آج نیب ختم کر دیں اپوزیشن تحریکیں ختم کر کے اسمبلیوں میں بیٹھ جائیگی،عمران خان

اسلام آباد:وزیر اعظم عمران خان نے ایک بارپھر واضح کیا ہے کہ این آر او اور کرپشن کے سوا اپوزیشن پر بات کر نے کیلئے تیار ہوں،آج نیب کو ختم کر دیں اپوزیشن اسمبلیوں میں آکر بیٹھ جائیگی تحریک ختم ہو جائیں گی، کچھ ملک نہیں چاہتے پاکستان مضبوط ہو،ہوسکتا ہے یہ ملک اپوزیشن کے پیچھے ہوں، فوج نے ہمیشہ حکومت کی مدد کی ہے اور سول ملٹری تعلقات بہت اچھے ہیں،ہم ایک پیج پر ہیں، کرپٹ مافیا نظام نہیں چلنے دے رہاہے،اپوزیشن استعفیٰ دے گی تو ضمنی انتخابات کر ادینگے، بتا دینا چاہتا ہوں جیت میری ہی ہوگی،ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں ہم لاک ڈاؤن کرکے پورا ملک بند نہیں کرسکتے،تمام تعلیمی ادارے بند کئے ہیں دینی مدارس کیلئے بھی یہی پالیسی ہے،اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے مجھ پر کوئی دباؤنہیں۔ منگل کو سینئر کالم نگاروں اور ایڈیٹرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ اگر اپوزیشن اراکین استعفیٰ دیں گے تو ہم ضمنی انتخابات کرادینگے۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کی جانب سے جس جس حلقے کے رکن استعفیٰ دیگا وہاں دوبارہ الیکشن کرائینگے۔ وزیر اعظم سے سوال کیاکہ اپوزیشن پر اعتماد کیوں ہے؟ جس کے جواب میں وزیر اعظم نے کہاکہ میں اپوزیشن سے زیادہ پر اعتماد ہوں اور جیت میری ہی ہوگی،ہوسکتا ہے کچھ ملک اپوزیشن کے پیچھے ہوں کیونکہ کچھ ملک ایسے ہیں جو کبھی نہیں چاہتے کہ پاکستان تگڑا ہو۔ انہوں نے کہاکہ بار ی باری تمام مسلمان ملکوں کو کمزور کر نے والوں کی نظر اب پاکستان پر بھی ہے،سب کچھ پلاننگ سے ہورہاہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ فوج نے ہمیشہ حکومت کی مدد کی ہے اور سول ملٹری تعلقات بہت اچھے ہیں،ہم ایک پیج پر ہیں۔انہوں نے کہاکہ بلدیاتی انتخابات میں کرونا کی وجہ سے تاخیر ہورہی ہے،سینٹ الیکشن کے بعد بلدیاتی انتخابات کروا سکتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہاکہ اپوزیشن کی مکمل کوشش ہے کہ ملک میں انتشار پھیلے اور ہم ٹریپ میں نہیں آئینگے،ہم نے اپوزیشن کو جلسے کی اجازت نہیں دی لیکن اپوزیشن کو روکیں بھی نہیں۔ انہوں نے کہاکہ کرونا وائرس سے گزشتہ روز سب سے زیادہ 89اموات ہوئی ہیں اور کرونا مسلسل بڑھ رہا ہے، عام آدمی بھی کرونا کو سیریس نہیں لے رہا ہے اور اپوزیشن بھی سیریس نہیں لے رہی ہے۔ وزیر اعظم نے ایک بار پھر واضح کیا کہ این آراو اور کرپشن کیسز کے علاوہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ ہر معاملے پر بات چیت کیلئے تیار ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ رول آف لاء کی جنگ ہے،آج نیب کو ختم کر دیں اپوزیشن اسمبلیوں میں آکر بیٹھ جائیگی،یہ تمام تحریکیں ختم کردیں گے تاہم میں ایسا بالکل نہیں کروں گا، میں جدوجہد کررہا ہوں اور میں ہی جیتوں گا۔وزیر اعظم نے کہاکہ ہماری سب سے بڑی غلطی تھی کہ ہم آئی ایم ایف کے پاس تاخیر سے گئے، ہم سے ایک غلطی یہ ہوئی ہے کہ ہم فوراً ادارہ جاتی ریفارمز نہیں کئے، ہماری سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ لانگ ٹرم پلاننگ شروع ہوچکی ہے، شہروں کی منصوبہ بندی ہوری ہے،دو نئے ڈیمز بن رہے ہیں، ہیلتھ کارڈ پروگرام لائے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاور سیکٹر،پی آئی اے، اسٹیل ملز سمیت پبلک سیکٹر میں ہمیں فوری اصلاحات کرنی چاہئے تھیں ہم نے دیر کردی، فوری اصلاحات نہ کرنے سے ملک کو نقصان ہواعمران خان نے بتایا کہ ہم نے طویل المیعاد منصوبہ بندی شروع کردی ہے،پانی کے ذخیر ے نہیں تھے،پچاس سال بعد مہمند اوربھاشاڈیم بنارہے ہیں،ماحول کو صاف کررہے ہیں یورو فائیو لے کر آرہے ہیں،کلین انرجی، ماڈل سٹی بنارہے ہیں۔۔ایک سوال پر وزیر اعظم نے کہاکہ ہم جب بھی اپوزیشن سے مذاکرات کی بات کرتے ہیں تو بات کرپشن کیسز پر آکر رک جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم سیدھے راستے پر چل پڑے ہیں اور معاشی طورپر حالات میں بہتری سے بہتری آتی جائیگی۔ انہوں نے کہاکہ کرپٹ مافیا نظام نہیں چلنے دے رہاہے لیکن میں ان کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ نظام چلے گا، یہاں وہ جمہوریت ہوگی جس میں میرٹ ہو۔انہوں نے کہاکہ مہاتیر محمد کے پاس ملائیشیا میں بھی نجیب آیا تھا جو ملائیشیا کا نواز شریف تھا، پھر مہاتیر محمد دوبارہ آیا اور اس کو بھی ڈھائی سال کے بعد فارغ کر دیا گیا اور چلنے نہیں دیا گیا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہمیں پتہ ہے بہت مشکل وقت ہے اور ہم نے جدوجہد کر نی ہے مجھے یہ بھی پتہ ہے جیت میری ہوگی۔مشیران کے حوالے سے عدالتی فیصلے پر وزیر اعظم نے کہاکہ ہم عدالت کے فیصلے کا احترام کرینگے اور راستہ نکالیں گے،کیا راستہ نکلتا ہے ہم میٹنگ کر نے والے ہیں اور انشاء اللہ رستہ نکلے گا ہمارے پاس اور بھی آپشن موجود ہیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ حکومت کوئی کمزور نہیں، حکومتیں کمزور نہیں ہوتیں،کیا کریں ایک تو جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے اور اظہار ائے خطرے میں پڑجاتا ہے، اپوزیشن ہمیں ٹریپ میں لانا چاہتا ہے، جس طرح ہم ملتان میں اسٹیڈیم کو تالہ لگایا تو ایسے تالے توڑ ے جارہے تھے جیسے نیلسن منڈیلا خطاب کیلئے آرہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ یہ جتنا جلسے کر نا چاہتے ہیں کر لیں جلسوں کا میں بادشاہ ہوں، لانگ مارچ کا شوق بھی پورا کرلے۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ اپوزیشن اگر استعفیٰ دینا چاہتے تو دیں یہ ان کا حق ہے ہمیں استعفوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔معاشی ٹیم کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہاکہ اس وقت انشاء اللہ معاشی صورتحال بہتری کی طرف جارہی ہے اور بہتری کی چیزیں جلد نظر آئیں گی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ سو فیصد مطمئن تو کسی سے کوئی نہیں ہوسکتا ہم سزا اور جزا کانظام کر نے لگے ہیں انشاء اللہ آگے بہتری ہوگی۔انہوں نے کہا کہ میں این آر او نہیں دوں گا یہ ملک کیساتھ غداری ہوگی،جنرل مشرف نے نوازشریف اور زرداری کو این آراودے کر ملک کے ساتھ بڑی غداری کی تھی۔وزیر اعظم نے کہا کہ پارلیمانی ڈیموکریسی کیسے چلے گی جب قیادت ہی پر کرپشن کے الزامات ہیں۔کورونا سے متعلق صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اپوزیشن عوام کی جانوں سے کھیل رہی ہے۔ کورونا تیزی سے بڑھ رہاہے سب کو سوچنا چاہئے،امریکا میں تین ہزار اموات روزانہ ہورہی ہیں۔ انگلینڈ،اٹلی میں لاک ڈاؤن ہے،ہم اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی پرہی پہلے مرحلے میں کامیاب ہوئے ہیں،ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں ہم لاک ڈاؤن کرکے پورا ملک بند نہیں کرسکتے۔ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے مجھ پر کوئی دباؤنہیں ڈالاگیا،سارے یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ مجھ پر دباؤنہیں ڈالا جاسکتا، یہ جمہوریت ہے ایسا کوئی دباؤ نہیں ہوسکتا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہم نے تمام تعلیمی ادارے بند کئے ہیں دینی مدارس کیلئے بھی یہی پالیسی ہے، اگردینی مدارس کھلے ہیں تومیں اسے چیک کروں گا کہ ایسا کیسے ہورہاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں