بلوچ یکجہتی کمیٹی (کراچی) کے وفد کا کاٹھور، گڈاپ کے علاقوں کا دورہ اور مراد گبول گوٹھ میں علاقہ مکینوں سے ملاقات
کراچی (انتخاب نیوز)بلوچ یکجہتی کمیٹی (کراچی) کی آرگنائزر آمنہ بلوچ اور ڈپٹی آرگنائزر وہاب بلوچ کی سربراہی میں بی وائی سی (کراچی) کا ایک وفد جس میں آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبر نعمان بلوچ سمیت بدالرحمان بلوچ، کے بی بلوچ، زینب بلوچ، صبینہ بلوچ نے کاٹھور کا دورہ کیا اور مراد گبول گوٹھ اور جمال احمد جوکھیو گوٹھ میں علاقہ مکینوں سے ملاقات کی، بحریہ ٹاؤن اور مقامی لوگوں کی زمینوں کے درمیان اُس چھوٹی سی دیوار کا بھی دورہ کیا جس کو بحریہ ٹاؤن انتظامیہ آہستہ آہستہ آگے بڑھا کر مقامی لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کر رہی ہے۔دو روز قبل بحریہ ٹاؤن انتظامیہ داد کریم گوٹھ اور کمال خان جوکیو گوٹھ میں بھاری مشینری کے ساتھ حملہ آور ہوئی، مزاحمت کرنے پر لوگوں پر فائرنگ کی گئی جس میں شوکت خاصخیلی اور انور بلوچ گولی لگھنے سے شدید زخمی ہوئے، جنہں اسپتال منتقل کرنے کے بجائے انتظامیہ اغوا کر کے اپنے ساتھ تھانے لے گء۔ لوگوں کی مزاحمت اور حد درجہ کوششوں کے بعد تھانے سے اسپتال منتقل کیا گیا۔ آرگنائیزر آمنہ بلوچ نے وہاں گوٹھ میں مقامی لوگوں کے مجمے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ زمین شاید ملک ریاض جیسے بیوپاری کے لئے بس ایک بیوپار ہے لیکن ہمارے لئے یہ چاچا فیض محمد کی امانت ہے اور بلوچ کی شناخت ہے اور نہ ہی ہم امانتوں کا سودا کرتے ہیں اور نہ شناخت کا۔ ہم یہاں دو دن کے مکین نہیں جو کوئی بھی سرمایہ دار آ کر ہمیں یہاں سے کُوچ کرنے کو کہے اور ہم کردیں، یہ زمین ہماری شناخت ہے، ہم صدیوں سے اس زمیں پر رہ رہے ہیں، آج اس کا سودا کردیں تو ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کسی صورت معاف نہیں کریں گی۔ آخر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (کراچی) کے تمام ممبران نے علاقہ مکینوں کو یقین دلایا کہ وہ اس جہد میں اُصن کے ساتھ ہیں اور یہ زمین ہم سے الگ نہیں ہے، اس زمیں کا دفاع ہمارا بھی اتنا ہی فرض ہے جتنا علاقہ مکینوں کا۔


