پاسداران انقلاب کی آئل ٹینکرز پر فائرنگ

پاسداران انقلاب نے مشرقی و مغربی بلوچستان کے سرحدی علاقے میں پیٹرول اور ڈیزل ٹینکرز پر فائرنگ کر دی جس میں کم از کم 37افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔میڈیا نے مزید تفصیلات تو نہیں بتائیں لیکن قیاس کے مطابق یہ کارروائی ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی پاکستان اسمگلنگ کی روک تھام کے سلسلے میں عمل میں لائی گئی ہوگی۔ پاکستان پاک ایران بارڈر پر حفاظتی باڑ کا تقریباً 60فیصد سے زائد حصہ مکمل کر چکا ہے، جبکہ باقیماندہ کام بھی جون تک مکمل کرنے کاعندیہ دیاگیا ہے۔پاکستانی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے گزشتہ دنوں پاک ایران بارڈر کادورہ بھی کیا تھا، اس موقع پر انہوں نے امید ظاہرکی تھی کہ حفاظتی باڑ کی تکمیل کے بعد دونوں ملکوں کے درمیا ن اسمگلنگ کا بڑی حد تک خاتمہ ہو جائے گا۔پاکستان اپنی کمزور معیشت کے باعث ہمسایہ ملک ایران سے بھرپور تجارتی روابط قائم نہیں کرسکتا۔قرض دینے والے ملک اس حوالے سے ڈکٹیٹ کرتے ہیں۔اس کا ایک تکلیف دہ مشاہدہ پاکستانی عوام ماضی قریب میں کر چکے ہیں جب پاکستان کے وزیر اعظم اوروزیر خارجہ کو ملائیشیامیں منعقدہ ترکی،پاکستان اور ملائیشیا کی بلائی گئی اسلامی ملکوں کی کانفرنس میں نہ صرف شرکت سے روک دیاگیاتھا بلکہ اپنادیاگیاقرض فوری طور پر ادا کرنے کامطالبہ بھی کر دیاتھا۔یہ الگ بات ہے کہ پاکستان نے چین سے قرض لے کر مطلوبہ ادائیگی کر دی تھی، لیکن آنکھیں دکھانے والے رویہ کی وجہ سے اسلامی بھائی چارے کے غبارے سے ہوانکل گئی۔ہمارے حکمران یہ بھول گئے تھے کہ ہر ملک کی سیاست اس کی معیشت کے تابع ہوتی ہے۔غیر ملکوں سے قرض لے کر سابق قرض کے سود سمیت قسطیں اداکرنے کی عوام دشمن پالیسی پر چلتے رہے، کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اندھادھند لیا گیا قرض واپس کیسے کیاجائے گا؟سعودی عرب کے رویہ نے سوئے ہوئے ضمیر کو ایک حد تک جھٹکاتو دیاہے،شاید آئندہ کوئی بہتر معاشی حکمت عملی وضع کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا جائے۔ پاکستان نے چند ہفتے قبل ایران سے اسمگل شدہ پیٹرول اور ڈیزل کی فروخت پرسختی سے پابندی عائد کی تو معلوم ہواکہ اس غیر قانونی کاروبار میں لاکھوں پاکستانی شریک ہیں اور اس سے ملتی جلتی صورت حال ایران میں بھی ہوگی۔جن ممالک کی معیشت قرض پر استوار ہو،ان کا انجام کبھی بھی اچھا نہیں ہواکرتا۔اسے پاکستان کی عارضی اور وقتی خوش بختی کے سوا کوئی دوسرانام نہیں دیا جاسکتا کہ چین کی معیشت اور سیاست کے لئے گوادر ڈیپ سی پورٹ مرکزی اہمیت اختیار کر گئی ہے اور چین نے ہمیں دنیا میں مزید رسوائی سے بچا لیا۔لیکن یہ حقیقت تو بہت دیر میں کھلے گی کہ سی پیک میں پاکستان نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ابھی تو ہمالیہ سے اونچی، سمندروں سے گہری، فولاد سے زیادہ مضبوط اورشہد سے زیادہ میٹھی ”پاک۔چین دوستی“کا سحر ہمارے رگ و پے میں دوڑانے کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے،ایسے میں کچھ کہنا بے اثر رہے گا۔چین کے بارے میں پرانا عالمی تأثر یہ ہے کہ چینی قیادت دھیمے لہجے میں بات کرنے کی عادی ہے۔لیکن جب بولتی ہے تو مد مقابل کی زبان گنگ ہو جاتی ہے۔بھارت نے جب اپنے امریکی اسٹرٹیجک پارٹنر امریکہ کی مشاورت سے لداخ کے اس علاقے کو جسے چین طویل عرصے سے اپنا علاقہ کہتا چلاآرہا ہے، بھارت سرکار نے2019 اس کی متنازعہ شناخت یکطرفہ طور پر ختم کردی اور لداخ کو دہلی کے زیر انتظام قراردے دیا تو چین نے بات چیت کے ذریعے بھارت کو سمجھانے کی کوشش کی اور چاہا کہ بھارت اپنایکطرفہ فیصلہ واپس لے، مگر بھارت سرکار چین کو چین میں گھس کر مارنے کی پالیسی پر قائم رہی۔نظر ثانی پرآمادہ نہیں ہوئی،اس کا خیال تھا کہ چین اور بھارت کے درمیان متنازعہ علاقے میں گولی فائر نہ کرنے کامعاہدہ موجود ہے، اگر چین نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو امریکی حمایت سے چین کے لئے عالمی سطح پر مشکلات کھڑی کر دی جائیں گی۔ لیکن چین اپنی عادت کے مطابق نہایت خاموشی لداخ میں اپنی فوج اتارنے کی تیاری کرتااور کیلوں سے جڑے ڈنڈوں سے لیس چینی فوجی جو جوڈو کراٹے کے فن میں بھی مہارت رکھتے تھے،ایک سال بعد 2020میں لداخ کے اس علاقے میں اپنی روایتی خاموشی کے ساتھ بھیج دیئے جسے چین اپنا علاقہ کہتا رہا ہے، بھارتی فوج اس ناگہانی آفت کے لئے ذہنی اور جسمانی طور پر تیار نہیں تھی،اس کا نتیجہ وہی نکلنا تھا جو نکلا۔ اب بظاہر دونوں ملکوں کی افواج اپنی پرانی پوزیشن پر چلی گئی ہیں مگر واقفان حال جانتے ہیں کہ اس خطے کی کی جغرافیائی ہیئت اس حد تک تبدیل ہو چکی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے سیاسی رہنما فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی بھی بھارت سرکار کو یہ مشورہ دے رہے ہیں:”اگر چین سے مذاکرات ہو سکتے ہیں، پاکستان سے کیوں نہیں؟ لداخ سے بھارتی فوج نکل سکتی ہے تو کشمیر سے کیوں نہیں نکل سکتی؟ نکالی جائے۔لیکن کشمیری رہنما یہ حقیت بھول جاتے ہیں کہ چین معاشی طور پر توانا ملک ہے،آئی ایم ایف اوردیگر ملکوں کے قرضوں میں جکڑا ہوا نہیں،سعودی عرب سمیت کوئی ملک اسے ڈکٹیٹ نہیں کرسکتا۔جب پاکستان ایک مضبوط معاشی قوت بنے گا تب پاکستان سے بات چیت کے بارے میں سوچا جائے گا۔ابھی تو پاکستان ایران سے کئے گئے قدرتی گیس کے معاہدے پر عملدرآمد کے قابل بھی نہیں ہو سکا،اربوں ڈالر کا ایرانی پیٹرول اور ڈیزل برسوں سمگل ہوتا دیکھتا رہا،روک تھام کی ہمت چند ہفتے پہلے تک نہیں تھی۔اس غیرقانونی تجارت کو قانونی شکل دی جائے گی تو معلوم ہوگا، پاکستان میں فیصلہ کرنے کی کس قدر صلاحیت ہے؟ نعرے بازی اور اصل صورت حال میں بہت بڑا فرق ہے۔پاکستانی سفیرامریکہ سے درخواست کر رہا ہے کہ بھارت پر مسئلہ کشمیرحل کرنے کے لئے دباؤ ڈالے۔اس سے ظاہر ہوتاکہ چین اور پاکستان کی عالمی ساکھ میں بہت بڑا فرق ہے،پاکستان کو106ارب ڈالر کاقرض چکانا ہے،جس میں چین کے بھی(14اگست2020کے اعداو شمار کے مطابق)6ارب ڈالر شامل ہیں۔ان 5مہینوں میں یہ اعداد و شمار گھٹ بڑھ بھی سکتے ہیں۔یاد رہے قرض کی ادائیگی عوام کی چیخیں نکلوا دیتی ہے، پاکستانی عوام کے چہروں پر لکھے کرب سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ملک اور عوام کو اس مقام تک پہنچانے کی ذمہ داری قبو ل کرنے کی بجائے اپوزیشن 3مارچ کوحکومت سازی کے خواب دیکھ رہی ہے۔چلیں 3مارچ بھی دور نہیں،ہفتہ 10دن کی بات ہے، گزر ہی جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں