بلوچستان کے سرحدی علاقوں سے غیر قانونی نقل و حمل کو روکا جائے،بی این پی

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے بارڈرز سے غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنے کیلئے عمل اقدامات کئے جائیں چمن و دیگر علاقوں سے انسانی سمگلنگ کا عمل جاری ہے صوبائی حکومت اور انتظامیہ تماشائی بنی ہوئی ہے صرف زبانی باتوں کو عوام کو دلاسے دے رہے ہیں بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت اور اس کے ارباب و اختیار کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انتظامیہ اور سرکاری مشینریفعال و متحرک بناتے ہوئے بارڈر پر نظر رکھے تاکہ موجودہ حساس حالات میں کوئی بھی کوئٹہ اور بلوچستان میں غیر طور پر داخل نہ ہو سکے کورونا وائرس بین الاقوامی وباء ہے اس سے انسانی جانوں کا خطرات لاحق ہیں صوبائی حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے صوبائی حکومت نے جتنے بھی اقدامات کئے وہ ناکافی ہیں صوبائی حکومت کی نااہلی ملک بھر میں واضح ہو چکی ہے حکومت اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کروانے میں ناکام ہو چکی ہے جس سے کوئٹہ و بلوچستان و دیگر علاقوں میں کورونا وائرس پھیلا بیان میں کہا گیا ہے کہ یقینا موجودہ حالات میں تمام سیاسی جماعتیں‘سول سوسائٹی ایک پیج پر ہوتی ہیں مگر بلوچستان میں حکمران جماعت اپوزیشن اور بلوچستان نیشنل پارٹی جو کوئٹہ کی سب سے بڑی پارلیمانی جماعت ہے لیکن یہاں ان لوگوں سے مشاورت کی جا رہی ہے جنہیں عوام نے بدترین شکست سے دوچار ہیں پوری دنیا کورونا وائرس سے پریشان ہیں مگر بلوچستان کے حکمران اب بھی سیاسی سکورننگ کر رہے ہیں جس سے بلوچستان کے غریب عوام امداد کی راہ تھک رہے ہیں سوشل میڈیا میں دورغ گوئی اور من گھڑت دعوے کرنا عوام کی خدمت نہیں عوام اتنے باشعور ہیں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے حکومتی کارکردگی کا راگ الاپ کر عوام کو مزید دھوکہ نہیں دیا جا سکتا فوری طور پر کوئٹہ اور بلوچستان کے متاثرہ اضلاع‘ مزدوروں کی مالی معاونت کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں کوئٹہ انتظامیہ کے ارباب و اختیار جام کمال کے نہیں بلکہ حکومت پاکستان کے ملازم ہیں وہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے کوئٹہ کے منتخب نمائندوں کی مشاورت سے فیصلے کریں چیف سیکرٹری بلوچستان اور مرکزی حکومت افسران کو پابند کریں کہ وہ کسی پارٹی کے پابند نہیں بلکہ وہ قانون‘ آئین کے مطابق اقدامات کرتے ہوئے عوامی نمائندوں کے استحقاق کو مجروح نہ کریں اس کے برعکس بی این پی بلوچستان اسمبلی‘ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بلوچستان کے بیورو کریسی کے خلاف استحقاق کمیٹیوں میں جانے سے بھی گریز نہیں کرے گی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

Leave a Reply