وزیراعلیٰ خود ایوان میں نہیں آتے ,حکومتی ارکان کاروائی کو سنجیدیگی سےنہیں لیتے،اپوزیشن کو زیادہ وقت اور سوشل میڈیا پر کوریج ملتی ہے،اسپیکر کا جام کمال کو خط

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے اسپیکر کو لکھے گئے خط کے جواب میں اسپیکر میر عبدالقدو س بزنجو نے وزیراعلیٰ جام کمال خان کو حکومت کی جانب سے اسمبلی کی کاروائی کو سنجیدہ نہ لینے پر کھری کھری سنا دیں،اسپیکر کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ خود ایوان میں نہیں آتے اور نہ ہی حکومتی ارکان کاروائی کو سنجیدیگی سے لیتے ہیں جسکی وجہ سے اپوزیشن کو زیادہ بات کرنے کا موقع اور سوشل میڈیا پر کوریج ملتی ہے، اسپیکر بلوچستان اسمبلی کی جانب سے وزیراعلیٰ بلوچستان جا م کمال خان کو خط لکھا گیا ہے جس کے متن میں اسپیکر میر عبدالقدو س بزنجو نے وزیراعلیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکے 9مئی کو لکھے گئے خط پر غیر جانبدار تجزیہ کیا جائے تو حقائق اس کے برعکس ہیں حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں، خط کے متن میں لکھا گیا ہے کہ بطور اسپیکر میر ی ذمہ داری حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ہر رکن اسمبلی کے حقوق اور استحقا ق کا دفاع کرنا ہے جسے مد نظر رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ کو اپنا مشاہدہ بتانے میں احتیاط برتنی چاہیے تھی اور انہیں حکومتی ارکان کی جانب سے اپوزیشن ارکان کو مطمئن کو منطق اور کارکردگی سے مطمئن نہ کر پانے پر انکا احتساب کرنا چاہیے تھا اسپیکر نے لکھا کہ اسپیکر کو حکومت اور اپوزیشن ارکان کو برابر وقت دینا ہوتا ہے لیکن اپوزیشن ارکان اپنی باری کا مکمل فائدہ اٹھاتے ہیں جبکہ اگر حکومتی ارکان اسمبلی کی کاروائی کو سنجیدیگی سے نہیں لیتے تو اس میں میر ا قصور نہیں ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کی تاریخ میں کبھی حکومتی ارکان کی طرف سے کورم کی نشاندہی نہیں کی گئی موجودہ حکومتی ارکان کیجانب سے متعدد بار کورم کی نشاندہی بدقسمت اور حیران کن فعل ہے اسپیکر نے لکھا کہ بلوچستان اسمبلی کے اجلاسوں کے دوران اسمبلی کے باہر مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے اپنے حقوق کے لئے اس امید کے ساتھ احتجاج کیا جاتا ہے کہ انکی بات سنی جائیگی اپوزیشن ارکان ایسے احتجاجوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایوان میں آواز اٹھاتے ہیں لیکن حکومتی ارکان کبھی بھی اپوزیشن کی حکمت عملی کو زیر کرنے یا جواز پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے جس سے وزیراعلیٰ کی حکومت کو عجیب صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے،اسپیکر نے کہا کہ حکومتی ارکان کی اسمبلی کی کاروائی میں عدم دلچسپی کسی حد تک وزیراعلیٰ کی اسمبلی اجلاسوں سے مسلسل غیر حاضری بھی ہے جس پر میری تجویز ہے کہ وہ مستقبل کے اجلاسوں میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں تا کہ حکومتی ارکان وزیراعلیٰ سے متاثر ہوکر خود با خود اسمبلی کے اجلاسوں میں سنجیدیگی سے حصہ لینے کے ساتھ ساتھ حکومتی پالیسیوں کا دفاع کریں،اسپیکر نے خط کے متن میں کہا کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹوں کے متعلق کہا گیا کہ انکی سفارشات اور مشورے بہتر نہیں ہوتے وزیراعلیٰ کے قانون سازی سے متعلق تحفظات قابل ستائش ہیں لیکن حکومت کے کم و بیش تمام بل قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کرنے سے استثنی قرار دینے کی تحاریک کے ساتھ پیش کئے جاتے ہیں گزشتہ سیشن میں میرے اصرار پر محکمہ لیبر اینڈ مین پاور کے چار قوانین قائمہ کمیٹی کے سپرد کئے گئے بصورت دیگر وہ کمیٹی کی آراء کے بغیر ہی پاس کردئیے جاتے اسپیکر نے کہا کہ اگر حکومت کی اپنی کاروائی کمیٹی کو ریفر نہیں کی جاتی تو اس بات کی امید نہیں رکھنی چاہیے کہ کمیٹیوں کو فعال کیا جائے اسپیکر نے لکھا کہ اسمبلی کے عملے کو اس بات سے بھی مشکل درپیش آتی ہے کہ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں حکومتی ارکان کو بار ہاں بلانے کے باوجود بھی وہ اجلاسوں میں نہیں آتے انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹیں ہمیشہ معقول سفارشات کے ساتھ پیش ہوتی ہیں مگر حکومت کی جانب سے ان پر عملدآمد نہیں ہوتا حتی تاکہ جن کمیٹیوں کے چیئر مین حکومتی ارکان ہیں ان کی بھی سفارشات کو سنجیدہ نہیں لیا جاتا ایسی صورتحال میں کمیٹیوں کے سسٹم کو مورود الزام ٹھہرانا درست نہیں ہے اگر آپکو کسی بھی قائمہ کمیٹی کی رپورٹ چاہیے تو میں سیکرٹری اسمبلی کو ہدایت کرونگا کہ وہ کسی بھی وقت آپکو رپورٹ فراہم کریں اسپیکر نے لکھا کہ نہ صرف حکومتی ارکان بلکہ چیف سیکرٹری، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری، انتظامی محکموں کے سیکرٹریز بھی پارلیمانی کاروائی کو سنجیدیگی سے نہیں لیتے چیف سیکرٹری، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری، انتظامی محکموں کے سیکرٹریز کو کئی مرتبہ ایوان میں موجودگی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی مگر اس پر عمل نہیں ہوا اسپیکر نے وزیراعلیٰ کو تجویز دی کہ وہ اس بات کو سمجھیں کہ اپوزیشن کو سوشل میڈیا پر کیوں زیادہ دیکھا اور سنا جاتا ہے اسکی وجہ یہی ہے کہ حکو مت کی جانب سے سوالات کے بروقت جوابات نہیں دئیے جاتے جو انہیں یہ موقع دیتے ہیں کہ وہ بات کریں تمام وزراء اور سیکرٹریز کو کئی مرتبہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اسمبلی قوائد 34کے تحت بروقت جوابات جمع کروائیں لیکن اس کا کوئی مثبت جواب نہیں ملا وزراء، مشیران، پارلیمانی سیکرٹریز سپلیمنٹر ی سوالات کے معقول جوابات تک نہیں دیتے جس پر اپوزیشن ارکان باری سے ہٹ کر تقاریر کرتے ہیں اور ایوان میں زیادہ وقت لیتے ہیں۔اسپیکر نے کہا کہ اسمبلی کے قائدہ 233کے تحت کوئی بھی رکن اسمبلی کے انضباط کار میں ترامیم تجویز کر سکتا ہے لیکن آج تک کسی بھی رکن کی جانب سے بہتری کے لئے تجاویز پیش نہیں کی گئیں اسپیکر کا اس سلسلے میں کردار صرف سہولت کاری تک محدود ہے جبکہ ایوان میں اکثریت میں ہوتے ہوئے حکومتی ارکان ایسی ترامیم متعارف کروائیں جو حکومت بہتر سمجھتی ہے انہوں نے کہا کہ بطور ایوان کے کسٹوڈین کے میں اپنا آئینی کردارغیر جانبدار نہ طور پر ادا کرتا رہونگا

اپنا تبصرہ بھیجیں