سینیٹ الیکشن‘3مارچ کونتیجہ
سینیٹ انتخابات میں خرید و فروخت کی روک تھام کے سلسلے میں حکومت نے سپریم کورٹ سے رہنمائی مانگی تھی تاکہ شفاف انتخابات کو یقینی بنایا جائے۔عدالت نے آئینی تشریح کرتے ہوئے ممکنہ حد تک الیکشن کمیشن،امیدواروں اور ووٹرز کو یہ پیغام دے دیاہے کہ کوئی بھی خود کو مادر پدر آزاد نہ سمجھے،سب قانون کے دائرے میں رہ کر کام کریں۔اس کا اثر ہوا ہے۔پنجاب اسمبلی کی 11سیٹیں تھیں۔حکومت اور اپوزیشن(نون لیگ) کے ووٹ تقریباً مساوی تھے، دونوں کے پانچ پانچ امیدوار بلامقابلہ کامیاب قرار پائے،اسپیکر پنجاب اسمبلی کا تعلق قاف لیگ سے ہے، انہیں اپنے جثے کے مطابق ایک سینیٹر مل گیا۔ کوئی خرید و فروخت نہیں ہوسکی۔ نون لیگ کی نائب صدر مریم نواز سے ایک صحافی کو جواب دینے سے پہلے چند لمحے سوچا،پھر کہا:”بہتر ہوگا کہ میں سینیٹ کے بارے میں کچھ نہ کہوں“۔ اس سوچ بچاراور کچھ نہ کہنے کی مجبوری سے عام آدمی یہی سمجھتاہے کہ پس پردہ ضرور کوئی ایسی بات ہوئی جس کے نتیجے میں سب پارٹیوں نے پنجاب جیسے سب سے بڑے صوبے میں ہلڑ بازی کی بجائے ایسے فقیدالمثال نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا ہے۔اگر یہ مفروضہ درست نہیں تو پھر یہ کرشمہ یقیناسپریم کورٹ میں دوران سماعت معزز ججز کے ریمارکس کا نتیجہ ہے۔ اس لئے کہ یہ واقعہ زیر سماعت مقدمے کا فیصلہ آنے سے بہت پہلے رونماہو چکاتھا۔اب 36گھنٹوں میں قومی اسمبلی میں دو امیدواروں میں سے ایک کی جیت اور دوسرے کی ہارکااعلان ہو جائے گا۔خرید و فروخت کے امکانات بہت کم ہیں۔ دونوں امیدواروں کے ظاہری حمایتی گنتی کے اعتبار سے جانے پہچانے ہیں،خفیہ رائے شماری اگر کوئی جادوگری دکھائی گئی تو اس کا حشر ڈسکہ سے مختلف نہیں ہوگا۔یہ آوازیں بلاوجہ نہیں سنائی دے رہیں کہ لانگ مارچ سے پہلے تحریکِ عدم اعتماد آئے گی۔لیکن یہ اقدام غیر مشروط نہیں،یوسف رضا گیلانی کی کامیابی نہ ہوئی تو نہیں ہوگا۔چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری شروع دن سے کہتے چلے آرہے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت کو آئینی طریقے سے گھر بھیجیں گے۔ سب جانتے ہیں کہ کسی حکومت کو آئینی طریقے سے گھربھیجنے کے کیا معنے ہیں؟اگر عبدالحفیظ شیخ جیت گئے تو تحریک عدم اعتماد والا آئینی اقدام نہیں ہوگا۔بلاول بھٹو زرداری یہی کہہ رہے ہیں۔گویا وہ دھرنے کو غیر آئینی اقدام سمجھتے ہیں۔دھرنا ہوجانے کی صورت میں بھی حکومت کا جانا نظر نہیں آتا،صرف ایک کپ چائے سے تواضع کی پیشکش سے زیادہ ڈی جی آئی ایس پی آر کچھ نہیں کہتے۔کروڑوں روپے خرچ کرکے ایک کپ پینے کے لئے لانگ مارچ کرنادانشمندی نہیں۔وزیر داخلہ حلوہ کھلانے کی پیشکش پہلے ہی واپس لے چکے ہیں۔انہوں نے پی ڈیایم سے ایک بار پھر دوچار دن کی تاخیر سے لانگ مارچ کی اپیل کی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ نہ مانیں تو یہ ان کی مرضی!سیانے کہہ گئے ہیں سیاست خواہشات کے تابع نہیں ہوتی،معیشت کے تابع ہوتی۔اپوزیشن جانتی ہے کہ چاردہائیوں بعد پاکستان کی معیشت کس حالت میں چھوڑی تھی؟سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈارکی باڈی لینگویج نے بی بی سی کے انٹرویو میں ساری داستان بیان کر دی ہے۔قومی اسمبلی کا فیصلہ مستقبل کی راہیں متعین کرے گا۔پی پی پی نے اپنی سب سے قیمتی شخصیت یوسف رضا گیلانی کو میدان میں اتارا ہے۔اب سیاست اپنے صحیح مقام کھڑی ہے۔36گھنٹے صبروسکون سے گزار لئے جائیں۔دولت جیتے گی یاالیکشن کمیشن؟ اصل لڑائی ان دونوں کے درمیان ہے۔اتنے مختصر وقت کو گزارنا کوئی مشکل کام نہیں۔سوشل میڈیا پر ہر ذوق کی تسکین کا سامان وافر مقدار میں موجود ہے، جسے جو پسند ہو دیکھے۔چھانگا مانگا والی فکر کے لئے یہ پانی پت کی تیسری لڑائی ہے۔پنجاب اسمبلی میں اس سوچ کو حیران کن اور غیر متوقع شکست ہوئی ہے۔ قومی اسمبلی میں آخری معرکہ ہوگا۔فلور کراسنگ پر پہلے تمام آئینی ادارے خاموش رہتے تھے۔ لگتا ہے کہ عدالتی سرزنش سے الیکشن کمیشن ڈسکہ کیس میں جاگ گیا ہے۔افسروں کی لمبی چوڑی اکھاڑ پچھاڑ اوربیلٹ بکس سمیت دھند میں راستہ بھٹکنے والے پریزائیڈنگ افسران کو نہایت عجلت میں اپنے انجام کو پہنچا دیا گیا ہے۔ایسا منظر عوام و خواص نے طویل عرصے بعد دیکھا بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اکثریت نے زندگی میں پہلی بار دیکھاہوگا۔اس لئے کہ پاکستان میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ عام انتخابات جب بھی ہوئے یہ فیصلہ کہ ملک کااقتدار کس پارٹی کو سونپا جائے یہی نوجوان نسل کرے گی۔اس نوجوان نسل کے ہاتھوں میں گلی ڈنڈا نہیں،جدید دور کا کارآمدواٹس ایپ ہے،چوبیس گھنٹے ہر قسم کی معلومات ان نوجوانوں کے پاس لمحہ بہ لمحہ پہنچ رہی ہیں۔ مدرسے آئندہ صرف مؤذن اور امام مسجد تیار نہیں کریں گے، وہاں بھی کمپیوٹر، ریاضی، فزکس، کیمسٹری، بائیالوجی، کامرس،سوشل اسٹڈیزاور اسلامیات پڑھائی جائے گی۔مدارس میں زیر تعلیم لاکھوں طلباء انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد یہ فیصلہ کریں گے کہ انہیں کسی جامع مسجد کاخطیب بننا ہے یا انجنیئر، ڈاکٹر،وکیل، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ یاسی ایس پی افسر بننا ہے، جیسے مولانا فضل الرحمٰن کے ایک بھائی ڈپٹی کمشنر ہیں۔ انہوں نے کسی جامع مسجد کا خطیب بننا پسند نہیں کیا۔ پاکستان میں یہ سب کچھ عالمی تقاضوں کی تکمیل ہے۔دنیانے القاعدہ، اورداعش کی تباہ کن کارکردگی دیکھنے کے بعد یہ راستہ منتخب کیا ہے۔جدید ٹیکنالوجی نے گھر گھر شعورپہنچانے ذمہ داری سنبھال رکھی ہے۔ہنر مند بنانے کا کام بھی اپنے سر لے رکھا ہے۔ایک ان دیکھی تبدیلی برسوں سے اپنا کام کر رہی ہے۔اب کوئی سیاسی یا غیر سیاسی پارٹی اس کا راستہ نہیں رو ک سکتی۔ دقیانوسی سوچ میں اتنی سکت نہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کو شکست دے۔سینیٹ کی52 سیٹوں کے انتخابات سے پی ٹی آئی کی حکومت کو گھر بھیجنا چاہتے تھے انہیں کل شام تک علم ہو جائے گا کہ قومی اسمبلی سے کون سرخروہو کر نکلاہے۔ایک دن کے بعدٹی وی چینلز ساری داستان سنا رہے ہوں گے۔کون کیوں جیتا اور کون کیوں ہارا؟


