اسلام آباد، بلوچستان سے لاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاجی کیمپ تیسرے روز بھی جاری

اسلام آباد:بلوچستان سے لاپتہ افراد کے بازیابی کے لیے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے احتجاجی کیمپ تیسرے روز بھی جاری رہا وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ اور لاپتہ افراد کے اہلخانہ نے میڈیا اور اظہار یکجہتی کرنے والوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے لاپتہ پیاروں کی بازیابی کے لیے پرامن اور آئینی طریقے سے طویل عرصے سے جد و جہد کررہے ہیں لیکن ہمارے پیارے اب تک بازیاب نہیں ہوئے جسکی وجہ سے ہم ذہنی کرب اور اذیت میں مبتلا ہے جسکی وجہ سے ہم حکمرانوں اور ملکی اداروں تک اپنی آواز پہنچانے کے لیے اسلام آباد آئے ہیں تاکہ ہماری فریاد کو سنے اور ہمیں ملکی قوانین کے تحت انصاف فراہم کرے ہمارا مطالبہ بھی آئینی ہے کہ اگر ہمارے پیاروں پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے بے قصور ہے تو انہیں رہا کیا جائے ہم امید کرتے ہیں وزیراعظم عمران خان اور ملکی ادارے ہمیں مایوس نہیں کرے گی ہمارے فریاد کو سنے گے اور ہمارے لاپتہ پیاروں کو بازیاب کرکے ہمیں زندگی بھر کی اذیت سے نجات دلائے گی۔دراثناء پی ٹی ایم کے سربرہ منظور پشتین،ڈیفنس ہیومین رائٹس کے آمنہ مسعود جنجوعہ،عوامی ورکر پارٹی ،ویمن ڈموکریٹٹ۔سیاسی و طلباء تنظیمیں اور مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کرکے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی

اپنا تبصرہ بھیجیں