ڈائیلاگ کا وقت گزر چکا، اب لانگ مارچ ہو گا‘ بلاول بھٹو زرداری

پاکستان میں حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا لاہور میں جلسہ جاری ہے۔ اس جلسے کا مقصد عمران خان کی حکومت پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔

پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان، مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، سردار اختر مینگل، محمود خان اچکزئی، میاں افتخار حسین اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی بڑی تعداد بھی سٹیج پر موجود ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا اس شہر میں ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔ انھوں نے کہا فوجی آمر ضیاالحق کی آمریت کے خلاف جدوجہد کا آغاز لاوہر سے کیا تھا۔

ان کے مطابق لاہور جہانگیر بدر کو جانتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ لاہور کے شہید عثمان غنی، شہید ادریس بیگ نے جمہوریت کے لیے زندگیاں قربان کر دیں۔

انھوں نے کہا کہ نااہل اور جاہل حکمرانوں کے پاس عقل ہے اور نہ تاریخ کا علم ہے۔ انھوں نے کہا ہم کبھی کسی آمر اور غاصب سے نہیں ڈرے ہیں اور ہم کشتیاں جلا کر اترے ہیں۔ جب عوام اس مضبوطی کے ساتھ کسی تحریک کا ساتھ دیتی ہے تو پھر ظلم کی زنجیریں کٹ جاتی ہیں۔

بلاول بھٹو کے مطابق آج پاکستان میں تاریخی مہنگائی، تاریخی غربت اور تاریخی بے روزگاری ہے۔ ان حکمرانوں کو درد محسوس نہیں ہوتا کیونکہ یہ آپ کے ووٹ کی طاقت سے اقتدار میں نہیں آئے بلکہ یہ کسی اور رستے سے آئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پنچاب کے ساتھ کیا مذاق کیا جا رہا ہے، جو پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اس کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔ اس کٹھ پتلی نے یہاں اپنا ایک کٹھ پتلی بٹھایا ہوا ہے۔

پاکستان کے محنت کش اور مزدور بے سہارا نہیں ہیں، ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔ ان کے مطابق ان حکمرانوں کو سننے کا حوصلہ نہیں ہے۔ حزب اختلاف شہباز شریف جیل میں ہیں، سابق حزب اختلاف خورشید شاہ جیل میں ہیں۔

بلاول بھٹو کے مطابق کسان اب یہاں کس طرح اپنا حق مانگیں انھیں شہید کر دیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی پسے ہوئی طبقے کی جماعت ہے اور رہے گی۔

بلاول بھٹو نے کہا ’ہم کٹھ پتلی کو للکار رہے ہیں، ہم اس کے سہولت کاروں کو للکا رہے ہیں۔ تا کہ ہم عوام کو ان کا حق اقتدار دلا سکیں۔‘اب کوئی اور رستہ نہیں، ڈائیلاگ شائیلاگ کا وقت گزر چکا اب لانگ مارچ ہو گا، اسلام آباد ہم آ رہے ہیں۔ بلاول بھٹوں نے کہا اب فون کرنا چھوڑ دو، اب ہم اسلام آباد پہنچ کر نالائق اور جعلی حکمران کا استعفی چھینیں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں