ماردھاڑ کاسیاسی کلچر
ویسے تو پاکستانی سیاست میں ماردھاڑشروع سے ہی متعارف رہی ہے۔مخالفین کو راستے سے ہٹانے کاایک مؤثر طریقہ ماردھاڑکو ہی سمجھا جاتا ہے۔لیکن6مارچ 2021کے بعد اسے از سرنو آزمانے کی ابتداء ہوگئی ہے۔اس روز شیڈول کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینا تھا جو وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی انتخابی شکست کے بعد اپوزیشن کے خیال میں وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لئے قومی اسمبلی میں اپنا اعتماد کھو بیٹھے تھے۔اپوزیشن نے بائیکاٹ کا فیصلہ کیاایوان میں اراکین کی اکثریت لانا اور ان سے اعتماد کا ووٹ لینا حکومت کی ذمہ داری تھی۔اسی دوران نون لیگ کی دوسرے درجے کی قیادت نے پارلیمنٹ کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کی کوشش کی جسے پی ٹی آئی کے کارکنان نے ناکام بنا دیا۔ہنگامہ آرائی کے دوران نون لیگ کے دو سینئر رہنماؤں کو زد و کوب کرنے اور جوتاپھینکنے کے مناظر بھی میڈیا نے ریکارڈ کئے۔ایسے مناظر جمہوریت کا حصہ سمجھے جاتے ہیں مگر انہیں جمہوریت کاحسن کبھی نہیں کہا گیا۔ نون لیگ نے پی ٹی آئی کو اسی زبان میں جواب دینے کا فیصلہ کیا اور انڈوں، ٹماٹروں، سیاہی اور جوتوں سے استقبال کی منصوبہ بندی کی۔ حکومت کے ترجمان شہباز گل ان کا ہدف بنے۔ اس میں شک نہیں کہ سیاست میں ماردھاڑ کاکلچر بہت پراناہے۔ایوان کے فلور پر بھی معزز اراکین کو آپس میں گتھم گتھا ہوتے ہر دوسرے تیسرے اجلاس میں دیکھاجاتا ہے۔اسپیکر کا گھیراؤ اور نعرے بازی معمول کا درجہ اختیار کر گیا ہے۔سوال یہ ہے کیا قانون ساز ادارے کے اراکین کو اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کا مہذب طریقہ نہیں آتا؟ اگر بزورِ بازوہی دوسروں کو اپنا ہم خیال بنانا ہے تو قانون سازی کی کیا ضرورت ہے۔سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پارلیمنٹ کے باہر جوتم پیزار کے پہلے مرحلے میں میڈیا کے روبرو حکمران جماعت کو للکاراکہ ہمت ہے تو آؤ، 62سال کی عمر میں تمہیں اسٹریچر پر واپس نہ بھیجاتو مجھے پہاڑی علاقے کا (آدمی) نہ سمجھنا۔سابق وزیر اعظم اس دن بضد تھے کہ خود کو دنیا کا انتہائی غیرمہذب شہری ثابت کریں۔اپنی اس کاوش میں وہ کتنے کامیاب رہے اس کافیصلہ مستقبل قریب کا مؤرخ کرے گا۔لیکن 15مارچ کو حکومتی ترجمان شہبازگل نے جواب دے دیا ہے:
”میں جٹ کا بیٹا ہوں،سات دیہات کے 32ہزار ووٹر آگئے تو آپ کی سلطنت گر جائے گی، گالی کا جواب گالی سے نہیں دیں گے، آئندہ اگر ایسی حرکت ہوئی تو پریس کانفرنس مریم نواز کے گھر کے باہر ہوگی اور ان کے گھر سے منہ دھوؤں گا،مجھ پر اپنے کالے کرتوتوں کی سیاہی پھینکو یا کچھ اور، آپ کو نہیں چھوڑوں گا“۔
واضح رہے کہ شہباز گل امریکی یونیورسٹی میں معقول تنخواہ اور عہدے لیکچرار (یا؟) پر فائز تھے،بقول وزیر اعظم عمران خان پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے عوام کی خدمت کا جذبہ انہیں پاکستان لے آیا۔ابھی تک سیاسی جوش اور جذبے سے سرگرم ہیں۔اب وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ آئندہ پہاڑی آدمی اور جاٹ ایک دوسرے کو نیچا دکھائیں گے یا مہذب سیاسی روایات دیکھنے کو ملیں گی۔سیاسی اقدار کی پاسداری کی جائے گی یا چنگیز خان اور ہلاکو خان کی تاریخ دہرائی جائے گی۔نون لیگ نے وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں 28نومبر1997کو سپریم کورٹ پر حملہ کیاتھا۔ان کی صاحبزادی مریم نواز نے تئیس برس بعد11اگست2020کو اسلام آباد میں احتساب عدالت پر بھرپور تیاری اور نون لیگی کارکنوں کے ساتھ پتھراؤ کیا۔آج وہی احتساب عدالت،عدالت عالیہ سے ملتمس ہے کہ مریم نواز کی ضمانت منسوخ کی جائے،عدالت نے مریم نواز سے 7اپریل تک شق وار جواب طلب کر لیا ہے۔ مریم نواز نے میڈیا سے گفتگو کے دواران کہا ہے کہ وہ تیسری بار بھی جیل جانے کو تیار ہیں۔اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ مریم نواز طویل تجربات کے بعد اسی نتیجے پر پہنچی ہیں کہ سیاست قانون کا احترام کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی۔ یا انہیں کسی نے کان میں کہہ دیا ہے کہ اب ہوا کا رخ بدل گیا ہے۔16اکتوبر2020کو جن توقعات کے سہارے پی ڈی ایم کی تحریک گوجرانوالہ سے شروع کی تھی،بوجوہ پوری نہ ہو سکیں۔کچھ منصوبہ بندی کی کمی تھی اور کچھ خواہشات کا وزن بھی زیادہ تھا۔آدھی سے بھی کم مسلم لیگ نون میدان میں اتری۔نتیجہ سب نے دیکھا 13دسمبر کو مینار پاکستان کا سربراہان کے لئے بنایا گیااسٹیج بھرگیا، میدان نہ بھر سکا۔نون لیگ کی نائب صدرتمام حالات و واقعات کی چشم دید گواہ ہیں،انہوں نے اس ناقص کارکردگی پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔مگر زمینی حقائق ایسی برہمی سے تبدیل نہیں ہوتے۔نون لیگ کے تاحیات قائدنواز شریف پراسرار بیماری کی دھند میں مریم نواز کو ساتھ لئے بغیرلندن روانہ ہوگئے،حالانکہ خود مریم نواز کو یقین تھا کہ ان کے”شدید علیل“ والدانہیں جہاز میں سوار کرائے بغیر کبھی لندن نہیں جائیں گے۔سیاست بڑی بے رحم ہے۔ کب؟ کون؟ رشتوں کی پرواہ ترک کردے،کچھ نہیں کہاجا سکتا۔مغل شہنشاہ اورنگزیب کی مثال تاریخ میں موجود ہے۔ابن انشاء کا تاریخی تبصرہ بھی تاریخ کے ریکارڈ کا حصہ بن گیا ہے:
”اورنگزیب انتہائی متقی،انتہائی پرہیز گار بادشاہ تھا،اس نے زندگی میں ایک نماز قضاء نہیں کی اور ایک بھائی کو زندہ نہیں چھوڑا“۔
مریم نواز نے ناخوشگوار حالات میں سیاست کے میدان میں ابھی پہلا قدم رکھا ہے۔ہر موڑ پر انہیں حیرانگی کا سامنا کرنا ہوگا۔وہ لاکھ انکار کریں ان کا خاندان منقسم ہے۔ان کی پارٹی کے سینئر رہنما خاموش ہوکر اپنے گھروں میں بیٹھ گئے ہیں۔وجوہات کا انہیں بخوبی علم ہے۔جو لیڈر اپنی پارٹی قیادت کو گھروں سے نکالنے کی سکت نہیں رکھتا،اسے اپنی سیاسی قوت کے بارے میں کسی بڑی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیئے۔ مریم نواز کے والد نواز شریف متعدد بار خود مسکراتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ نعرہ لگا: ”قدم بڑھاؤ نواز شریف، ہم تمہارے ساتھ ہیں“ مگر جب پیچھے مڑ کر دیکھا،کوئی نظر نہیں آیا۔آج بھی تنہا لندن میں مقیم ہیں۔پی ڈی ایم کا سفر بھی اختتام کو پہنچنے والا ہے۔ مناسب ہوگا، خواہشات کے پیچھے بھاگنے کی بجائے زمینی حقائق تسلیم کر لئے جائیں۔


