چین کا امریکہ کو مشورہ
چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے قومی عوامی کانگریس کے سالانہ اجلاس کی سائیڈ لائنز پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات پر مثبت اثرات مرتب کرے گا۔انہوں نے اس موقع پر کہاکہ سنکیانگ میں نسل کشی کے امریکی دعوے احمقانہ ہیں، اور امریکہ کو مشورہ دیا ہے کہ بے بنیاد الزام تراشی سے باز رہے، اس خطے کی جی ڈی پی میں گزشتہ 6دہایؤں میں 200گنا سے زائد اضافہ ہوا ہے،اس سے ظاہر ہوتاہے کہ یہاں ترقی اور خوشحالی کا عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ سے توقع کی جاتی ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ تائیوان پر اپنے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطرناک عمل کوواضح طورپر الوداع کہے گی۔ بھارت کے حوالے سے چینی وزیر خارجہ کہا کہ چین اور بھارت کو ایک دوسرے کاراستہ روکنے کی بجائے کامیابی میں مدد دینے کی ضرورت ہے۔یاد رہے کہ گزشتہدنوں نئی امریکی انتظامیہ نے چین کے حوالے سے ایک بیان میں الزام لگایا تھا کہ چین میں انسانی حقوق کا خیال نہیں رکھاجاتا اور سنکیانگ میں مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے، امریکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر خاموش نہیں رہے گا۔چینی وزیر خارجہ کا مذکورہ رد عمل اسی کی کڑی ہے۔نئی امریکی انتظامیہ کو ایک جانب یہ مشکل درپیش ہے کہ اسے اپنے پیشرو کی غلطیوں سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے عالمی برادری سے بہتر تعلقات استوار کرنا ہیں اور دوسری جانب یہ تأثر بھی دینا ہے کہ یہ اقدام کسی خوف یا دباؤ کے نتیجے میں نہیں کیا جا رہا بلکہ دنیا کو باور کرانا ہے کہ امریکہ ہمیشہ سے انسانی حقوق کا علم بردار رہا ہے۔دنیااس حقیقت سے باخبر ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ان کی جارحانہ حکمت عملی کے باعث صرف عالمی سطح پر نقصان نہیں پہنچا بلکہ داخلی محاذ پر بھی ٹرمپ دورمیں نسلی منافرت میں اضافہ ہوا ہے۔موجودہ صدرجو بائیڈن ان خامیوں سے چھٹکارہ پانے کی کوشش کررہے ہیں۔ایران سے معاہدہ کی بحالی بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔بھارت اور پاکستان کو اپنے تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کاامریکی دباؤ نما مشورہ بھی اسی حکمت عملی کا علامتی مظہر معلوم ہوتا ہے۔چین کی بھارت میں لداخ کے معاملے میں فوجی مداخلت کے بعد امریکہ نے اس خطے میں کسی جارحانہ اقدام سے بچتے ہوئے انسانی حقوق کے نام پر کام کرنے کا محفوظ راستہ چنا ہے، اوربھارت اور پاکستان کو انسانی حقوق کی پامالی سے گریز کا مشورہ دیا گیا ہے۔ امریکی اقدامات سے ظاہرہوتا ہے کہ آئندہ عالمی سطح پر جارحیت کی بجائے باہمی مشاورت سے آگے بڑھنے کو ترجیح دی جائے گی۔بشرطیکہ اسرائیل نے اسے کسی نئی مصیبت میں نہ پھنسا دیا۔امریکہ عالمی طاقت ہونے کے باوجودبعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اعصاب پر اسرائی کا خوف سوار ہے۔امریکی تھنک ٹینکس کو اس حوالے سے بھی اپنی خامیاں تلاش کرنا ہوں گی۔کورونا کی شکل میں ایک نیا دشمن امرکی روام کوقتل کر رہا ہے، 5لاکھ امریکی 37ہزارہلاک ہوچکے، ابھی تک کورونا پر قابو نہیں پایا جا سکا۔معیشت بھی مشکلات کا شکار ہے۔بجٹ خسارہ دوسری جنگ عظیم کے بعد بلند تریں سطح پر پہنچ گیا ہے۔ان حالات میں جنوبی ایشیا میں کسی نئی مہم جوئی سے اجتناب کیا جائے۔خلیجی ریاستوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ہے اسے مزید طول دینا امریکہ کے لئے بھی سود مند نہیں ہوگا۔ امریکہ مانے یا نہ مانے افغانستان میں اپنے مقاصد حسب منشا ء حاصل نہیں کرسکا۔لہٰذا اس قسم کے تجربات سے مستقبل میں نہ دہرائے جائیں۔ امریکی تھنک ٹینکس کو اپنی معاشی حکمت عملی بھی از سرِ نو وضع کرنا ہوگی۔صرف اسلحہ سازی پر انحصار کا دور ختم ہو رہا ہے۔اچھاہے جو بائیڈن تاحال محتاط انداز میں اصلاحی عمل جاری رکھا ہے، لیکن انہیں اپنی مقتدرہ کو سمجھانا ہوگا کہ اب دنیا پر راج کرنا اتنا آسان نہیں رہا جتنا دوسری جنگ عظیم کے بعد تھا۔اس دوران دنیا میں غربت، جہالت،بیماری اور تنگ نظری کو فروغ ملا ہے۔بھوک بڑھی ہے۔ بیروزگاری کاگراف اوپر گیا ہے۔اس میں کمی لانے کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کوعالمی امن قائم کرنے میں بہتر کردار ادا کرنا ہوگا،انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر صرف مذمت سے کام نہیں چلے گا۔ میانمار میں طویل عرصے سے انسانی حقوق پامال کئے جارہے ہیں، مگر اقوام متحدہ خاموش تماشائی بنی رہی۔امریکہ عالمی امن اپنی ترجیحات میں شامل کئے بغیر خود بھی مسائل کا شکار رہے گا۔عالمی امن کے نام پر غیر ایٹمی ملکوں کااپنا محکوم بنانے کا نتیجہ امریکہ کے سامنے ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل میں ایک خطرہ آج بھی امریکہ کے سر پر منڈلا رہا ہے، چند روزقبل امریکی پارلیمنٹ پر حملے کے خدشات نہ ہوتے تو حفاظتی انتظامات میں خصوصی اضافہ کی ضرورت نہ ہوتی۔اگر 4برس میں جو بائیڈن امریکی عوام کو اس نئے خطرے کا مقابلہ کرنے کے قابل نہ بنا سکے تو ڈونلڈ ٹرمپ اگلا الیکشن جیت سکتے ہیں۔ امریکہ دوسرے ملکوں میں عدم استحکام پیدا کرنے کی پالیسی جاری رکھے گا تواسے اپنے ملک میں بھی عدم استحکام کا سامنا کرنے کے لئے ہر وقت تیا رہنا ہوگا۔یہ صورت حال انسان دوستی کی نفی کا نتیجہ ہے۔یہ نہ بھولیں کہ ہر عمل کارد عمل ہوتا ہے۔جیسی کرنی ویسی بھرنی پرانی کہاوت ہے۔ امریکہ خوف پھیلا کر جو حاصل کر سکتا تھا،کر چکا۔ امریکہ کو ماننا چاہیئے کہ خوفزدہ ملکوں نے اپنے تحفظ کے لئے اب نئی پناہ گاہیں تلاش کرنا شروع کر دی ہیں۔افغانستان نے غیر ایٹمی ملکوں کو نئی راہ دکھائی ہے۔امریکی گلے کا چھچھوندر بنا ہواہے، نہ نگلا جاسکتا ہے اور نہ ہی اگلنا کام دے گا والی صورت حال ہے۔دوحہ معاہدے پر عمل نہ کیا گیاتوفائدہ کم اور نقصان زیادہ کے امکانات بڑھ جائیں گے۔چین سے اگر کئی تنازعہ ہے(اور یقینا ایک سے زائد شکایات ہیں)تواسے باہمی گفت و شنید سے طے کیا جائے۔ دوسروں کوباہمی مذاکرات کا مشورہ دینا اچھی بات ہے مگر خود بھی یہی راستہ پسند کیا جائے۔چین نے گزشتہ 6دہائیوں میں سنکیانگ کو غربت سے نکالا ہے، امریکہ سمیت بہت سارے ملک یہ کارنامہ انجام نہیں دے سکے۔بے بنیاد الزامات کی مدد سے عراق جیسے ملک کو تباہ کیا جا سکتا ہے مگر یہی فارمولہ چین پر آزمانے کے نتائج توقعات کے انتہائی برعکس ہوں گے۔ دانشمندی کے تقاضے کچھ اور ہیں۔


