دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ ٹوٹ کر جدا ہوگیا
برسلز: سیٹلائٹ تصاویر نے تصدیق کی ہے کہ انٹارکٹک کی وسیع وعریض برفانی چادر (ا?ئس شیلف) سے برف کا اتنا بڑا ٹکڑا الگ ہوا ہے کہ اب اسے دنیا کے سب سے بڑے برفانی تودے (ا?ئس برگ) میں شمار کیا گیا ہے۔انگلی کی شکل کے ا?ئس برگ کی لمبائی 4350 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی ہے لیکن اسے انسانی مداخلت سے رونما ہونے والے ا?ب و ہوا میں تبدیلی کا شاخسانہ قرار نہیں دیا گیا ہے۔ برفانی تودے کا تکنیکی نام اے 76 رکھا گیا ہے جو چند روز قبل ویڈل سمندر پر موجود رون ا?ئس شیفل سے الگ ہوا ہے۔
یورپی خلائی تنظیم نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس علاقے میں قدرے گرم پانی داخل ہونے سے گلیشیئر اور تودے پگھل کر الگ ہورہے ہیں۔ برطانیہ میں گلیشیئر کے ماہر ایلیکس برسبورن نے کہا کہ یہ قدرتی چکر ہے جو جاری رہتا ہے اور اس کا تعلق گلوبل وارمنگ سے نہیں ہے۔اے 76 جیسے ا?ئس برگ پر افقی لکیریں اس پر دباؤ کو ظاہر کرتی ہیں جو ٹوٹنے کے عمل پر منتج ہوئی۔ اب یہ برفانی ڈھیر پانی پر تیررہا ہے اور توقع ہے کہ اس سے سمندری سطح میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ ان سب کے باوجود یہ انسانی معلومہ تاریخ کا سب سے بڑا ا?ئس برگ ہے۔رون ا?ئس شیلف اس وقت مستحکم حالت میں ہے اور وہ اتنی برف کھونے کے بعد مزید پھیلے گا۔ اس سے قبل 1986 میں یہاں سے کل 11 ہزار کلومیٹر کی برف ٹوٹ کر چھوٹے بڑے ا?ئس برگ کی شکل میں الگ ہوئی تھی۔


