شہباز شریف کی گرفتاری

مسلم لیگ نون کے صدراور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرشہباز شریف کی عبوری درخواست ضمانت لاہور ہائی کورٹ سے مستردہونے پرنیب نے کمرہ عدالت سے گرفتار کر لیا۔درخواست ضمانت کی سماعت 3ماہ 26 دن جاری رہی۔گرفتاری کے خلاف نون لیگ کے کارکنوں نے نعرے بازی کی مگر اس سے آگے نہیں گئے۔ سینئر نائب صدر مریم نواز نے پریس کانفرنس کے ذریعے اپنے ردعمل کا اظہار کیا،انہوں نے گرفتاری کو مفاہمت کے بیانیے کی ناکامی قرار دیا۔واضح رہے کہ شہباز شریف کے بارے میں عمومی تأثر یہی ہے کہ وہ ایسٹبلشمنٹ سے بگاڑ کی حکمت عملی پسند نہیں کرتے، مل کر کام کرنا چاہتے ہیں جبکہ نواز شریف ”ووٹ کو عزت دو“کی پالیسی پرچل رہے ہیں۔مریم نواز اپنے والد کی حکمت عملی کے ساتھ کھڑی ہیں اور موجودہ حالات میں اسی پالیسی کوآگے بڑھائیں گی۔نون لیگ 1985سے اسٹبلشمنٹ کی لاڈلی جماعت سمجھی جاتی ہے۔ اس دوران تین بار وزارت عظمیٰ تک پہنچنے کا موقع ملا۔ تینوں بار وہ پانچ سالہ مدت پوری نہیں کرسکی۔میثاق جمہوریت پر دستخط کرنے کے باوجود نواز شریف نے پی پی پی کی مخالفت میں کالا کوٹ پہن کر عدالت میں جانے سمیت غیر معمولی فیصلے کئے جو تاریخ کا حصہ ہیں۔نیب کی تشکیل کو آج غلطی تسلیم کرتے ہیں لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے۔11جماعتی اجلاس میں پی پی پی کے ساتھ بیٹھنے کے باوجود عام آدمی کا خیال ہے کہ حکومت مخالف تحریک چلانا اور اسے کامیابی سے ہمکنار کرنا نون لیگ کے مزاج میں شامل نہیں۔اس لئے کہ ان کی 35 سالہ سیاست میں جوڑتوڑ کا عنصر نمایاں رہا ہے۔نواز شریف کا جیل سے نکل کر لندن جانا بھی اسی جوڑ توڑ کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔نون لیگی قیادت کو طویل سیاسی زندگی میں اسٹبلشمنٹ کی جانب سے پہلی مرتبہ یہ جواب دیا گیا ہے کہ قانونی معاملات کے لئے عدالت اور سیاسی الجھنیں پارلیمنٹ میں دور کی جائیں۔ یہ مختصر جواب دینے میں بقول مریم نواز محمد زبیر سے7گھنٹے مذاکرات کئے گئے۔لگتا ہے کہ اس مرتبہ نون لیگ کوعدالتوں سے انصاف لینا ہوگا۔یہ کام آسان نہیں، حکومتی دعووں کے مطابق نیب نے کیسز بڑی محنت سے تیار کئے ہیں۔شہباز شریف اپنے دفاع میں جو کچھ بار بار عدالت کے روبرو کہہ چکے ہیں وہ قانون کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔انہیں شواہد کی مدد سے ثابت کرنا ہے کہ ان کے جو اثاثے1990 میں صرف21 لاکھ تھے وہ 2018میں بڑھ کر 7 ارب روپے سے زائدمالیت کے کیسے ہوگئے؟بینکوں کے ذریعے بیرون ملک سے بھیجی گئی ٹی ٹیز آپ کے اکاؤنٹ میں کیوں منتقل ہوئیں؟ نیب کا کہنا ہے چار افسران وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں اور انہوں نے اے سے زیڈ تک تمام شواہد نیب کے حوالے کر دیئے ہیں۔شہباز شریف عدالت کو مطمئن نہیں کرسکے، ان سے یہ نہیں پوچھا جارہا کہ ان کی ملک کے لئے خدمات کی تھیں۔ان کے وکلاء بھی وہی غلطی کر رہے ہیں جو ذوالفقار علی بھٹو کے وکلاء ماضی میں کر چکے ہیں۔قتل کا مقدمہ تھا اسے اسی تناظر میں لڑا جانا چاہیئے تھا۔شریف فیملی شائد یہ ماننے کیلئے تیار نہیں کہ اب ایسٹبلشمنٹ کو ان کی ضرورت نہیں رہی۔ان کے مقابلے میں آصف علی زرداری کا رویہ حقیقت پسندانہ ہے، وہ کہہ رہے ہیں ابھی شہباز شریف گرفتار ہوئے ہیں، ان کے بعد سب کی جاری آنے والی ہے۔ اب باد مخالف اونچا اڑانے کے لئے نہیں چل رہی، اس کے مقاصد کچھ اور ہیں۔ انہیں چاہیئے تھا وہی راستہ اختیار کرتے جو پانامہ لیکس میں نام آنے کے بعد یورپی حکمرانوں نے اپنایاتھا۔اس معاملے کو جتنا طول دیں گے اپنی نیک نامی کو اتنا ہی نقصان پہنچائیں گے۔گھریلو خواتین کے نام جائیدادیں مشکوک رقم سے خریدی جائیں تو عدالتیں انہیں طلب کریں گی۔انہیں سوچنا چاہیئے تھا کہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ بینکوں کے ذریعے رقوم کی ترسیل اپنی جگہ خود ایک مضبوط دستاویز ہوتی ہے۔اس سے انکار آسان نہیں ہوتا۔پاکستان کے عوام اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔انہیں اتنا سادہ لوح اور بھولا نہ سمجھا جائے کہ وہ سچ اور جھوٹ میں تمیز کی صلاحیت نہیں رکھتے۔نون لیگ کا ایک دھڑا جس بیانیے کولے کر آگے بڑھ رہا ہے وہ سراسر سیاسی اور آئینی معاملہ ہے۔اسے ایک سنجیدہ، مدلل اور پر مغز بحث کے ذریعے صرف اور صرف پارلیمنٹ حل کر سکتی ہے۔یہ سڑکوں پر حل نہیں کیا جاسکتا۔”اداروں کو اپنی آئینی حدود کا علم ہونا چاہیئے“، یہ بات کانوں کو بھلی لگتی ہے مگر یہ بھی بتایا جائے کہ آئینی حدود متعین کون کرے گا؟نیب اپنے قیام سے چند ہفتے پہلے تک اپنے قواعد و ضوابط(رولز آف بزنس) سے بھی بے خبر تھا، عدالت کے حکم پر یہ خامی دور کی گئی۔آرمی چیف جیسے اہم عہدے کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ طے کرنے کا کوئی واضح طریقہ طے کرنے کے لئے پارلیمنٹ کو بیٹھنا پڑا۔فیٹف کی مطلوبہ شرائط پوری کرنے کے لئے قانون سازی پارلیمنٹ نے کی۔اراکین پارلیمنٹ پر جی ایچ کیو جانے پر پابندی اگر ضروری تھی تومحمد زیبر کی ملاقات سے بہت پہلے لگائی جانی چاہیئے تھی۔اتنی بدمزگی نہ پیدا ہوتی۔جنرل ضیاء الحق کا یہ توہین آمیز جملہ کافی ہونا چاہیئے تھا:
”میں نے سیاست دانوں کے منہ میں انگلی پھیر کر دیکھ لیا ہے کسی کے منہ میں دانت نہیں، جب اشارہ کروں دم ہلاتے میرے پیچھے چلے آئیں گے“
پارلیمنٹ اگر سمجھتی ہے کہ اسے کام نہیں کرنے دیا جاتا۔۔۔تو پارلیمنٹ جرأت سے اس معاملے پر بحث کرے۔پریس کانفرنس میں طنزیہ سوالات سے یہ معاملہ کبھی حل نہیں ہوگا۔پارلیمنٹ اپنے اعلیٰ ہونے کا ثبوت فراہم کرے۔اس تلخ حقیقت سے آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں کہ قائدایوان کی جانب سے لندن کے متنازعہ فلیٹس کی منی ٹریل اسپیکر کے حوالے کرنے کا اعلان سچا نہیں نکلا۔یہ رویہ پارلیمنٹ کے وقار کو مجروح کرتا ہے۔جس پارلیمنٹ کے پاس اپنے قائد کے جھوٹ پر کوئی کارروائی کرنے کا اختیار نہ ہو، اس کی توقیر اپنی جگہ خود ایک سوالیہ نشان ہوتی ہے۔پارلیمنٹ میں اتنا حوصلہ ہونا چاہیئے کہ کرپشن کو ایوان میں کرپشن کہہ سکے۔ کرپشن کا بدبودارٹوکرا سر پر اٹھانے کے بعد کوئی پارلیمنٹ اپنے وقار کی جنگ نہیں لڑ سکتی۔ بے لگام اور بے اصول پارلیمنٹ پہلے اپنے لئے قانون سازی کرے۔رات کو تین بجے تنظیم سازی کے نام پر رکن پارلیمنٹ خواتین سے بازو تڑوا کر منہ چھپائے پھرے گا۔۔ تو معاف کیجئے ایسی پارلیمنٹ کو کون عزت نہیں دے گا؟، کیوں عزت دے گا؟ صرف نعرے لگانے سے عزت نہیں ملا کرتی۔اصلاح اپنے گھر سے شروع کرنی ہوگی۔انگریز کہتے ہیں:”جس کی اپنی دہلیز پر برف جمع ہو وہ پڑوسی کو چھت پر پڑی برف کا طعنہ نہیں دے سکتا“۔

اپنا تبصرہ بھیجیں