کریمہ بلوچ کے قتل کی آڑ میں ملکی اداروں پر الزام تراشی سمجھ سے بالا تر ہے، میر فرید رئیسانی
مستونگ(نامہ نگار)بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنماء میر فرید رئیسانی نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ کینڈا میں کریمہ بلوچ کا قتل افسوسناک اور قابل مزمت اقدام ہے۔لیکن کریمہ بلوچ کا قتل کی آڑمیں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں چند نام نہاد یونینز کی جانب سے احتجاج افواج پاکستان اور ملکی اداروں کے خلاف الزام تراشی سمجھ سے بالاتر ہے جسکی جتنی مزمت کی جائے کم ہے۔انھوں نے کہا کہ کریمہ بلوچ کی قتل پاکستان میں نہیں کینڈا میں ہوا ہے لیکن اسکے ردعمل میں بلوچستان میں واویلا و احتجاج اپنی سیاسی دکانداری چمکانے کی مترادف ہے۔میر فرید رئیسانی نے کہا ان لوگوں کو چائیے کہ وہ بلوچستان اور پاکستان کے بجائے کینڈا جا کر قاتلوں کی گرفتاری کے لیے کینڈین حکومت کے خلاف احتجاج کریں۔انھوں نے کہا کینڈا میں جیسے ملک میں کریمہ بلوچ کی اچانک قتل کے پیچھے کچھ اور بھی محرکات ہو سکتے ہیں۔کہ جس تحریک کی وہ گیت گاتے تھے۔یہ امر بھی خارج از امکان نہیں کہ وہ اس نام نہاد تحریک کے لوگوں کے ہاتھوں قتل تو نہیں۔


