بلوچستان سے متعلق دو اہم عدالتی فیصلے

اگلے دو عدالتوں نے دو مختلف مقدمات میں اہم فیصلے سنائے۔دونوں مقدمات کا پس منظر اور محرک یکساں ہے۔دونوں مقدمات میں مرکزی کرداروں نے اجتماعی مفادات کو نظر انداز کیا اور ذاتی مفادات کو ترجیح دی گئی۔ایک مقدمہ احتساب عدالت کوئٹہ ون کے جج جناب منور شاہوانی نے بلوچستان لوکل گورنمنٹ فنڈزمیں اربوں روپے خوردبرد کے ریفرنس میں نامزد ملزم سابق مشیر خزانہ(بلوچستان) میر خالد لانگو کو 2سال4ماہ قید (جو انہوں نے نیب کی حراست کے دوران پہلے ہی کاٹ کی ہے)اور دوسرے نامزد ملزم سابق سیکرٹر ی خزانہ (بلوچستان)مشتاق رئیسانی کو 10سال قید کی سزا سنائی۔اس کے علاوہ مشتاق رئیسانی کے گھر سے برآمد ہونے والی ملکی و غیر ملکی کرنسی، زیورات، بانڈز،اور منقولہ و غیر منقولہ جائیداد ضبط کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔استغاثہ کے مطابق دونوں ملزمان نے دو یونین کونسلوں (خالق آباد اور مچھ)کو 2 ارب 34 کروڑ روپے جاری کرتے ہوئے 2ارب25کروڑ روپے کا غبن کیا۔اس کے معنے یہ ہوئے کہ دونوں یونین کونسلز کو 234کروڑ روپے میں سے صرف9کروڑ روپے دیئے گئے۔یہ رقم اصل کا3.84فیصد بنتی ہے،غبن شدہ رقم96.16فیصد ہے۔ایک ملزم نصراللہ تا حال مفرور ہے،عدالتی فیصلے کے مطابق اس پر مقدمہ گرفتاری کے بعد چلایا جائے گا۔فیصلہ آنے کے بعد ایک حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ بلوچستان کے عوام کو لوٹنے میں بیوروکریٹ اور سیاستدان دونوں برابر کے شریک ہیں۔یہ 3.84 فیصد فنڈز بھی اس لئے چھوڑے گئے ہوں گے کہ یوسی کونسل کے دفتری اخراجات(چپڑاسی،کلرک وغیرہ کی تنخواہ اور بجلی کا بل) ادا کئے جائیں۔ گویا غبن کو 100فیصد کہنا زیادہ درست ہوگا۔عام آدمی جانتا ہے کہ اسی قسم کی لوٹ مار پورے صوبے میں کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ترقیاتی کام نہ ہونے کے مجرم صرف ایک سابق وزیر خزانہ اورایک سابق سیکرٹری خزانہ نہیں ہیں۔کبھی عوامی احتساب کا ابھی عدالتی فیصلے تک پہنچنے میں طویل وقت لگتا ہے کبھی مناسب قانون سازی کا کام ہوا تو نہ صرف فیصلے سنائے جانے کی رفتار تیز ہوگی بلکہ عوام کے فنڈز کھاجانے والوں کی بہت بڑی تعداد بھی عوام کے سامنے بے نقاب ہو سکے گی۔بلوچستان کے عوام پر یہ ظلم نہ ڈھایا جاتا تو سزای یافتگان کے حق میں بھی بہتر ہوتا۔دوسرا عدالتی فیصلہ بھی بلوچستان کے معدنی وسائل کی بے رحمانہ لوٹ مار سے متعلق ہے،ریکوڈک کاپر اینڈ گولڈ پراجیکٹ میں لوٹ مار کا وہی فارمولہ آزمایا گیا جو سیندک کاپر اینڈ گولڈ پراجیکٹ میں کئی دہائیاں پہلے آزمایا گیا تھا۔اس فارمولے کے تحت پاکستان حکومت یہ نہیں معلوم ہوتا تھا کہ پراجیکٹ کی حدود سے بیرون ملک بھیجے جانے والے کاپر میں چاندی اور سونے کی کتنی مقدار موجود تھی۔اس کی وجہ یہ تھی کاپر میں پائے جانے والے سونے اور چاندی کی حتمی مقدار معلوم کرنے کے ایک چھوٹی سی ریفائنری کی ضرورت تھی مگر معاہدے پر دستخط کرنے والوں نے سیندک پروجیکٹ کی حدود میں لگوانی مناسب نہیں سمجھی۔اس کا نتیجہ یہی نکلنا تھا کہ پاکستان کاپر میں موجود سونے اور چاندی کی درست مالیت جو اربوں روپے یا ڈالر ہوتی،وصول کرنے میں ناکام رہا۔ جو رقم پاکستان کو ملتی وہ معاہدے پر دستخط کرنے والے کھا گئے۔واضح رہے کہ معاہدے کے تحت صرف کاپر بیچا جاتا ہے جبکہ سونا اور چاندی پاکستان کی ملکیت تسلیم کیا جاتا ہے۔ سینڈک کاپر اینڈ گولڈ پراجیکٹ میں کی جانے والی شرمناک غلطی کو ریکوڈک کاپر اینڈ گولڈ پراجیکٹ معاہدے میں دہرانا سنگین بددیانتی کے مترادف ہے۔اس حوالے سے کارروائی اس وقت ممکن ہوگی جب ٹیتھیان کمپنی برٹش ورجن آئی لینڈ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف مقررہ مہلت کے دوران اپیل نہ کرے یا اگر اپیل دائر کرے مگر ہار جائے۔تاہم حالیہ عدالتی فیصلہ بھی ایک بڑی کامیابی ہے، کم از کم پاکستان کو نفسیاتی برتری حاصل ہو گئی ہے، دباؤسے نکل گیا ہے۔اپیل میں جیت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ہارنے والے فریق کو عدالتی فیصلے کو قانونی اعتبار سے غلط،کمزور اور غیر معیاری ثابت کرنا پڑتا ہے،اور عموماً ہائی کورٹ فیصلے اپیل میں بحال رہتے ہیں،تاوقتیکہ کسی بڑی قانونی غلطی کی نشاندہی نہ کی جائے۔اس لحاظ سے اصل حقیقت اپیل مسترد ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔ اس دوران بلوچستان کے وسائل کو لٹیروں سے بچانے کے لئے عوام دوست حلقوں، قانونی ماہرین اور قوم پرست سیاسی جماعتوں کو مناسب قانونی پلان تیار کر لینا چاہیے تاکہ ریکوڈک کاپر اینڈ گولڈ پراجیکٹ سے سونا اور چاندی چوری کرکے بیرون ملک بھیجنے کی راہ روکی جائے۔بلوچستان کے قیمتی معدنی وسائل کا تحفظ صرف نعرے بازی سے ممکن نہیں۔ اس کے لئے تمام باشعور شہریوں کو اپنی آنکھیں کھلی رکھنے اور اس امر کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ کسی غیرملکی کمپنی سے کئے جانے والے معاہدے کو انتہائی باریک بینی اور بھرپور توجہ سے پڑھا جائے۔ یاد رہے کہ اس ضمن میں صوبائی حکومت کو اس حوالے سے باخبر رکھنا وفاق کی آئینی ذمہ داری ہے۔معدنی وسائل صوبائی ملکیت ہیں اور صوبے کو نظر انداز کرن صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب صوبائی حکومت اپنے حقوق سے جان بوجھ کر دست بردار ہوجائے یا ماضی کے حکمرانوں کی طرح خاموشی سے مک مکا کر لے۔یہ حقیقت ایک لمحے کے لئے بھی فراموش نہ کی جائے کہ سیندک کاپر اینڈ گولڈ پراجیکٹ کے معاہدے میں جو غلطی سیندک پراجیکٹ معاہدے میں ہوئی اس کا نقصان ناقابل معافی ہے۔عوام کو خوشیوں سے محروم کرنا ایک بھیانک جرم ہے۔سابق صوبائی وزیر خزانہ اور سابق صوبائی سیکرٹری خزانہ نے دو یونین کونسلوں (خالق آباد اورمچھ) کے 2ارب25کروڑ روپے کسی غیر ملکی کمپنی کے ساتھ سازباز کرکے یا وفاق کے بدنیت اور کرپٹ افسران کو کمیشن دینے کے لئے نہیں چرائے تھے بلکہ یہ ساری رقم ان دونوں ذمہ عہدیداروں نے حد درجہ بے شرمی،ڈھٹائی اور مجرمانہ جذبے سے مغلوب ہوکرصرف اپنے لئے لوٹی۔ صوبائی وزیر کا جرم بیوروکریٹ کے جرم سے زیادہ سنگین ہے،وہ عوام کو حقوق دلانے کا نعرہ لگا کر اقتدار تک پہنچتا ہے اسے اس کے جرم کے مقابلے میں کم سزا دی گئی ہے۔اگر مجرمان میں سے کوئی ایک یادونوں نظر ثانی کی اپیل کریں تو متعلقہ عدالت سزا میں اضافے والے آپشن پر ضرور غور کرے تاکہ غریب عوام تک فنڈز پہنچ سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں