اپوزیشن جماعتوں کو ناگہانی آفات کے وقت بلوچستان یاد نہیں آتا،زبیدہ جلال
تربت :وفاقی وزیر دفاعی پیداوار زبیدہ جلال سے اسلام آباد میں وزیراعلیٰ بلوچستان کے کوآرڈی نیٹر میر عبدالرؤف رند نے تفصیلی ملاقات کی، مکران کی معروف سیاسی وسماجی شخصیت میر ابوبکر دشتی اور بلوچستان عوامی پارٹی کیچ کے جنرل سیکرٹری میر زبیررند بھی ان کے ہمراہ تھے، ملاقات میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے منتخب جمہوری حکومت کے خلاف احتجاج کی سیاست کو کرپشن بچانے کی ناکام مہم کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہاگیا کہ اپوزیشن جماعتوں کو عوام کا کوئی غم نہیں یہ صرف اپنی سابقہ کرپشن بچانے کیلئے اکھٹے ہوئے ہیں جب بھی کرپشن کے خلاف تحقیقات شروع ہوتی ہیں تویہ جماعتیں باہم مل بیٹھ کرجمہوریت کا راگ الاپنے لگتے ہیں، انہوں نے اس امرپر حیرت کااظہارکیاکہ بلوچستان میں سیلاب ہو یا زلزلہ، کوئی قدرتی آفت ہویاطوفان، حالیہ کرونا ہو یاکوئی دوسری وبا ء اپوزیشن کہیں پرنظرنہیں آتی، مگر جب ان کے مفادات خطرے میں پڑجاتے ہیں توانہیں بلوچستان یاد آجاتاہے یہ سب پوائنٹ اسکورنگ اور کرپشن چھپانے کی ناکام کوششیں ہیں جسے بلوچستان کے عوام مستردکرتے ہیں کیونکہ اب بلوچستان بدل گیاہے بلوچستان کے عوام اچھے برے میں تمیزکرنا جانتے ہیں،بلوچستان باشعور ہوچکاہے عوام کی سوچ وفکر بدل چکاہے عوام کواب مزید بے وقوف نہیں بنایاجاسکتا، ان تمام اپوزیشن جماعتوں کو بلوچستان کے عوام ہمیشہ آزماتے آرہے ہیں موجودہ وفاقی وصوبائی حکومتوں نے بلوچستان کو شاہراہ ترقی پر ڈالنے کیلئے مربوط پروگرام شروع کیاہے اور بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے جامع پیکیج کی منظوری دی جارہی ہے اس لئے بلوچستان کے عوام بلوچستان کی ترقی کے خلاف رکاوٹیں کھڑی کرنے والوں کو ردکرکے موجودہ حکومت کی ترقی وخوشحالی کے پروگرام کے ساتھ کھڑے ہیں، اس دوران بلوچستان عوامی پارٹی مکران ڈویژن کے آرگنائزر میر عبدالرؤف رند نے بتایاکہ مکران ڈویژن میں بلوچستان عوامی پارٹی کی تنظیم کاری احسن طریقے سے جاری ہے، ضلع گوادر اورضلع پنجگورمیں کامیاب ورکرز کنونشن اور ضلعی کابینہ کے چناؤ کے بعدبہت جلد میں بھی انٹراپارٹی الیکشن جمہوری اندازمیں بھرپور طریقے سے کرائے جائیں گے اورپارٹی کونچلی سطح پر عوام میں منظم کیاجائے گا، میر عبدالرؤف رند نے بتایاکہ گزشتہ دنوں ان کی سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹنٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ سے خصوصی ملاقات ہوئی ہے جس میں مکران کے شورش زدہ علاقوں میں انفرااسٹرکچرکی بحالی،ری ویمپنگ اورنئے انفراسٹرکچر کی تعمیر سمیت دیگر اجتماعی ایشوز پر تبادلہ کیاگیا، ان شورش زدہ علاقوں پر خصوصی فوکس کرنے پر اتفاق کیاگیاہے جس سے بہت جلد شورش زدہ علاقے ترقی کے دھارے میں شامل ہوجائیں گے۔


