پی ڈی ایم کا پہلا جلسہ منسوخ
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے 11اکتوبر کو کوئٹہ میں ہونے والا جلسہ منسوخ کردیا ہے۔اب یہ جلسہ 18اکتوبر کو منعقد ہوگا۔شائد یہ تبدیلی لاہور میں مسلم لیگ نون کے جلسے میں حاضری کم ہونے کی بناء پر کی گئی ہے۔11جماعتی اتحاد کو تیاری کے لئے مزیدایک ہفتہ مل جائے گا۔پہلے دی جانے والی تاریخ تمام پہلوؤں پرمناسب غور کئے بغیر مقرر کر دی گئی تھی۔عوام کو حکومت مخالف تحریک کے لئے آمادہ کئے بغیر کوئی جلسہ نہ ماضی میں کامیاب ہوا ہے، اور نہ ہی آئندہ ایسی توقع کی جانی چاہیئے۔ یہ جلسہ11جماعتی اتحاد کے پلیٹ فارم سے منعقد کیا جائے گا،کسی ایک جماعت کا جلسہ نہیں کہ اس میں حاضری کی کوئی اہمیت نہیں یا اتنی اہمیت نہیں جتنی کہ نوزائیدہ اتحاد کے جلسے میں محسوس کی جائے گی۔کوئی مانے یا نہ مانے ابھی ملکی سیاست اس مقام تک نہیں پہنچی جہاں یہ دعویٰ کیا جا سکے کہ پرجوش عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر جلسہ گاہ کی طرف کھنچا چلا آئے گا۔ایک سال پہلے انہی دنوں میں ”آزادی مارچ“ کااعلان جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے کیا گیا تھا مگر مسلم لیگ نون اور پی پی پی کی قیادت نے اس مارچ میں علامتی شرکت سے زیادہ کوئی کردار ادا نہیں کیاتھا۔اے این پی اسلام آباد کی جلسہ گاہ تک میزبان جماعت کی آمد سے پہلے ہی یہ طعنہ دے کر واپس چلی گئی تھی کہ میزبان کو مقررہ وقت پر موجود ہونا چاہیئے تھا مگر وہ میزبانی کے لئے موجود نہیں۔مسلم لیگ نون کے تاحیات رہبرنواز شریف نے اپنی جماعت کے ماضی والے رویہ کو ایک غلطی تسلیم کیاہے اور آئندہ بہتر کردار ادا کرنے کی مولانا کو یقین دہانی بھی کرائی۔طے شدہ پروگرام کے مطابق پی ڈی ایم کی اتحادی جماعتوں کو اکتوبر کے مہینے میں صوبائی سطح پر ریلیاں اور جلوس نکالنے تھے تاکہ عوام تک یہ پیغام پہنچ سکے کہ انہیں جنوری2021 میں حکومت گرانے کے لئے اسلام آباد تک لانگ مارچ کرنا ہے۔ظاہر ہے کہ حکومت گرانے کے لئے عوام کی بڑی تعداد درکار ہوتی ہے۔
ممکن ہے پی ڈی ایم کی جانب سے عوامی موڈ سے آگہی کے لئے کوئی سروے کرایا ہو،لیکن مسلم لیگ نون کااگلے روزلاہور والا شو توقع کے برعکس رہنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ جلسے کی کال عوامی موڈ دیکھے بغیردی گئی تھی۔نون لیگ کی دوسرے درجے کی قیادت کواگر یہ علم ہوتا کہ ان کے حامی گھروں سے بڑی تعداد میں نہیں نکلیں گے تو چند روز بعد جلسے کا اعلان کر سکتے تھے۔پی پی پی نے اتوار کو کراچی میں ایک ریلی نکالی ہے لیکن وہ پی ٹی آئی کی حکومت گرانے کے لئے نہیں تھی، ایم کیو ایم کی ایک ہفتہ قبل نکالی گئی ریلی کا جواب تھی۔پی پی پی کو سندھ میں اپنے سیاسی مسائل کا سامنا ہے۔پی ڈی ایم کی رکن جماعت کی حیثیت سے پی پی پی یقینا اپنی موجودگی کا احساس دلائے گی، لیکن اس کی اولین ترجیح سندھ کے معاملات کو سدھارنا ہوگی۔بظاہر یہی لگتا ہے کہ مسلم لیگ نون کو بنیادی طور پر پنجاب کا مورچہ سنبھالنا ہے کیونکہ یہ اس کا آبائی صوبہ ہے اور یہاں اس نے کئی دہائیوں تک حکمرانی کی ہے۔ دیگر جماعتیں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔مسلم لیگ نون کے لئے پہلی بار یہ صورت حال پیدا ہوئی ہے کہ اسے اس قسم کی تحریک اپنے بل بوتے پر چلانی ہے۔ورنہ عام تأثر یہی ہے کہ ماضی میں اسے نادیدہ قوتوں کی حمایت اور سرپرستی حاصل ہواکرتی تھی۔محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت کو گرانے کی غلطی نون لیگ کے قائدایک سے زائد بارتسلیم کر چکے ہیں۔یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ انہیں آصف زرداری کی حکومت کے خلاف کالا کوٹ پہن کر عدالت نہیں جاناچاہیئے تھا۔ نون لیگی رہنماخواجہ آصف کا حالیہ بیان ماضی کے رویوں کی عکاسی کرتا ہے۔پی ڈی ایم کی شریک جماعتیں اگر اس حد تک ایک دوسرے کے خلاف رنجشیں لے کر چلیں گی تو نتائج کے بارے میں اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں ہوگا۔مبصرین کی توجہ ابھی نواز شریف کے بیانات پر مرکوز ہے۔جب جلسے جلوس کا مرحلہ آئے گا، اس وقت تک کوئی پیشگوئی مناسب نہیں۔
پی ڈی ایم کی قیادت (خصوصاً سربراہی) جے یو آئی کو دیئے جانے سے عوام کو یہی پیغام ملا ہے کہ نون لیگ بوجوہ یہ عہدہ نہ خود لینا چاہتی ہے اور نہ ہی پی پی پی کو اس عہدے پر دیکھنا چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے فوری تجویز سامنے آئی کہ یہ عہدہ کسی ایک پارٹی کومستقل طور پر دینے کی بجائے اسے مقررہ مدت مکمل ہونے پرباری باری تمام پارٹیوں کے لئے اوپن رکھا جائے۔ اس سے بھی یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ ابھی قیادت کے لئے کوئی بھاری بھرکم شخصیت موجود نہیں جو سب کے لئے یکساں طور پر قابل احترام ہو۔جبکہ حکومت مخالف تحریک کی اولین شرط یہی ہوتی ہے؛ موجودہ وزیر اعظم کا متبادل کون ہوگا؟ جیسے ذوالفقار علی بھٹو کو ہٹانے کے لئے چلنے والی(پی این اے) تحریک میں ”راشہ راشہ اصغر راشہ“ ایک مقبول نعرہ تھا۔پی ڈی ایم کے پاس نہ ایسی کوئی شخصیت ہے اور نہ ہی تحریک کے دوران ایسا نعرہ لگایا جا سکتا ہے۔نون لیگ کے اندر سے اپنے تا حیات قائد کے بیانیے کے خلاف آوازیں بلند ہونا پی ڈی ایم کے لئے نیک شگون نہیں۔ ان حالات میں استعفے دینے کا مرحلہ شائد ہی آئے، ابھی تو نکالے گئے اراکین اسمبلی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ انہیں پارٹی سے سنے بغیر نکالا جا سکتا ہے، اور ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سے ملاقات پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی نہیں۔ایف اے ٹی ایف کے لئے مطلوبہ قانون سازی کے روز اجلاس سے غیر حاضر رہنے والے اراکین اس کے علاوہ ہیں۔جے یو آئی کے پاس فیصلہ کن تعداد نہیں۔دیگر پارٹیاں بھی دو چار سے زیادہ اراکین نہیں رکھتیں۔حکومت کو گھر بھیجنے کا واحد راستہ یہی بچتا ہے کہ عوام کا بہت بڑا ہجوم جمع کرکے اسلام آباد پر چڑھائی کی جائے۔یا اٹک پل پر رات بھر آنسو گیس کے شیل برداشت کئے جائیں۔پی ڈی ایم کے پاس،سوائے جے یو آئی، فی الحال یہ صلاحیت موجود نہیں۔علاوہ ازیں اتنی بڑی تحریک کی تیاری کے لئے تین مہینے کم ہیں۔


