قومی اسمبلی اجلاس، سی پیک اتھارٹی بل پر محسن داوڑ اور خواجہ آصف کو بولنے نہیں دیاگیا

اسلام آباد؛قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی سربراہی میں شروع ہوا تو پارلیمانی وزیر بابر عوان نے تحریک پیش کی کہ وقفہ سوالات کو موخر کر کے دوسرا بزنس چلایا جائے اس پر اپوزیشن نے احتجاج شروع کر دیا تو اسی دوران پیپلز پارٹی کی رہنما شگفتہ جمانی نے کورم کی نشاندھی کر دی جب گنتی کی گئی تو کورم پورا تھا ڈپٹی سپیکر نے بابر اعوان کی تحریک پر ایوان سے رائے لی اور تحریک کو منظور کر لی گئی اور اجلاس کی کاروائی شروع کردی گئی اور اپوزیشن بھی ایوان میں واپس آگئی اور راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ بابر اعوان کی تحریک کو دوبارہ پیش کیا جائے ڈپٹی اسپیکر نے دوبارہ رائے لی اور رائے لی گئی پھر دوبارہ سے اجلاس کی کاروائی شروع کر دی گئی پارلیمانی آمور کے وزیر بابر اعوان نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کہا کہ آرڈیننس میں توسیع کا اختیار پارلیمنٹ کو حاصل ہے پہلے یہ اختیار صدر مملکت کے پاس تھا اس پر ارکان کا اعتراض نہیں ہونا چاہیے انہوں نے قومی اسمبلی اجلاس میں تعمیر نو کمپنیات ترمیمی آرڈیننس میں مزید 120 دن کی توسیع کی قرارداد پیش کی جس کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیاآرڈیننسسز میں توسیع کی قراردادوں کی منظوری پر جے یو آئی کی شاہدہ اختر علی نے احتجاج کیا،سی پیک اتھارٹی بل پر ڈپٹی اسپیکر نے محسن داوڑ اور خواجہ آصف کو بولنے کی اجازت نہیں دی بابر اعوان نے کہا کہ یہ آئین میں لکھا ہوا ہے کہ پارلیمنٹ آرڈیننس میں توسیع کرسکتی ہے،اگر آج آرڈیننس میں اضافہ نہ ہوا تو ان کی مدت ختم ہوجائے گی سرکاری نجی شراکتی اتھارٹی ترمیمی آرڈیننس میں 120 دن کی توسیع کی قرارداد بھی کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا قراردادیں مشیر پارلیمانی امور بابر اعون نے پیش کیں۔اجلاس میں امیگریشن ترمیی بل 2020 منظور کر لیا گیابل کی شق وار منظوری لی گئی، امیگریشن ترمیمی بل 2020 کثرت رائے سے منظور کر لیا گیابل مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے پیش کیا،نوید قمر نے کہا ہے کہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ حکومت کا راوئیہ درست نہیں ہے حکومت کا سارا انحصار آرڈیننس پر ہے یہ کمیٹی سے بھی پاس نہیں ہوئے ہیں اس ایوان کو مفلوج کیا جارہا ہے اس ایوان کو صرف شور شرابہ کیلئے استعمال کیا جارہاہے ہم ان آرڈیننس کے خلاف ہیں اور اس کی مخالفت کرتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں