خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے قانون سازی کی جارہی ہے، وویمن کاکس فورم

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کی خواتین اراکین پر مشتمل وویمن کاکس فورم نے بلوچستان کی خواتین کو معاشی، اقتصادی اور سیاسی فیصلہ سازی کے عمل میں بااختیار بنانے اور معاشرے کے تمام شعبوں میں متحرک کردار کی ادائیگی کے لئے سازگار ماحول فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وویمن کاکس فورم کے توسط پانچ مختلف کمیٹیوں کے قیام کا فیصلہ کیا ہے وویمن کاکس فورم کا اجلاس چیئرپرسن ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی کی زیر صدارت میں ہوا جس میں وائس چیئرپرسن زینت شاہوانی ایڈوکیٹ، جنرل سیکرٹری بشری رند، انفارمیشن سیکرٹری شاہینہ کاکڑ، ٹریژرر بانو خلیل اراکین اسمبلی ماہ جبین شیراں، زبیدہ خیرخواہ، لیلی ترین بھی موجود تھیں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرپرسن ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کو ہر شعبہ زندگی میں بااختیار بنانے کے لیے بلوچستان اسمبلی کے پلیٹ فارم سے موثر قانون سازی کی جارہی ہے اور اس ضمن میں الحمداللہ بلوچستان کی خواتین اراکین اسمبلی متحرک کردار ادا کررہی ہیں اجلاس میں ہیلتھ، لا، ایجوکیشن، وویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، اور سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ سے متعلق پانچ مختلف کمیٹیوں کے قیام کا فیصلہ کیا گیا جس کا باضابطہ نوٹیفیکشن بلوچستان اسمبلی سیکرٹریٹ جاری کرے گا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وویمن کاکس فورم کی جنرل سیکرٹری بشری رند نے کہا کہ بلوچستان کاکس فورم کا متحرک کردار بلوچستان کی خواتین کے روشن مستقبل کی دلیل ہے بلوچستان کاکس فورم میں موجود خواتین اراکین اسمبلی کا یہ اعزاز ہے کہ موجودہ دور حکومت میں خواتین سے متعلق ریکارڈ قانون سازی ہوئی ہے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کاکس فورم کی وائس چئیرپرسن زینت شاہوانی ایڈوکیٹ نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین کو معاشی و اقتصادی طور پر بااختیار بنانے کے لیے بے لوث جدوجہد جاری رہے گی اور خواتین کے مسائل کی نشاندہی کرکیحل کے لئے قابل عمل تجاویز اور حکمت عملی مرتب کی جائے گی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کاکس فورم کی سیکرٹری اطلاعات شاہینہ کاکڑ نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کی اس جدوجہد کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے بلوچستان اسمبلی میں کی جانے والی قانون سازی اور کاکس فورم کے اقدامات کو بہتر طور پراجاگر کیا جائے گا اجلاس سے خلیل بانو، ماہ جبین شیراں، زبیدہ خیر خواہ، لیلی ترین نے بھی خطاب کیا اور وویمن کاکس فورم کے پلیٹ فارم سے تحفظ نسواں کی جدوجہد جاری رکھنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں