سابق سربراہ ایف آئی اے ‘دو سال بعد الزام تراشی
سابق ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے بشیر میمن بھی الزام تراشی پر اتر آئے۔انہوں نے کہا ہے:”مجھے وزیر اعظم ہاؤس بلا کر کہا گیا:”آپ ہمت کریں، آپ کر سکتے ہیں؛جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف کیس بنانا ہے اور انکوائری کرنی ہے“۔فروغ نسیم پہلے ہی کنونسڈ (convinced)تھے کہ ایف آئی اے یہ کیس بنائے۔بشیر میمن کا مزید کہنا ہے:”سپریم کورٹ کے جج کے خلاف انکوائری کرنا ایف آئی اے کا کام نہیں، سپریم جوڈیشل کونسل کا کام ہے“۔وزیر اعظم ہاؤس کے ذمہ داران(شہزاد اکبر، ڈاکٹر اشفاق،فروغ نسیم) نے کہا:”آپ اور ایف بی آر مل کر کر لیں“۔میں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ایک ماہ بعد شہزاد اکبر نے مجھ سے جسٹس فائزعیسیٰ اور ان کی فیملی کی ٹریول ہسٹری مانگی،تو بقول بشیر میمن انہوں نے شہزاد اکبر سے کہا:”آپ نے ابھی تک میری جان نہیں چھوڑی“۔بشیر میمن کے دعوے کو جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کے وکلاء نے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوا دیاہے؛ اس الزام تراشی پر 14روز کے اندر بذریعہ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیاغیر مشروط معافی مانگنے، 50کروڑ روپے20لاکھ روپے قانونی فیس ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ناکامی کی صورت میں بشیر میمن(سابق ڈائریکٹرجنرل ایف آئی اے) کے خلاف کارروائی ہوگی۔وفاقی وزیر قانون بھی یہی راستہ اختیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ قانونی ماہربیرسٹر چوہدری اعتزاز احسن کا خیال ہے بشیر میمن کی بیان کردہ داستان ماضی قریب کے ایک جج ارشد ملک (مرحوم) کی داستان کا پارٹ۔ٹو ہے۔ شاید مریم نواز کے پاس بشیر میمن کی کوئی ویڈیو ہے، اور یہ فر فر بولے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا اس میں شک نہیں کہ اپوزیشن کو سزادلوانے کے لئے وزیراعظم ہاؤس ماضی میں استعمال ہوتے ہیں۔جیسے (پی پی پی کی چیئر پرسن) بی بی شہید اور آصف علی زرداری کوسیف الرحمٰن شہباز شریف کی جانب سے فون پر سات سال سزا اور ان کی جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ ضبط کرنے کاحکم دینے کے لئے کہاگیا اور وہ جواباً کہتے ہیں میکسی مم دینا ٹھیک نہیں، پانچ پانچ سال دے دیتے ہیں،یہ فون ریکارڈنگ لیک ہوگئی اور سپریم کورٹ نے اسی بنیاد پر متعلقہ کیس ختم کردیا تھا۔اگر بشیر میمن بھی ایسی کوئی ریکارڈنگ پیش کر دیتے ہیں تو ان کی بات مان لی جائے گی ورنہ ان الیکٹرانک کا میٖڈیا کو دیا گیا ایک کہانی سے زیادہ کچھ نہیں۔عام آدمی بھی بشیر میمن کے الزامات سن رہا ہے، وہ بھی چاہتا ہے کہ اگر بشیر میمن کے پاس شواہد ہیں توسامنے لائے۔یہی مطالبہ شہزاد اکبر کے وکلاء نے بھی کیا ہے۔نوٹس کی مدت 14 دن ہے، عید کی تعطیلات تک ان کے پاس مہلت ہے، اس کے بعد انہیں عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔لیکن اس الزام تراشی کے بعد سابق ڈائریکٹرجنرل ایف آئی اے یہ نہ سمجھیں کہ وہ آرام سے اسی طرح باری باری مختلف چینلز پر یہی کہانی دہراتے رہیں گے، موجودہ حالات میں اس کی امیدنہ کی جائے۔انہوں نے جسٹس فائز عیسیٰ قاضی کی ہمدردی سمیٹنے کی دانستہ یانادانستہ کوشش کی ہے، یہ کوشش انہیں مہنگی پڑ سکتی ہے۔وزیراعظم عمران خان کو اس گفتگو میں براہ راست شامل نہیں دکھایاگیا لیکن الزام ترشی کے آغاز سے عام آدمی یہی تأثر لیتاہے کہ اس کہانی کا اصل کردار وہی ہیں۔مریم نواز کا بیان اخبارات نے نمایاں کرکے شائع کیاہے:”وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)کے سابق ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن کے انکشاف کے بعد واضح ہوگیاہے کہ وزیر اعظم ہاؤس میں ایک دہشت گرد بیٹھاہے جو وزیر اعظم ہاؤس کو استعمال کر کے سیاسی مخالفین کے خلاف گھناؤنی سازش کر رہا ہے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی،ارشد ملک اور اب بشیر میمن کی گواہی ریکارڈ پر ہے، اب لوگوں کو سمجھ آ گئی ہوگی“۔جسٹس ارشد ملک کا انتقال ہو چکا ہے لیکن جسٹس ملک قیوم، سیف الرحمٰن اور شہباز شریف زندہ ہیں،انہیں بلاکر حقائق معلوم کئے جا سکتے ہیں۔سانحہ لاہور ماڈل ٹاؤن تھانہ بھی اس فہرست میں شامل کیاجائے۔سپریم کورٹ پر حملے کی سازش کہاں تیار ہوئی؟ اور کس نے تیار کی تھی؟ اس راز پر سے بھی کوئی غیر جانب دار کمیشن پردہ اٹھائے۔عام آدمی ایسے تمام دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا دیکھنا چاہتا ہے جنہوں نے وزیر اعظم ہاؤس کواپنے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا۔کوئی مانے یا نہ مانے،حالات جلد یا بدیر تما م دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچانے کا اشارادے رہے ہیں۔سابق صدر ممنون حسین نے ایوانِ صدر میں رہائش کے دوران ایک سے زائد بار یہ پیش گوئی کر چکے ہیں:”تمام چور پکڑے جائیں گے، کوئی دو مہینے میں پکڑا جائے گا، کوئی 6مہینے میں اور کوئی سال دوسال میں پکڑا جائے گا“۔عام آدمی دیکھ رہاہے سابق صدر کی پیش گوئی ہرگزرتے دن حرف بہ حرف سچ ثابت ہو رہی ہے۔اسے بھی حسن اتفاق کہاجا سکتا ہے کہ کوئی بھی پکڑاجانے والا عدالت کے روبرو یہ نہیں کہتا:
”جناب! یہ ہیں وہ ثبوت!“
عدالت سے باہر نکلتے ہی اپنی بے گناہی کے بلند بانگ دعوے کرنے لگتے ہیں۔ اب اس قافلے میں پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین بھی شامل ہو گئے ہیں۔ انہیں بھی 30سے زائد اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ بجٹ اجلاس میں جہانگیر ترین کے حامی بھی پی ٹی آئی کی حکومت کو جاتادیکھ رہے ہیں۔مگرنون لیگ کے تا حیات رہنما نواز شریف لندن میں مقیم ہیں، مریم نواز اور مولانافضل الرحمٰن سے زیادہ باخبر ہیں۔وہ (نواز شریف)حکومت کی فوری تبدیلی بوجوہ نہیں چاہتے۔جو فیصلہ لندن میں جمع لیگی رہنما کریں گے وہی حتمی سمجھا جائے گا۔ خواہشات ماضی کا حصہ بن جائیں گی۔ 16اکتوبر 1920 کے بعد پاکستان سمیت دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ سیاست خواہشات کے تابع نہیں ہوتی۔جب تک مخصوص تقاضے اور شرائط پوری نہ ہوں حکومتیں تبدیل نہیں ہوتیں۔نون لیگی قیادت کو اگر ابھی تک اپنی غلطی کا احساس نہیں ہوا تو آثار بتاتے ہیں کہ انہیں جلد ہی اندازہ ہو جائے گا کہ ان کی حکمت عملی میں کوئی بڑی خامی رہ گئی تھی۔ جسٹس ارشد ملک کا انتقال نہ ہوتا تو مریم نواز بھی ان کا نام نہ لیتیں۔جسٹس فائز عیسیٰ قاضی کا تفصیلی فیصلہ جاری نہیں ہوا، اگر اس میں بہت سارے اگرچہ، چنانچہ اور بشرطیکہ شامل ہوئے تو فیصلہ عملاً مختصر فیصلہ نہیں رہے گا۔ برصغیر کے نامور شاعر مرزا غالب کو بھی یہی شکایت تھی:در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیا/جتنی دیر میں میر الپٹا ہوا بستر کھلا۔


