اسپیکربلوچستان اسمبلی میرعبدالقدوس بزنجو نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے جی ایم کو آج چیمبر میں طلب کرلیا

کوئٹہ:اسپیکربلوچستان اسمبلی میرعبدالقدوس بزنجو نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے جی ایم کو آج چیمبر میں طلب کرلیاجبکہ اپوزیشن ارکان کا اسمبلی اجلاس میں نوکریاں فروخت ہونے پر اظہارتشویش۔منگل کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈرپراظہار خیال کرتے ہوئے بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیرشاہوانی نے کہا کہ موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی کوئٹہ کی آدھی آبادی گیس سے محروم ہے کوئٹہ کے ارکان اسمبلی جی ایم سوئی سدرن گیس کمپنی سے ملے تھے انہوں نے کہا ہے کہ امسال گیس سپلائی انتہائی کم ہے جس کی وجہ سے شہر میں گیس کا مسئلہ درپیش ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی اہم مسئلہ ہے جی ایم سوئی سدرن گیس کمپنی کو طلب کرکے ان سے وضاحت طلب کی جائے جس پر اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو نے جی ایم سوئی سدرن گیس کمپنی کو آج سہ پہر تین بجے چیمبر میں طلب کرلیا۔اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈرپراظہارخیال کرتے ہوئے چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اختر حسین لانگو نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں آسامیاں فروخت کی گئیں سی ایم آئی ٹی نے اس تمام معاملے کی تحقیقات بھی کیں جبکہ وزیراعلیٰ نے ایوان میں کھڑے ہوکر کہا کہ وہ رپورٹ کی روشنی میں کارروائی کریں گے لیکن آج تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی اسی طرح محکمہ پی ایچ ای میں زیارت کے لوگ کوئٹہ میں بھرتی کئے گئے آج بھی حکومتی اتحادی رکن نوابزادہ گہرام بگٹی اپنے ہزاروں لوگوں کے ساتھ ڈپٹی کمشنرڈیرہ بگٹی کے دفتر کے باہر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں کہ وہاں لیویز کی پوسٹیں 10سے 15لاکھ روپے میں فروخت کی گئیں حکومت اور اپوزیشن ارکان دونوں ہی نوکریاں فروخت ہونے پر سراپا احتجاج ہیں حکومت کی صفوں سے بھی کرپشن،اقربا پروری،اسامیاں فروخت ہونے کی آوازیں اٹھ رہی ہیں اگر گہرام بگٹی جس دن وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پیسوں کی بوری لیکر گئے تھے ان سے پیسے لے لئے جاتے توآج شاید کئی غریبوں کو نوکریاں مل جاتیں کیونکہ غریب تونوکری خرید نہیں سکتا اسپیکر اس حوالے سے نوٹس لیکر رولنگ دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں