ایف اے ٹی ایف : پاکستان گرے لسٹ سے نہیں نکل سکا

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو فی الحال گرے لسٹ میں ہی رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اسلام آباد کو جون 2021 تک کا وقت دیا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کے 22، 24 اور 25 فروری کو ہونے والے ورچوئل اجلاس میں پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا اور پاکستان کو مزید چار مہینوں کی مہلت دی گئی ہے۔

ایف اے ٹی ایف کے مطابق ’پاکستان نے ایکشن پلان کے 27 میں سے 24 اہداف پر عملدرآمد کرلیا ہے اور اب اسے تین اہداف پر کام کرنا ہوگا۔‘

مزید کہا گیا ’پاکستان کو ایکشن پلان کے تمام اہداف کو مکمل کرنے کے لیے جون 2021 تک کا وقت دیا جاتا ہے۔‘

واضح رہے کہ 2018 میں گرے لسٹ پر ڈالے جانے کے بعد ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کے لیے 27 اہداف کا تعین کیا گیا تھا۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے گذشتہ برس 23 اکتوبر کو پیرس میں ہونے والے آخری اجلاس میں بھی پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ایف اے ٹی ایف کے سربراہ ڈاکٹر مارکس پلیا نے اس موقع پر پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ’فورم کو اس بات کا ادراک ہے کہ پاکستان نے پیش رفت کی ہے اور ایکشن پلان کے 27 میں سے 21 نکات پر عمل کر لیا ہے، مگر پھر بھی پاکستان کو مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘

ادارے نے پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ فروری 2021 تک بین الاقوامی طور پر طے شدہ ایکشن پلان پر عمل درآمد مکمل کرے۔

حکومت پاکستان کی جانب سے ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر عمل در آمد کے لیے بیشتر اقدامات اٹھائے گئے ہیں، جن میں اسمبلی سے مختلف قوانین منظور کروائے جانا اور عسکریت پسندوں کی مالی معاونت کی روک تھام شامل ہیں۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایک عالمی ادارہ ہے، جس کا قیام 1989 میں جی۔ سیون سمٹ کی جانب سے پیرس میں عمل میں آیا، جس کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر منی لانڈرنگ کی روک تھام تھا۔ تاہم 2011 میں اس کے مینڈیٹ میں اضافہ کرتے ہوئے اس کے مقاصد بڑھا دیے گئے۔
ان مقاصد میں بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی، کالے دھن کو سفید کرنے اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے محفوظ رکھنا اور اس حوالے سے مناسب قانونی، انضباطی اور عملی اقدامات طے کرنا تھا۔

ادارے کے کُل 38 ارکان میں امریکہ، برطانیہ، چین اور بھارت بھی شامل ہیں جبکہ پاکستان اس کا رکن نہیں۔

ادارے کا اجلاس ہر چار ماہ بعد، یعنی سال میں تین بار ہوتا ہے، جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی جاری کردہ سفارشات پر کس حد تک عمل کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں