نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں حزب اختلاف بے نقاب ہوئی جبکہ حزب اختلاف کے رہنما نے جہاں بھی احتجاج کرنا ہو تو کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے سی سی پی او لاہور کے بیان کی مذمت کی تھی کیونکہ خامیاں پولیس محکمے میں ہیں لیکن اصلاحات پر تیزی سے کام کرنا ہو گا۔شہزاد اکبر نے کہا کہ کسی بھی جرم میں متاثرہ شخص یا اہلخانہ کی شناخت کو منظر عام پر نہیں لانا چاہیے۔ ملزم عابد کے موبائل سموں کی جیو فنیسنگ کی گئی وہ دیگر وارداتوں میں بھی ملوث رہا ہے۔ ملزم عابد کی تصویر اتنی وائرل ہوچکی ہے کہ اب اس کا چھپنا مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے 2 مقامات پر کامیاب چھاپے مارے ہیں جبکہ ملزم عابد کا ابھی اپنے اہلخانہ سے بھی رابطہ نہیں ہے تاہم ملزم کی گرفتاری کی جلد خبر دیں گے۔ #/s#


