قومی اسمبلی ہنگامہ پر رنجیدہ ہوں حکومتی ارکان نے اپوزیشن والا کام کیا دنیا میں جگ ہنسائی ہوئی، عمران خان

اسلام آباد : قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت تقریباً 2گھنٹے تاخیر سے شروع ہوا، شہباز شریف اور بلاول بھٹو جب ایوان میں آئے تو اپوزیشن ارکان نے ڈیسک بجا کر اور نعرے لگا کر ا ن کا استقبال کیا۔ سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ 14اور 15جون کو جو ایوان میں ہوا،افسوسناک ہے، جن ارکان نے غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کئے اور غیر پارلیمانی رویہ استعما ل کیا اس سے پارلیمنٹ کی تضحیک ہو ئی، اس حوالے سے تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنائی جا رہی ہے، اس کی تجویز مسلم لیگ (ن) کے راہنمارانا تنویر حسین نے دی تھی،کمیٹی کے لئے اپوزیشن اپنے نام دے، جن لوگوں نے پارلیمانی ارکان نے روایات کو مسخ کیا ہے، ان کے خلاف جو کمیٹی سفارش دے گی،اس پر عمل کروں گا، اگر اس حوالے سے رولز میں کوئی کمی ہے تو اس کو بھی پارلیمانی کمیٹی دیکھ لے، اجلاس اس وقت تک نہیں شروع کروں گا جب تک حکومت اور اپوزیشن معاملات پر اتفاق نہیں کرتے۔سپیکر نے حکومت اور اپوزیشن ارکان دونوں کو کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کیلئے اپنے نام دیں، سپیکر نے مشاورت کیلئے اجلاس کی کارروائی ملتوی کر دی، اس دوران اپوزیشن ارکان نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر شہباز شریف کو تقریر کے لئے فلور دینے کا کہا، وقفہ کے بعد جب دوبارہ اجلاس شروع ہوا تو سپیکر نے شہباز شریف کو تقریر جاری رکھنے کیلئے کہا لیکن وہ اسمبلی میں موجود نہیں تھے، سپیکر نے شہباز شریف کے ایوان میں آنے کا انتظار کیا، اس دوران مرتضی جاوید عباسی نے کہا کہ مجھے پوائنٹ آف آرڈر پر فلور دیں، آپ نے جو لیٹر لکھا ہے یہ غیر قانونی ہے، کوئی ایسا رول نہیں ہے، اس پر بات کرنے دیں، اس دوران شہباز شریف ایوان میں آئے تو اپوزیشن ارکان نے ان کا استقبال کیا، شہباز شریف نے کہا کہ کل ہماری پارلیمانی تاریخ کا سیاہ دن تھا، آپ اس ہاؤس کے کسٹوڈین ہیں، ہاؤس کو قانون کے تحت ہاؤس چلانا ہے، کل عمران نیازی کے حکم پر غلیظ گالیاں دی گئیں، پارلیمنٹ کی روایات کی دھجیاں اڑائی گئیں، بد زبانی کی گئی، ایسے الفاظ بول گئے جو زبان پر لانا مشکل ہے، آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں، سپیکر کا فرض تھا کہ آپ اس طوفان بدتمیزی کو روکتے، اور ایوان کا تقدس کا برقرار رکھتے، بدقسمتی سے آپ نے نہیں روک سکے، یہ ہمارا فیصلہ تھا کہ اگر اپوزیشن کی تقریروں کو امن سے سنا گیا تو ہم بھی قائد ایوان کی تقریر کوامن سے سنیں گے، دو دن گزر گئے جس طرح گالم گلوچ ہوا، اس کو آ پ نے نہیں روکا، جس طرح ماؤں اور بہنوں کو رگیدا گیا، آ پ نے نہیں روکا، جس طرح بد زبانی کی گئی اور غلیظ زبان استعمال کی گئی، آپ نے نہیں روکا۔ اب بھی دھینگا مشتی جاری ہے، کل کو اگر قائد ایوان آئے تو اورپھر اپوزیشن نے اس حوالے سے اس بات کا مظاہرہ نہیں کیا جس کی آ پ کی توقع ہے تو پھر مجھ سے آپ نے نہیں کہنا، اگر آپ اتنے بے بس ہیں تو مجھے افسو س ہے، سپیکر نے کہا کہ میں نے سب کو روکا، میرے لئے سب قابل احترام ہیں، ان کی تقاریر کے دوران حکومتی ارکان نے شور کیا اور چور چور کے نعرے لگائے، مسلم لیگ نون کے حکومت کے خلاف پلے کارڈ اٹھا کر لائے،اپوزیشن ارکان نے یا اللہ نشی سے ہماری جان چھڑا کے پلے کارڈ لہرائے، پی ٹی آئی کے رکن عطاء اللہ نے چور چور کے نعرے لگائے تو مسلم لیگ نون کے رکن کھل داس نے ان کو مکے دکھائے، سپیکر نے ایوان میں صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے سارجنٹ ایٹ آرمز کی اضافی نفری طلب کر رکھی تھی، جس نے حکومتی اور اپوزیشن بینچوں کے درمیان دیوار بنائی تھی اور شہباز شریف کو حصار میں لیا تھا۔شہباز شریف کی تقریر کے دوران حکومتی رکن اکرم چیمہ کو کوئی چیز آنکھوں پر ماری گئی، سپیکر نے کہاکہ جس نے بھی یہ کاروائی کی اس کے خلا ف کاروائی کروں گا،سپیکر نے پوچھا یہ کن نے مارا، حکومتی ارکان نے کہا کہ یہ اپوزیشن کے لوگوں نے ماری ہے، اس پر سپیکر نے اجلاس پندرہ منٹ کے لئے ملتوی کر دیا۔ اس دوران مسلم لیگ (ن) کی رکن مائزہ حمید کی پی ٹی آئی رکن کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی،، پی ٹی آئی کے رکن سیف الرحمان نے بتایا کہاکرم چیمہ کو سینٹائزر کی بوتل ماری گئی ہے۔وقفے کے بعد اجلاس شروع ہوا تو اسپیکر نے کہا کہ میں نے کوشش کی تھی اور میاں شہباز شریف کو بلایا، رانا تنویر حسین کی تجویز پر واقعات کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنانے کیلئے کہا تھا لیکن اپوزیشن اس کیلئے نام نہیں دے رہی ہے، بوتل پھینکنے سے ایک حکومتی رکن زخمی ہوا ہے۔ اس سے افسوس ہوا، دونوں جماعتوں سے درخواست ہے کہ ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کریں اور ایوان کے تقدس کا اخیال رکھیں۔ اس واقعہ کے بعد ایوان کی کاروائی ملتوی کرتا ہوں، انہوں نے اجلا س کی کاروائی بروز جمعرات دن 12بجے تک ملتوی کردی۔قبل ازیں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایوان کے اجلاس میں ہنگامہ آرائی اور غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے والے اراکین پر پابندی عائد کردی۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق اسپیکر اسد قیصر نے ایوان میں ہنگامہ آرائی اور غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے والے اراکین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کے اسمبلی حدود میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ اراکین قومی اسمبلی پر یہ پابندی اگلے احکامات تک جاری رہے گی۔سیکرٹریٹ نے کہا کہ اسپیکر نے اراکین کے خلاف یہ کارروائی قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے تحت کی ہے جن اراکین پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں علی نواز اعوان، عبدالمجید خان، فہیم خان، شیخ روحیل اصغر، علی گوہر خان، چوہدری حامد حمید اور آغا رفیع اللہ شامل ہیں۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے اس سلسلے میں متعلقہ اراکین اور اسمبلی سیکیورٹی کو احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی جانب سے ایوان میں ہنگامہ آرائی اور نازیبا الفاظ استعمال کرنے میں ملوث سات اسمبلی ممبران میں سے دو کے اسمبلی میں موجود ہونے کے بعد سارجنٹ ایٹ آرمز نے اْنہیں ایوان سے باہر نکال دیا۔ممبران قومی اسمبلی کے ایوان داخلے پر پابندی کے بعد مسلم لیگ نون کے شیخ روحیل اصغر اور پیپلز پارٹی کے آغا رفیع اللّٰہ ایوان میں موجود تھے، دونوں اراکین نے اسپیکر کے احکامات ماننے سے منع کرتے ہوئے ایوان سے باہر جانے سے انکار کیا۔اس موقع پر اسمبلی میں تعینات سارجنٹ ایٹ آرمز نے مداخلت کی اور دونوں ممبران کو ایوان سے باہر لے جانے پہنچے، اس صورتحال میں نون لیگ کے چیف ویپ مرتضیٰ جاوید عباسی ارکان کے آگے کھڑے ہوگئے تاہم سارجنٹ ایٹ آرمز نے دونوں ممبران کو ایوان سے باہر نکال دیا۔دریں اثناء اسپیکر قومی اسمبلی نے قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے بجٹ اجلاس کے دوران ایوان کے ماحول کو سازگار رکھنے پر تبادلہ خیال کیا۔ اسد قیصر نے کہاکہ گزشتہ روز ایوان میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات قابل افسوس ہیں، ایوان کے ماحول کو خوشگوار رکھنا حکومت اور اپوزیشن کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہاکہ تمام پارلیمانی لیڈرز بجٹ اجلاس کے دوران ایوان کے ماحول کو خوشگوار رکھنے کے لیے کردار ادا کریں۔ دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری نے آج شہباز شریف سے ملاقات کی اور صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور ملاقات کے بعد شہباز شریف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے واقعے کو قومی اسمبلی میں حکومتی اراکین کے رویے کو پارلیمان کی تاریخ میں سیاہ دن قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی یہاں اظہار یکجہتی کے لیے موجودگی پر ان کا شکر گزار ہوں۔شہباز شریف نے اْمید ظاہر کی کہ آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر مشاورت کی ہے اور اس ضمن میں اپوزیشن مل کر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی اور گزشتہ روز ہونے والے واقعے پر بلاول بھٹو زرداری سے بات ہوئی ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میں یہاں شہباز شریف کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پہنچا ہوں، آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر مشاورت کی ہے اور اس پر مل کر عمل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان وزرا کو بچوں کی طرح ہدایات دے رہے تھے اور واضح تھا کہ عمران خان ملک کی معیشت اور سیاست کو چلانے میں دلچسپی نہیں لے رہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) منصوبہ بندی کریں گی۔حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کا باضابطہ رابطہ ہوا ہے، اسپیکر قومی اسمبلی کی ہدایت پر 4 رکنی کمیٹی نے اپوزیشن ارکان سے ملاقات کی، ملاقات کرنے والوں میں وزیراعظم کے 2 معاونین خصوصی اور 2 اتحادی شامل تھے۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کیچیف وہپ عامر ڈوگر، رکن اسمبلی علی محمد خان نے اپوزیشن سے ملاقات کی، جبکہ خالد مگسی اور اقبال محمد علی بھی اپوزیشن کے ساتھ ملاقات کرنے والوں میں شامل تھے۔حکومتی ٹیم نے اپوزیشن رہنماؤں سے ایوان کی کارروائی آگے بڑھانے کیلئے ضابطہ اخلاق پر گفتگو کی، جس پر اپوزیشن رہنماؤں نے فوری بات چیت آگے بڑھانے سے گریز کیا۔قومی اسمبلی میں حزب اختلاف نے کہا ہے کہ ایوان عمران خان کی قومی اسمبلی میں ہونے والے واقعات پر خاموشی ثابت کرتی ہے کہ یہ ساری ہلڑ بازی عمران خان کے ایماپر ہورہی ہے، سات اراکین پارلیمنٹ کے خلاف جو ایکشن لیا گیا اس کی تشہیر میڈیا کے ذریعے کی گئی، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسپیکر کو ان واقعات کی سنگینی کا اندازہ ہی نہیں۔ یہ بات بدھ کو قومی اسمبلی کے اسپیکر کے نام قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور دیگر حزب اختلاف کے پارلیمانی لیڈران کے لکھے گئے خط میں کی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ سات اراکین پارلیمنٹ کے خلاف جو ایکشن لیا گیا اس کی تشہیر میڈیا کے ذریعے کی گئی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسپیکر کو ان واقعات کی سنگینی کا اندازہ ہی نہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ جب تک اسپیکر سب سے پہلے یہ تعین نہ کرلیں کہ ان واقعات کے ذمہ دار کون تھے حزب اختلاف کو اسپیکر کی غیرجانبداری اور ان کے ایوان کو پارلیمانی روایات کے مطابق چلانے میں ناکامی پر اپوزیشن کو کوئی اعتماد نہیں۔ خط میں 15جون کے ہونے والے واقعات کو بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حزب اختلاف کے خلاف حکومتی اراکین کی جانب سے جو حملہ کیا گیا اس پر اسپیکر نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ یہ شاید دنیا کی پارلیمانی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے جب حکومتی اراکین نے اسپیکر کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور حزب اختلاف پر حملہ کر دیا۔ اسپیکر اس تشدد پر خاموش رہے اور اپوزیشن سے ہونے والی زیادتیوں پر اپنی آنکھیں بند رہیں۔چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سلیکٹرز بھی سلیکٹڈ حکومت اور سلیکٹڈ اسپیکر کے روئیے اور نااہلی پر شرمندہ ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو معیشت، خارجہ پالیسی سمیت دیگر اہم معاملات پر پاکستان کے لئے فیصلے کرتے ہیں۔پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمان کی صورت حال کے حوالے سے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ بد ھ کو بجٹ سیشن کا تیسرا دن بھی ضائع کردیا گیا، اب یہ معاملہ پوری دنیا میں شرمندگی کی وجہ بن رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ سلیکٹرز بھی سلیکٹڈ حکومت اور سلیکٹڈ اسپیکر کے روئیے اور نااہلی پر شرمندہ ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو معیشت، خارجہ پالیسی سمیت دیگر اہم معاملات پر پاکستان کے لئے فیصلے کرتے ہیں۔ادھر ن لیگ کے رہنماء رانا ثناء اللہ نے الزام لگایا ہے کہ عمران خان صدارتی نظام کے لئے سب کچھ کررہے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں