پنجگور ، بجلی بحران کے حل کیلئے اقدامات کئے جائیں،سیاسی جماعتیں

پنجگور ( نامہ نگار ) پنجگور کے علاقے سوردو سریکوران کے لوگ گزشتہ دس روز سے علاقے میں بجلی کے نظام کے درہم برہم ہونے کی وجہ سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں ان کا صرف ایک ہی مطالبہ ھے کہ سوردو سریکوران کو بجلی دو بھوک ہڑتالی کیمپ جو واپڈا پنجگور کے مین گیٹ بالکل سامنے لگایا گیا ہے مگر دس روز گزرنے کے باوجود تاحال سوردو سریکوران کے لوگوں کا مسئلہ حل نہیں ہورہاہے بھوک ہڑتالی کیمپ میں پنجگور کے تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین آور سینئر ورکرز نے آکر اظہار یکجہتی کیا ھے آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی انجمن تاجران اور دیگر قبائلی سیاسی اور سماجی شخصیات نے بھی آکر اظہار یکجہتی کیا ہے اور چند منٹ کے بعد واپس چلے گئے ہیں چونکہ پنجگور میں بجلی کا مسلئہ صرف سریکوران سوردو کا مسلئہ نہیں پورے پنجگور کے لوگ بجلی کے موجود نظام سے پریشان اور متاثر ہیں متاثرین دوسرے متاثرین سے اظہار یکجہتی کرکے اچھا کرریے ہیں اور جب تک آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی پنجگور کے برسر اقتدار اور اپوزیشن سیاسی آور سماج تنظیمین انجمن تاجران ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر بجلی کے نظامِ کا مستقل حل نہیں نکالین گے یہ سلسلہ چلتا رہے گا اور شہریوں کو یہ اذیت برداشت کرنا پڑے گا اور جب تک پنجگور میں بجلی کے بقایاجات کا مسلئہ حل نہیں ہوگا بجلی کے نظام میں بہتری ناممکن دکھائی دیتا ہے احتجاج اور بھوک ہڑتال سے شاید عارضی طور پر مسئلہ ٹل جائے مستقل حل بقایاجات کے مسلہ سے وابستہ ہے سوردو سریکوران کے مکینوں کا کہنا ہے کہ آن کے علاقے کا بجلی مکمل بند کر دیا گیا تھا اس لیے احتجاج آور بھوک ہڑتال شروع کر دیا ہے سوردو سریکوران کے لوگوں کی جہدوجہد قابل تعریف ہے پورے پنجگور میں بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے تقریباً پنجگور میں ماسواۓ کیڈٹ کالج فیڈر تمام فیڈرز متاثر ہیں دو دن چند گھنٹوں کے لئے بجلی دی جاتی ہے مگر وولٹیج انتہائی کم کردی جاتی ہے کہ کوئی برقی آلات نہیں چلتے تیسرے دن چند گھنٹوں کے لئے بجلی کے وولٹیج کو درست کیا جاتاہے آور یہ سلسلہ گزشتہ کئی مہینوں سے جاری ہے واپڈا کا کہنا ہے کہ تمام فیڈرز ٹرپ کر جاتے ہیں اور لوڈ ہیں اور لوگ اذیت سے دوچار ہیں لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں مکران میں سب سے زیادہ بجلی کی لوڈشیڈنگ پنجگور میں کی جارہی ہے تربت گوادر کو چھوڑ دو پنجگور کے ایک فیڈر لوڈشیڈنگ سے فری ھے جو کیڈٹ کالج فیڈر ھے شہر کے دیگر تمام فیڈرز کے لوگ متاثر ہیں آور عوام اذیت اور مشکلات برداشت کررہے ہیں پنجگور میں بجلی کا نظام درہم برہم بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ وولٹیج کی کمی اور ٹرپننگ سے شہری عاجز آگئے علاقے میں پانی کی قلت ھے مکران میں سب سے زیادہ بجلی کی لوڈشیڈنگ پنجگور میں کی جارہی ہے ہے دن کو صرف پانچ گھنٹے اور رات کو دو گھنٹے بجلی دیا جاتا ہے وہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے وولٹیج اتنی کم کی جاتی ہے کہ نہ بلب روشن ہوتے ہیں اور نہ ہی دیگر برقی آلات کام کرتے ہیں بجلی کے وولٹیج کی کمی بیشی سے نہ صرف لوگوں کے قیمتی برقی آلات فریج پانی کے موٹرز واشنگ مشین وغیرہ جل کر ناکارہ ہورہے ہیں بلکہ جس سے لوگوں کو ہر ماہ ہزاروں روپے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے وولٹیج کی کمی بیشی سے آئے روز بجلی کے ٹرانسفارمرز بھی خراب ہورہے ہیں اور ان کی مرمت واپڈا نہیں کرتا اس لئے محلے والے چندہ کرکے ٹرانسفارمرز کی مرمت کرتے ہیں فی ٹرانسفارمر کی مرمت 50 والا 50 ہزار اور 100 کے ٹرانسفارمر کی مرمت پر ایک لاکھ روپے تک خرچہ آتا ہے ا عوامی حلقوں کے مطابق لوگ پریشان ہیں کہ بجلی کے بلز کے نقایاجات جمع کریں یا برقی آلات یاٹرانسفارمرزکی مرمت کی کریں دوسری جانب علاقے میں بجلی نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سےالیکڑونک کے پیشے سے وابستہ ہزاروں افراد بے روز گار ہوگئے ہیں علاقے کے لوگوں کو بجلی کے عام استعمال کےساتھ ساتھ پانی کے حصول کے لئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے شہر میں پانی کی قلت پیدا ہوگئی ہے علاقے کے عوامی حلقوں نے اپیل کی ہے کہ پنجگور میں لوڈشیڈنگ میں کمی کرکے بجلی کے وولٹیج کو مطلوبہ وولٹیج پر برقرار رکھا جائے جبکہ واپڈا ذرائع کے مطابق پنجگور کے تمام فیڈرز اور لوڈنگ کی وجہ سے ٹرپ کر جاتے ہیں جب تک پنجگور میں بقایاجات کا مسلئہ حل نہیں ہوگا پنجگور کے لوگوں کو یہ اذیت برداشت کرنا پڑے گا پنجگور کے با اثر افراد نے سولرز اور متبادل ذرائع سے بندوبست کیا ہے جبکہ غریب طبقے کے لوگ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ متاثر ہیں مکران میں سب سے زیادہ بجلی کے لوڈشیڈنگ پنجگور میں ہورہا ہے اس سلسلے میں عوام الناس نے وزیر اعلی بلوچستان کسکو بلوچستان کے چیف صوبائی وزیر میر اسد اللہ بلوچ اور متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ پنجگور میں بجلی کے بحران کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں اور پنجگور کے لوگوں پر جو بقایاجات ہیں ان کو ختم کرکے از سرِ نو بلز کی وصولی شروع کرکے ایمانداری کے ساتھ میٹر ریڈنگ کیا جائے اور پنجگور کے لوگوں کو بجلی کے اس اذیت ناک نظام سے چھٹکارا دلایا جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں