نربھیا جنسی زیادتی کیس: چارو ں مجرموں کو پھانسی دے دی گئی

بھارت میں نربھیا جنسی زیادتی کیس میں سات برس کی طویل قانونی جنگ اور آخری لمحات تک زبردست عدالتی ڈرامے کے بعد آج 20 مارچ کی صبح چاروں مجرموں کو دہلی کے تہاڑ جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔چاروں مجرموں کوپھانسی پر لٹکائے جانے پر نربھیا کے والدین نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بالآخروہ دن آگیا جس کا انہیں سات برس سے انتظار تھا اور یہ صرف ان کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے بہت بڑا دن ہے۔مجرموں کو پھانسی کے بعد نربھیا کی والدہ آشا دیوی نے اپنی بیٹی کی تصویر کو گلے سے لگاتے ہوئے کہا ”آج تمہیں انصاف مل گیا۔ آج طلوع ہونے والا سورج بیٹی نربھیا کے نام ہے، بھارت کی بیٹیوں کے نام ہے۔ بیٹی زندہ ہوتی تو میں ڈاکٹر کی ماں کہلاتی لیکن آج لوگ مجھے صرف نربھیا کی ماں کے نام سے جان رہے ہیں۔“انہوں نے مزید کہا ”سات برس کی طویل لڑائی کے بعد آج بیٹی کی روح کو سکون ملے گا۔ خواتین اب خود کو محفوظ محسوس کریں گی۔ ہم سپریم کورٹ سے درخواست کریں گے کہ وہ ایسی ہدایات جاری کرے تاکہ اس طرح کے معاملات میں قصوروار سزا سے بچنے کے ہتھکنڈے آزما نہ سکیں۔نربھیا کے والد نے بھی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ”آج انصاف کا دن ہے، خواتین کے لیے انصاف کا دن ہے۔ نربھیا کو آج خوشی ہوگی۔ اس گھڑی کا ہمیں سات سال سے انتظار تھا۔ آج ہمیں سکون ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی گائیڈ لائن بنائی جانی چاہئے کہ کسی متاثرہ خاندان کو اتنی طویل جدوجہد نہ کرناتہاڑ جیل کے ڈائریکٹر جنرل سندیپ گوئل نے چاروں مجرموں کو پھانسی پر لٹکا دیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا ”پون گپتا(25)، ونئے شرما(26)، اکشے کمار(31)اور مکیش کمار(32) کو نربھیا کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی اور قتل کے معاملے میں آج صبح ساڑھے پانچ بجے ایک ساتھ پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ جیل میں موجود ایک ڈاکٹر نے ان چاروں کو مردہ قرار دے دیا ہے اور اب ان کا پوسٹ مارٹم کرایا جائے گاجس کے بعد لاشوں کو ان کے رشتہ داروں کو سونپ دیا جائے گا۔“بھارت میں آئے دن لڑکیوں اور خواتین کو جنسی زیادتیوں کا نشانہ بنائے جانے پر ہر طبقہ احتجاج میں سڑکوں پر نکتا ہے۔خیال رہے کہ23 سالہ پیرا میڈیکل کی طالبہ نربھیا(یہ متاثر ہ کا اصلی نام نہیں ہے۔ بھارت میں جنسی زیادتی کی شکار خواتین کا نام ظاہر کرنے پرقانونی پابندی ہے)کو 16 دسمبر سن 2012 کی رات کو وفاقی دارالحکومت دہلی میں ایک چلتی بس میں اجتماعی جنسی زیادتی کا شکار بنایا گیا تھا۔ وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ فلم دیکھ کر واپس لوٹ رہی تھی۔ مجرموں نے اس کے ساتھ اجتماعی جنسی درندگی کے بعد چلتی بس سے نیچے پھینک دیا۔ایک راہگیر کی اطلاع پر پولیس اسے اٹھا کر صفدر جنگ ہسپتال لے گئی۔ بعد میں اسے علاج کے لیے سنگاپور لے جایا گیا لیکن واقعہ کے پندرہ دن بعد وہ چل بسی۔ اس واقعے نے پورے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا اور لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔پولیس نے اس معاملے میں چھ افراد کو گرفتار کیا۔ اس معاملے کی عدالتی کارروائی 17جنوری 2013ء کو شروع ہوئی۔ عدالت نے ایک ملزم کو نابالغ قراردیا جس کے بعد اسے جوینائل جسٹس بورڈ کے سپرد کردیا گیا اور تین سال کی زیادہ سے زیادہ مدت اصلاحی مرکز میں گزارنے کے بعد اسے رہائی مل گئی۔ ایک دوسرے ملزم بس ڈرائیور رام سنگھ نے 11مارچ 2013ء کو تہاڑ جیل میں خودکشی کرلی تھی۔نربھیا کے ساتھ جنسی زیادتی کے نو ماہ بعد دہلی کی ایک عدالت نے بقیہ چاروں دیگر ملزموں کو جنسی زیادتی، قتل اور نربھیا کے دوست کو قتل کرنے کی کوشش کا قصوروار قرار دیتے ہوئے پھانسی کی سزا سنائی۔عدالت کے اس فیصلے کے بعد قصورواروں کو بچانے کے لیے ایک طویل عدالتی کارروائی کا سلسلہ شروع ہوا۔ جس میں کئی ڈرامائی موڑ آئے، قصورواروں کو پھانسی دینے کی تاریخیں مقرر ہوئیں اور ان کے خلاف تین بار ڈیتھ وارنٹ بھی جاری کیے گئے۔ پھانسی دینے کے لیے جلاد کو بھی بلالیا گیا۔ اس دوران دہلی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے لے کر بھارتی صدر سے رحم کی اپیلیں اور پھر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا یہ سلسلہ آج علی الصبح سواتین بجے تک چلتا رہا۔نربھیا کیس کے ایک سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں پوسٹرز کے ذریعے احتجاج کیا گیا۔
دراصل دہلی ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں چاروں قصورو اروں کو ایک ساتھ پھانسی دینے کی بات کی تھی اور چارو ں میں سے کوئی ایک بھی قصوروار نیا قانونی نکتہ نکال کر عدالت سے رجوع کرتا رہا۔ دو روز قبل ایک مجرم کی بیوی نے ایک مقامی عدالت میں عرضی دائر کی کہ اس کے شوہر کو پھانسی دینے سے پہلے اسے طلاق دلائی جائے کیوں کہ وہ ایک مجرم کی بیوہ کے طور پر زندہ نہیں رہنا چاہتی۔ گزشتہ رات ایک مجرم پون گپتا نے بھارتی صدر کی طرف سے رحم کی درخواست کو مسترد کرنے کو چیلنج کردیا لیکن عدالت نے آج علی الصبح سوا تین بجے اسے بھی مسترد کردیا۔ جس کے بعدبالآخر مجرموں کو پھانسی کا پھندا پہننا پڑا۔نربھیا کے ساتھ جنسی زیادتی کے قصورواروں کو پھانسی دے دیے جانے کے بعد بھارت میں موت کی سزا کے جواز پر بحث ایک بار پھر تیز ہو جائے گی۔ سزائے موت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ بعض جرائم اتنے ہولناک ہوتے ہیں کہ ان کے لیے موت سے کم کوئی سزا ہونی ہی نہیں چاہئے۔ دوسری طرف انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ موت کی سزا کے لیے مہذب سماج میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ان کی دلیل ہے بھارت میں ہر دن جنسی زیادتی کے اوسطاً91 واقعات ہوتے ہیں ایسے میں کیا چار مجرموں کو پھانسی دینے سے جنسی زیادتی کے واقعات رک جائیں گے۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس جوزف کورین کی رائے ہے کہ جنسی زیادتی کے مجرموں کو تاحیات جیل میں ڈال دیا جانا چاہئے تاکہ سماج کو بتایا جاسکے کہ ایسے جرم کرنے والوں کا کیسا انجام ہوتا ہے کیوںکہ پھانسی دینے کے بعد لوگ جرم کو بھول جاتے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں