سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے احتجاج پر اپوزیشن تقسیم ہوگئی

کراچی :سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے احتجاج پر اپوزیشن تقسیم ہوگئی ہے، جی ڈی اے نے ایوان میں جمہوریت کا علامتی جنازہ لانے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس قسم کے غیر جمہوری کاموں میں پی ٹی آئی کا ساتھ دینے کو تیار نہیں ہے،اسپیکر کی جانب سے پی ٹی آئی کے آٹھ ارکان پر ایوان میں داخلہ پر پابندی کے باعث اسمبلی کا ماحول کشیدہ رہا، تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی باجماعت ڈھول تاشوں کے ساتھ سندھ اسمبلی پہنچے انہوں نے اسپیکر کے فیصلے کے خلاف ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور اسمبلی کے باہر اور پھر اند ر احتجاجی دھرنا بھی دیا جبکہ فردوس شمیم نقوی نے سندھ اسمبلی کی اپنی نشست سے استعفی دینے کا بھی اعلان کردیا۔ منگل کو سندھ اسمبلی کا اجلاس انتہائی سخت سکیوریٹی اور کشیدہ ماحول میں اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت شروع ہوا۔پی ٹی آئی کے تمام ارکان ڈھول تاشوں کے ساتھ باجماعت سندھ اسمبلی پہنچے تھے، پابندی کا شکار ارکان نے پھولوں کے ہار پہنے ہوئے تھے۔اسمبلی کے مرکزی دروازے پرپی ٹی آئی ارکان نے گو کرپشن گو کے نعرے لگائے،اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ اپنی پارٹی کے ارکان کو لینے مین گیٹ پہنچے تھے جہاں سیکوریٹی کے عملے نے غیر متعلقہ افراد کو اندر داخل ہونے سے روکنے کے لئے اسمبلی بلڈنگ کا مرکزی دروازہ بند کررکھا تھا۔ایوان کی کاروائی کے دوران اسپیکر آغا سراج درانی نے گزشتہ روز پیش آنے والے واقعہ کو انتہائی شرمناک اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ اسمبلی کا مرکزی دروازہ ڈھول تاشوں کو روکنے کے لئے بند کیا گیا ہے،کل ایوان کی بے حرمتی کی گئی،انہوں نے کہا کہ اس قسم کی گھٹیا حرکات مناسب نہیں تھیں۔آغا سراج درانی نے کہا کہ وہ جی ڈی اے اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہمارا ساتھ دیا۔اسپیکر نے کہا کہ اگر آج بھی یہ لوگ گند کرناچاہ رہے ہیں تو سکیورٹی اہلکار گیٹ بند کردیں۔انہوں نے کہا کہ ڈی آئی جی کو بتائیں جو فورس باہر کھڑی ہے وہ گیٹ بند کردے۔ آغا سراج نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کل اتنی بڑی چارپائی لے آئے لوگوں کو گھسٹا گیا،سکیورٹی اہلکاروں کو گالیاں اور دہمکیاں دی گئیں،اسمبلی سکیوریٹی کو دھکے دیئے ہیں خواتین ارکان نے بھی اس عمل کا ساتھ دیا۔اسپیکر نے کہا کہ تیس سال میں کبھی ایسی حرکات نہیں دیکھی ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اسمبلی کی بے حرمتی میں کبھی بھی برداشت نہیں کروں گا۔آغا سراج د رانی نے کہا کہ پی ٹی آئی اراکین نے گیٹ توڑنے کی کوشش جو شرمناک عمل ہے۔اس موقع پر جی ڈی اے کے رکن اسمبلی نند کمار گوکلانی نے کہا کہ جنہوں نے کل یہ حرکت کی وہ بہت بچکانہ اور غیر جمہوری عمل ہے۔ان لوگوں نے کل اپنا جنازہ نکالا ہے،انہوں نے اسمبلی کو ڈی گریڈ کیا ہے،ہم ان کے ساتھ شامل نہیں ہیں۔نند کمار نے کہا کہ ان لوگوں کو دوبارہ اسمبلی میں نہیں آنا ہے جبکہ ہم خاندانی ہیں،اسمبلی کا اپنا ایک تقدس ہوتا ہے۔ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ تحریک لبیک کے مفی قام فخری نے کہا کہ گزشتہ روز کا واقعہ نہیں ہونا چاہیئے تھا۔انہوں نے کہا کہ 2018 میں جو کچھ ہوا ہوا اب اس کے اثرات نمودار ہو رہے ہیں تاہم سندھ اسمبلی کے دروازے بند کرنا غیر آئینی عمل ہے۔ایم ایم کے رکن سید عبدالریشد نے بھی کل کے واقعات کو افسوس ناک قرار دیا اور کہا کہ اس وقت پولیس کا طرز عمل جیالوں جیسا ہے۔سندھ اسمبلی کا مرکزی دروازہ بند ہونے کے باعث سید عبدالرشید اورپی ٹی آئی رکن عدیل احمد سندھ اسمبلی کے گیٹ پر چڑھے اور اسے پھلانگ کے اندر آئے تھے۔ کارروائی کے دوران ایوان میں موجود پی ٹی آئی کے واحد رکن فردوس شمیم نقوی کچھ کہنا چاہتے تھے تاہم اسپیکرنے انہیں بات کرنے سے روک دیا اور کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔آپ لوگوں نے جوطریقہ اختیارکیا وہ ناقابل برداشت ہے۔اس موقع پر فردوس شمیم نقوی نے سندھ اسمبلی کی اپنی نشست سے استعفی دینے کا بھی اعلان کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے اس ایوان میں اپنا کردار ادا کرنے نہیں دیا جارہاہے۔ وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چالہ نے اسپیکر کو بتایا کہ باہر گیٹ پر اسمبلی ملازمین کو گالیاں دی جارہی ہیں اورپی ٹی آئی ارکان نے سندھ اسمبلی مرکزی گیٹ پر دھرنا دے رکھا ہے۔کارروائی کے دوران ٹی ایل پی کے مفتی قاسم فخری نے کہا کہ وہ اسمبلی رولز 2013 میں ترمیم کے لئے ایک نجی بل پیش کرنا چاہتے ہیں جس کے تحت جب اذان کا وقت ہوتو نماز کے لئے 15 منٹ کا وقفہ دیا جائے۔مکیش کمار چاولہ نے اسپیکر سے کہا کہ مجوزہ ترمیم کو ایوان کی متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا جائے۔ایوان میں محکمہ فشریز اینڈ لائیو اسٹاک سے متعلق وقفہ سوالات بھی ارکان کی عدم دلچسپی کے باعث کچھ ہی دیر میں نمٹ گیا۔ سندھ اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعلی کے مشیرجیل اعجازجکھرانی کے گھرپرنیب چھاپے پررکن سندھ اسمبلی میرممتازجکھرانی نے اپنے ایک نکتہ اعتراض پر کہا کہ نیب نے کل چادرچودیواری کی خلاف ورزی کی ہے۔ہمارے سیاسی مخالف وفاقی وزیر محمدمیاں سومرواوران کی والدہ ملیحہ کے کہنے پریہ سب کچھ کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ جیکب آباد قبائلی علاقہ ہے حالات خراب ہوسکتے تھے لیکن ہم نے صبرکیاپہلے بھی حالات اورانتقامی کارروائیوں کامقابلہ کیاہے اب بھی کریں گے۔پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی ذوالفقار شاہ نے اپنے ایک نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک جھوٹی خبر مجھ سے منسوب کی گئی کہ میری شادی ہوگئی ہے۔ جس پر اسپیکر نے ازراہ مذاق کہا کہ آپ پہلی والی سے اجازت لے لیں۔ ذوالفقار شاہ کا کہنا تھا کہ علی رند نے پورے سندھ میں مجھے بدنام کیا۔ میں ان کے خلاف ایف آئی آر سائبر کرائم میں دوں گا۔ایوان کی کارروائی کے دوران اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ لگتا پیپلز پارٹی کا پودا اسکندر مرزا نے لگایا تھا، ایوب خان نے اس گملے کو پانی دیا اور اب یہ طے ہوگیا ہے کہ یہ ڈکٹیٹرز کی اولاد ہیں۔اب کسی میثاق جمہوریت پر عمل نہیں ہورہا بلکہ جمہوریت پر چھری چلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بعدازاں اسپیکر نے سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی دوپہر دو بجے تک ملتوی کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں