بھارتی کسان کی گردن پر پولیس مین کا بوٹ
بھارت میں کسانوں کا احتجاج اب اپنے انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔لالا قلعہ پر کسانوں نے جھنڈا لہرا کر اپنے غم و غصہ کا امنتہئی مظاہرہ کیا، جسے بھارت سرکار نے یقینا پسنف نہیں کیا، لیکن اس روز کوئی بڑا تصادم دیکھنے میں نہیں آیا۔تاہم تجزیہ کار سمجھ رہے تھے کہ کسان تحریک کے خلاف حکومت زیادہ دیر تک صبرو تحمل نہیں کرے گی۔اور یہی ہوا، 30جنوری کو پولیس کارروائی کے دوران پو؛لیس کا رویہ متشددانہ نظر آیا، دلی میں ایک پولیس والے نے کسان کی گردن پر اپنا بوٹ رکھا ہوا ہے جیسے ایک گورے امریکی پولیس آفیسر نے سیاہ فام ملزم ”جارج فلائیڈ“کی گردن پر دباؤڈال کر ہلاک کر دیا تھا۔کسان تین مقامقات پر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں، بھارتی میڈیا یہ دعویٰ بھی کر رہا ہے کہ لال قلعہ واقعے کے بعد کسانوں میں پھوٹ پڑ گئی ہے اور بعض کسان اپنے گھروں کو لوٹ گئے ہیں۔ممکنہے ان خبروں میں کسی حد تک صداقت بھی ہو۔سب نے دیکھالال قلعہ پر جھنڈا لہرانے والے سکھ کسان تھے۔ سکھوں کے مطالبات صرف معاشی نہیں، سیاسی بھی ہیں۔خالصتان کا جھنڈا ان کے سیاسی جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔لیکن سیاست اور معیشت میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ بلکہ معاشی ماہرین یہ کہتے ہیں کہ سیاست معیشت کے تابع ہوتی ہے۔معیشت ہی سیاست کی سمت متعین کرتی ہے۔بادشاہتوں کا خاتمہ کسانوں اور مزدوروں کے ہاتھوں ہوا۔دنیا کاوسیع حصہ سوشلسٹ بلاک کی صورت میں ایک حقیقت ہے۔سامراج اپنی تمام تر معاشی ناکہ بندی،فوجی حکمت عملی، بربریت اور سفاکی کے باوجود سوشلسٹ حکومتیں ختم نہیں کرسکا۔روس عالمی مارکیٹ کی نفسیات کے خلاف سینہ سپر رہا، اور افغانستسان میں فوجیں اتارنے کی قیمت چکانے کے بعد ایک بار پھر اپنا عالمی کردار ادا کرنے کی پوزیشن حاصل کرتا جا رہا ہے۔ چین نے حیرت انگیز معاشی اور عسکری ترقی کر کے سامراجی ذہنیت کو مبہوت کر دیا ہے۔
امریکہ اپنی سرزمین پر سماجی مشکلات کا الزام روس اور چین پر عائد کرتا ہے۔ ڈونلڈٹرمپ کی جیت اور جارحانہ حکمت عملی کے پیچھے روس کا ہاتھ ہونے کے الزامات کی گونج آج بھی سنائی دے رہی ہے۔ حالانکہ دونوں ملکوں کی سرحدیں پاکستان اور بھارت کی طرح مشترکہ نہیں، ان کے درمیان ہزاروں میل کا فاصلہ ہونے کے علاوہ وسیع و عریض سمندر بھی حائل ہے۔ایسے الزامات امریکہ پر بھی عائد کئے جاتے ہیں۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ بھارت میں حالیہ طویل کسان تحریک کسی بیرونی سازش کا نتیجہ نہیں،کسانوں نے اپنی فصلیں،اناج اور پھل اپنی مرضی سے اوپن منڈی میں بیچنے کی سہولت سے دست بردار ہونے سے انکار کر دیا ہے۔حکومت کی منظور کردہ کمپنیوں کی جبری خرید کا قانون مسترد کردیا ہے۔حکومت بھی ڈیڑھ سال تک ان قوانین کو معطل کرنے پر رضامند ہو گئی ہے۔کسان چاہیں تو ڈیڑھ سالہ مہلت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، ان کے پاس حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لئے خاصاوقت آگیا ہے۔لیکن انے بڑے پرجوش کسانوں کو ایک کال کے ذریعے واپس گھروں کو بھیجنا تحریکی رہنماؤں کے لئے آسان نہیں ہوا کرتا۔یہی وجہ ہے کہ اکثر و بیشتر تحریکیں آہستہ آہستہ تحلیل ہوتی ہیں۔ لال قلعہ کا واقعہ بھی دراڑ ڈالنے میں ایک سبب بن سکتا ہے۔علاقائی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم بھی ایک فعال عنصر کا کردار ادا کرتی ہے۔لیکن اس حقیقت کو جھٹلانا آسان نہیں کہ کسانوں نے شدید سردی کے باوجود مہینوں دھرنا دیا، دوسری طرف حکومت نے بھی اکادکا ہلکی پھلکی جھڑپوں کے سوا اکثر و بیشتر تحمل سے کام لیا۔اب دونوں جانب سے سنجیدگی اور دانشمندی کی زیادہ ضرورت ہے، ورنہ معاملات بگڑ جائیں گے۔احتجاج کی وجوہات کودور کیا جائے۔جس کے مطالبات جائز ہوں وہ جلدی پیچھے نہیں ہاااتتا، اس معاملے میں کسانوں کا مطالبہ زیادہ وزن رکھتا ہے، اس لئے حکومت کو بڑے پن کا مظاہرہ کرنا ہوگا،متنازعہ قوانین پر نظرثانی کاوعدہ ڈیڑھ سال میں پورا کرنے کی یقین دہانی سے کسان کافی حد تک مطمئن ہو سکتے ہیں کوئی پرامن راہ تلاش کی جائے۔ تصادم سے بچا جائے۔فیصلہ مودی سرکار نے کرنا ہے۔
پاکستان میں کسان مشکل حالات سے دوچار ہیں۔ پانی کی قلت اپنی جگہ برقرار ہے،اور کسی بھی فصل کی یہ پہلی ضرورت ہے۔مہنگی بجلی ایک مستقل روگ بن چکی ہے،کھاد کے دستیابی بھی عین وقت پر مسئلہ بن جاتی ہے۔گندم درآمد کی جا رہی ہے،خریدوفروخت کی مشکلات پاکستان میں بھی موجود ہیں،باردانہ نہیں ملتا، محکمہ خوراک اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں کوتاہی کا مرتکب ہوتا ہے۔نیب کے چیئرمین 10،15ارب روپے گندم کی خورد برد کرنے والوں سے وصول کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اسمگلنگ کا خمیازہ بھی عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔73برسوں میں ذخیرہ کرنے کا معقول اور ضرورت کے مطابق بندوست نظر نہیں آتا۔ کھلے آسمان تلے رکھنے سے نقصان کا اندیشہ رہتا ہے اور پھر اس کی آڑ میں صحیح گندم چاول بھی خورد برد کر لیا جاتا ہے۔زراعت کے شعبے کو وہ توجہ نہیں دی جارہی جس کی اسے ضرورت ہے۔تحقیقی کام رکا ہوا محسوس ہوتا ہے یا سست روی کا شکار ہے۔عام آدمی نے ادرک ہزار روپے کلو تک خریدی ہے، ٹماٹر پیاز ہر کھانے کی بنیادی ضرورت ہیں، ان کے دام بھی آسمان سے باتیں کرتے ہیں لیکن کسان کو انتہائی کم ریٹ ملتے ہیں۔ اس گڑبڑ اور دیرینہ خرابی کا کوئی حل تلاش کیا جائے۔حکومت پاکستان کو بھی اپنے کسانوں کی مشکلات دور کرنے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ زرعی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔زیر زمین پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے، اس سے حفظان صحت کے بعض نئے مسائل جنم لے رہے ہیں، غیر صحت مند غذائی اجناس معاشرے میں نئی بیماریوں کو جنم دیتی ہے۔زیر زمین پانی فیکٹریوں کے فضلہ سے آلودہ ہونا ایک جانب کسان کو اچھی فصل سے محروم کرتا ہے، دوسری جانب آلودہ پانی سے اگائی جانے والی اجناس مسئلہ بن رہی ہیں۔ ایک سنجیدہ اورعوام دوست پالیسی بلا تاخیرتشکیل دی جائے۔


