جہانگیر ترین بھی شکایت کرنے لگے
شوگر ملز میں جعلی بینک اکاؤنٹس کے مقدمے میں لاہور کی بینکنگ کورٹ میں پیشی کے بعدعدالت کے باہر3اراکین قومی اسمبلی اور9اراکین پنجاب اسمبلی کے ہمراہ میڈیا کو بتایا:”میں عمران خان کا دوست تھا،دشمنی کی جانب کیو ں دھکیلا جارہا ہے؟ایک سال سے چپ ہوں،وفاداری کا اور کیا ثبوت چاہیئے؟ تحریک انصاف سے انصاف مانگ رہا ہوں“۔انہوں نے مزید کہا:”ملک میں 80شوگر ہیں،انہیں صرف جہانگیر ترین نظر آیا ہے،مقدمے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی مگر میرے اور میرے بیٹے کے اکاؤنٹس منجمد کر دیئے گئے ہیں“۔ انہوں نے سوال کیا:”اس کا کیا فائدہ ہوگا“؟ انہوں نے میڈیا کی اس رپورٹ کو غلط قرار دیاکہ ان کی کسی سے خفیہ ملاقات ہوئی ہے یا آصف علی زرداری سے ملاقات ہوگی۔ انہوں نے پی ٹی آئی سے راہیں جدا ہونے کی تردید کی۔تاہم اس موقع پر ان سے اظہار ہمدردی و یکجہتی کے لئے آئے ہوئے ایم این ایز اور ایم پی ایز نے جس لب و لہجے میں گفتگو کی وہ چونکا دینے والاتھا۔انہوں نے جہانگیر ترین کی پی ٹی آئی کے لئے دی جانے والی خدمات کاذکر کرتے ہوئے صاف الفاظ میں کہا کہ اعتماد کا ووٹ جہانگیر ترین کی بدولت ملا،آج یہاں موجود اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے علاوہ بھی درجنوں دیگر جہانگیرترین کے ساتھ ہیں۔ ملکی سیاست کے زیروبم پر نظر رکھنے والے اس اقدام کو پاور شو کا نام دے رہے ہیں۔ان کے خیال میں وزیر اعظم عمران خان کے لئے خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے نجی ٹی وی چینلز پر جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی ایک کو نشانہ نہیں بنا رہے،یہ درست ہے کہ ملک میں 80شوگر ملز ہیں لیکن انہیں گروپس میں تقسیم کریں تو 9گروپس ہیں۔ان گروپس کی پیداوار شوگر انڈسٹری کا 50 فیصد بنتے ہیں، جے ڈبلیوڈی شوگر پروڈکشن کا20فیصد ہے۔اگر ہم جے ڈبلیوڈی کا آڈٹ نہ کرتے تومیڈیا نے سوال کرنا تھا:”20فیصد کو کیوں چھوڑ دیا؟“،شہزاد اکبر نے کہا اس وقت تک چینی مافیا سے40ارب روپے وصول کر چکے ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات فراز شبلی نے جہانگیر ترین کے بارے میں کہا ہے ملک اس وقت ترقی کرتا ہے جب بلاتفریق احتساب ہو۔جہانگیر ترین نے طویل خاموشی کے بعد اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ یہ امیدرکھتے تھے جلد یا بدیر عمران خان ان کی کمی محسوس کریں گے،ان کی خدمات کی ضرورت پڑے گی،مشکلات میں ڈالنے والے معتوب ہوں گے اوران کا سابق مقام و مرتبہ انہیں مل جائے گا۔ اعتماد کا ووٹ لینے کے مرحلے میں جو نئی خدمات انجام دی تھیں اس کے بعد انہیں یقین تھاکہ اب عمران خان کی جانب سے کوئی اچھا پیغام ملے گا مگر ایک مہینہ گزرنے کے باوجودایسا نہ ہوا، بلکہ ظاہری آمدنی کے مقابلے میں اثاثہ جات زیادہ ہونے کے سوالات پوچھنے کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا۔باپ بیٹے سے 5، 5سوال پوچھ لئے گئے۔سوالات اتنے چبھتے ہوئے اور ٹھوس تھے کہ جواب دیں توبرسوں کی پارسائی جانے کا اندیشہ ہے اور جواب نہ دینے کا وقت گزر چکا۔لہٰذا انہوں نے بھی وہی راستہ پسند کیا جو ان سے پہلے شریف فیملی اختیار کر چکی تھی،یعنی حکومت پر سیاسی دباؤ ڈالا جائے۔ایک جانب اپنے احسانات یاد دلائے جائیں، اور دوسری جانب اپنی سیاسی قوت دکھائی جائے اور عمران خان کو ایسے حالات تک لے جایا جائے جہاں انہیں پنجاب حکومت خطرے میں دکھائی دے یا وزارت عظمیٰ جاتی نظر آئے اورجہانگیر ترین کے لئے کوئی درمیانہ راستہ نکل آئے۔ اب گیند وزیر اعظم کے کورٹ میں ہے۔ جو لوگ وزیر اعظم کے مزاج کو سمجھتے ہیں وہ برملا کہتے ہیں کہ وزارت عظمیٰ عمران خان کی کمزوری نہیں، اسے اپنے انتخابی نعرے زیادہ عزیز ہیں۔ قومی خزانہ لوٹنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے، حکومت چھوڑ دیں گے۔مبصرین کی یہ رائے وزن رکھتی ہے،وزیر اعظم اپنے اس ارادے کا اظہار ایک سے زائد مواقع پر کر چکے ہیں۔اعتماد کا ووٹ لیتے وقت بھی کہا تھا اگر مجھے اعتماد کا ووٹ نہ ملا تو میں اپوزیشن بینچوں پر بیٹھوں گا۔پی پی پی ان ہاؤس تبدیلی چاہتی ہے،لیکن محتاط انداز میں آگے بڑھنا اس کی ترجیح ہے۔جلد بازی میں کسی انہونی کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔بی اے پی بنائی تھی، لیکن جو توقعات تھیں ادھوری رہیں۔نون لیگ کے ہاتھ سے حکومت جاتی رہی مگر پی پی پی کو کچھ نہیں ملا۔پی پی پی پنجاب میں تبدیلی کا اشارہ دیتی ہے مگر وفاق میں خاموش ہے۔یہاں نون لیگ کو اپنا وزیر اعلیٰ آتا دکھائی نہیں دیتا،قاف لیگ یہ عہدہ خود لینا چاہتی ہے۔نون لیگ کو یہ سودا مہنگا پڑے گا اس لئے اس تبدیلی میں اسے کوئی دلچسپی نہیں۔سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات کا حکم دے دیا ہے، نون لیگ بلدیاتی میدان میں اپنے لئے فائدہ دیکھ رہی ہے۔اگر بلدیاتی الیکشن کی مصروفیات شروع ہو جائیں تو جہانگیر خان کا سیاسی دباؤ انہیں فوری نتیجہ نہیں دے گا۔بینکنگ کورٹ، اینٹی کرپشن،نیب اور ریونیو کا بیک وقت سامنا آسان کام نہیں ہوگا۔جہانگیر ترین نے چینی مافیاز کا ساتھ دیتے وقت یہ نہیں سوچا تھا کہ وزیر اعظم کی حکومت کمزور ہوگی،یا عمران خان ناراض ہوں گے۔ان کی نظریں منافع پر مرکوز تھیں۔اب انہیں مقدمات کا سامنا ہے، وہ عدالتوں میں پیشی اور میڈیا کا سامنا کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار نہیں،اسی لئے انہوں نے پاور شو کو سہارا بنانے کی کوشش کی ہے۔حکومت نے چینی مافیا کے معاملے میں کوئی شارٹ کٹ استعمال نہیں کیا، ایک لمبا راستہ طے کرنے کے بعد اتنے شواہد حاصل کر لئے ہیں جنہیں جھٹلانا جہانگیر ترین جیسے تجربہ کار بزنس مین کے لئے بھی ممکن نہیں۔5سوالات کی گرفت اور دائرہ اتنا وسیع ہے کہ کہ ان کی قوت برداشت جواب دے گئی ہے۔عمران خان روایتی سیاست دان نہیں،ان سے روایتی ردعمل کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اتنی قلیل تعداد کے ساتھ کوئی بھی روایتی سیاست دان حکومت لینا پسند نہ کرتا۔ڈھائی سال گزارلئے ہیں۔ بقول شیخ رشید احمد پاکستان میں یہ مدت لمبی سمجھی جاتی ہے۔ پی ڈی ایم کی سیاسی ناکامی کے بعد اپوزیشن کو سنبھلنے میں کافی وقت لگے گا۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لیوروف کا دوروزہ دورہ دو طرفہ تعاون بڑھانے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔ پاکستانی میڈیا اکتوبر میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی پاکستان آمد کے لئے پرامید ہیں۔ایسے ماحول میں جہانگیر ترین شاید مطلوبہ مراعات حاصل نہیں کر سکیں گے۔


