وزیر داخلہ کی معذرت

وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے اپنے متنازعہ بیان پر وزیر دفاع پرویز خٹک کی قیادت میں پی ٹی آئی کے جرگہ کی صورت میں باچا خان مرکز پشاور جاکر باقاعدہ معذرت کر لی۔ان کے ہمراہ صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا اورایم این اے ارباب شیر علی شامل تھے۔وزیر داخلہ نے کہاہم جرگہ لے کر آئے تھے کہ اے این پی سمیت جتنے بھی شہداء ہیں،اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو معذرت کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ اے این پی کا بڑا پن ہے کہ خوش دلی سے جرگہ قبول کیا اور یہی پختون روایات ہیں۔اس موقع پر اے این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین، صوبائی صدرایمل ولی خان، صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک، صوبائی ترجمان ثمر ہارون بلور،بزرگ رہنما حاجی غلام احمد بلور،اورمرکزی سیکرٹری مالیات حاجی ہدایت اللہ سمیت دیگر اراکین موجود تھے۔اے این پی قائدین نے جرگہ قبول کرتے ہوئے 11نومبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا فیصلہ واپس لے لیا۔اس دانشمندانہ اقدام کے نتیجے میں نہ صرف حکومت ایک ممکنہ تصادم سے بچ گئی بلکہ اپنے دامن پر سے رنجشوں کا ایک بڑا داغ بھی دھونے میں کامیاب ہوگئی۔سیاست رنجشوں کو کم کرنے اور محبتیں بڑھانے کا راستہ ہے۔باچا خان نے عدم تشدد کا نظریہ اپنایااور عوام کو تعلیم اور تحمل کی راہ پر ڈالا۔اگر خود غرض اور موقع پرست عناصرقیام پاکستان کے بعد ایک منصوبہ بندی کے تحت قائداعظم محمد علی جناح اور خان عبدالغفار خان (معروف باچاخان) کے درمیان غلط فہمیاں پیداکرکے سیاسی دوریاں پیدا نہ کرتے توآج پاکستان کی عالمی شناخت مختلف ہوتی۔ اس کا اظہار باچاخان نے قائد اعظم کے مزار پر فاتحہ خوانی کرتے وقت کیاتھا۔اچھا ہواپی ٹی آئی کی قیادت نے سازشی پلاننگ مستردکرکے غلط فہمی بروقت دور کردی۔اسے بڑھنے اور دشمنی میں تبدیل ہونے کا موقع نہیں دیا۔
سیاست حصول اقتدارکے لئے عوامی حمایت حاصل کرنے کا طریقہئ کار ہے۔لیکن اقتدار مل جانے کے بعد اسے اپنی موروثی جاگیر سمجھناایک احمقانہ تصور ہے۔عالمی سطح پر اس کی تازہ ترین مثال رخصت ہونے والے امریکی ڈونلڈ ٹرمپ ہیں جو اپنی انتخابی شکست اپنی بیوی اور بیٹی کے سمجھانے کے باوجود تسلیم کرنے کو تیار نہیں، وائٹ ہاؤس خالی نہ کرنے کی ضد پرقائم ہیں۔حالانکہ جانتے ہیں کہ وائٹ ہاؤس ان کی موروثی جائیداد نہیں۔ جبکہ جیتنے والے جو بائیڈن مطمئن ہیں کہ اس کی روک تھام کے ادارے موجود ہیں۔اقتدار کی بدولت بعض اوقات اس خوش فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں کہ اب یہ سیٹ مرتے دم تک ان کے پاس رہے گی، کوئی نہیں چھین سکتا۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ یہ دعویٰ پاکستان کے ایک ذہین سیاست دان نے یہ کہہ کر کیا تھا: ”میں کمزور ہوں مگر میری کرسی بہت مضبوط ہے“۔ لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ یہ دعویٰ درست نہیں۔ان کے بعدیہی خوش فہمی تین بار وزیر اعظم بننے والے وزیر اعظم کو ہوگئی کہ اس عہدے کے نہ صرف وہ تا حیات حقدار ہیں بلکہ اپنے بعد اس کرسی پر اپنی بیٹی کو بٹھانے کی شدید خواہش بھی رکھتے ہیں۔ ان کی خوش فہمی حقیقت بنتی ہے یا تاریخ اپنا فیصلہ سناتی ہے۔آثار و قرائن کو دیکھتے ہوئے عام آدمی یہی سمجھ رہا ہے کہ فیصلے کا وقت تیزی سے قریب آرہا ہے۔پی ڈی ایم کی جانب سے نئے میثاق کی تیاری اور مولانا فضل الرحمٰن کی میڈیا سے درخواست کہ ”ادارے یا کسی شخصیت کے نام کا سوال نہ پوچھا جائے،ہمارامسئلہ نام نہیں، پورے سسٹم کی اصلاح ہے“۔ایک ہفتے میں میثاق اپنی تمام تر خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ عوام تک پہنچ جائے گا۔اس پڑھنے کے بعد عام آدمی ملکی سیاست کے مستقبل بارے کافی حد تک باخبر ہوسکتا ہے۔اسے معلوم ہو جائے گا کہ سیاست چند خاندانوں لونڈی نہیں رہی۔اور اگر عام آدمی نے محسوس کیا اس میثاق میں اس کے مفادات کو نظر اندازکیا گیا ہے تو پی ڈی آئی کے لئے عوامی حمایت میں خاطر خوا ہ کمی آنا یقینی ہے۔میثاق کے ہر صفحے پر دستخط کرنے کے بعد 11پارٹیاں مکر نہیں سکتیں۔
زیادہ امکانات ہیں کہ پی ڈی ایم کا میثاق تاحیات وزیر اعظم ہاؤس میں رہنے کی خواہش بلڈوز کر دے گا۔ جمہوریت میں مرکزی کردار جمہور(عوام) کا ہوتا ہے،پارٹی سربراہ عوامی خواہشات کے تابع ہوتا ہے، انہیں اپنا مزارع یا ملازم نہیں سمجھتا۔جمہوری حکمرانی اور مغلیہ بادشاہت میں کوئی قدر مشترک نہیں۔بلوچستان سے علیحدگی کا اعلان کرنے والی دواہم شخصیات نے اپنی ناراضگی کی جو وجوہات بیان کی ہیں،وہ صرف ایک جلسے میں کئے جانے والی شکایت تک محدود نہیں،غیر سیاسی رویہ کی طویل داستان ہے۔اس سے ملتے رجحانات دیگر پارٹیوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔جب مولانا فضل الرحمٰن پورے سسٹم کی اصلاح کے مشن کی اصلاح کی بات کرتے ہیں تو اس میں پارٹیوں کی ساخت اور نفسیات کی اصلاح بھی شامل سمجھی جانی چاہیئے۔یہ کیسے سوچا جا سکتا ہے کہ پارٹی کا اپنا مزاج توظاہراً اور باطناً شخصی ہو لیکن وہ پورے ملک میں عوامی جمہوریت نافذ کرنے کا مشن پورا کر سکے۔ مریم نواز پارٹی بیانئے سے پیدا ہونے والے بھونچال کو دور کئے بغیرگلگت بلتستان میں کارنر میٹنگز سے خطاب کے دوران اپنے والد نواز شریف کو چوتھی بار وزیر اعظم منتخب کرانے کا دعویٰ کر رہی ہیں۔انہیں پی ڈی ایم کے میثاق کا مسودہ پڑھنے تک اس متنازعہ ایشو پر بات کرنے سے گریز کرنا چاہیئے تھا۔سیاست دانوں کو ہر لمحے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ذرا پلک جھپکی اور کھیل کا نقشہ تبدیل ہو سکتا ہے۔پی ٹی آئی کے صوبائی عہدیدار مسلم لیگ قاف کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی بیماری کے بارے میں پل پل کی خبر لینے کے لئے ان کے اہل خانہ سے رابطہ کرنے لگے ہیں،ڈھائی سال اتنے فکر مند نہیں ہوئے۔ جرگہ بھی اسی تناظر میں دیکھے جانے کا متقاضی ہے۔حالات جس تیزی سے کروٹ لے رہے ہیں اس سے یہی دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان کی سیاست ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔کھیل کے آخری لمحات میں کی جانے والی غلطی ٹیم کوہمیشہ مہنگی پڑتی ہے۔غلطی کی گنجائش نہیں رہی۔یاد رہے کہ گلگت بلتستان کے نتائج مستقبل کا سیاسی نقشہ اور عوامی نفسیات مرتب کرنے میں اہم رول ادا کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں