ترکی نے مدد کے لیے جنگجو نہیں بھیجے،آذربائیجان

باکو:آذربائیجان کے صدر الہام علییف نے اس بات کی تردید کی کہ انقرہ حکومت نے آذربائیجان میں ناگورنو-کاراباخ کے علاقے میں جاری لڑائی میں مدد کے لیے شام سے جنگجو بھیجے ہیں۔ قبل ازیں روس میں متعین آرمینیا کے سفیر نے ترکی پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے شمالی شام سے کوئی چار ہزار جنگجو کاراباخ کی لڑائی میں حصہ لینے کے لیے بھیجے ہیں۔ آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام سے عسکریت پسند بھیجنے کی افواہ آرمینیا کی طرف سے اشتعال انگیزی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان تنازع کا محور ناگورنو قرہباخ نامی علاقہ ہے۔ اس علاقے کو آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے لیکن اس کا انتظام آرمینیائی نسل کے لوگوں کے پاس ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس علاقے کو حاصل کرنے کے لیے 80 اور 90 کی دہائی میں خونریز جنگیں ہو چکی ہیں۔دونوں ممالک جنگ بندی پر تو اتفاق کر چکے ہیں لیکن کسی امن معاہدے تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔آرمینیا میں آبادی کی اکثریت مسیحی ہے جبکہ تیل کی دولت سے مالا مال ملک آذربائیجان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں