10سال تک ہمیں بدترین دہشتگردانہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا، محمود خان اچکزئی
موسیٰ خیل: پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری صوبائی صدر ملی اتل ملی شہید محمد عثمان خان کاکڑ کے شہادت کی المناک استعماری اقدام کے خلاف احتجاجی تحریک، مظاہروں اور جلسوں کا آغاز موسیٰ خیل ہوا۔ پارٹی چیئرمین محمود خان اچکزئی کی قیادت میں موسیٰ خیل کے عوام نے ملی شہید محمد عثمان کاکڑ کی شہادت پر عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ کیا۔جس میں ملی شہید محمد عثمان کاکڑ زندہ آباد اور ملی شہید کے قاتلوں ریاستی دہشتگردان کے نعرے لگائے گئے۔ بعد ازاں احتجاجی جلسہ عام کا انعقاد پارٹی چیئرمین ملی مشر محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت ہوا جس سے شہید عثمان خان کے فرزند ارجمند خوشحال خان کاکڑ، پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رضا محمد رضا، مرکزی وصوبائی سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال، مرکزی سیکرٹری عبید اللہ جان بابت، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری یوسف خان کاکڑ، خیبر پشتونخوا کے رکن صوبائی اسمبلی میر کلام وزیر نے خطاب کیا۔ جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض ضلعی سیکرٹری عید محمد موسیٰ خیل نے سرانجام دیئے۔حافظ حبیب اللہ نے تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی جبکہ مولوی اسماعیل نے پشتو زبان میں خصوصی دعابھی کی۔ جناب محمود خان اچکزئی نے موسیٰ خیل کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ کے وطنپال عوام نے ملی شہید محمد عثمان خان کاکڑ کی شہادت کے حوالے سے ہمارے احتجاجی پروگرام میں بھرپور انداز سے شریک ہوکر اسے کامیاب بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ملی اتل شہید محمد عثمان خان کاکڑ کی شہادت کو ایک عظیم سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے دشمن ہمارے گھروں میں گھس کر ہمارے بچے شہید کرتے ہیں تو اس سے پشتون افغان ملت کو درپیش صورتحال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اس سے قبل 10سال تک ہمیں بدترین دہشتگردانہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس میں ٹینکوں اور طیاروں کے علاوہ ہر قسم کے اسلحہ استعمال ہوئے۔ اس مسلط کردہ جنگ میں 120سے زائد انسانوں کا خون ناحق بہایا گیا اْس کا مقصد بھی یہی تھا جو ملی شہید عثمان خان کاکڑ سے کہا گیا تھا کہ آپ پشتون قومی سیاست کے موقف سے دستبردار ہوجائیں۔ لیکن پشتون قومی تحریک نے تاریخ کے ہر مرحلے میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں ہیں ہر قسم کی مشکلات ومصائب کا مقابلہ کیا ہے لیکن قومی حق کے خودمختاری، جمہوریت، سماجی انصاف اور امن کی جدوجہد کو جاری رکھاہے۔ شہید عثمان کاکڑ کے فقید المثال جنازے کے دن ہم سے عوام کی جانب سے بہت کچھ کہا گیا لیکن ہم نے صبر واستقامت کا مظاہرہ کیا حالانکہ ہم چند گھنٹوں میں حکومت کیلئے بدترین مشکلات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ہم نے خان شہید کے دور سے لیکر اب تک جنگ کے راستے کا انتخاب نہیں کیا ہے۔ افغانستان پر چار دہائیوں سے زائد عرصہ تک جارحیت ومداخلت کی انسانیت سوز جنگ مسلط کی گئی ہے، لاکھوں افغانوں کا بے دریغ خون بہایا گیا ہے اور وسطی پشتونخوا (فاٹا) میں بڑے بڑے قومی مشران اور اہم شخصیات کو بے دردی سے قتل کیا گیا، 1500سے زائد قومی مشران ونمائندگان کی قتل کے علاوہ وزیرستان سے لیکر باجوڑ تک 70ہزار سے زائد لوگوں کا خون بہایا گیا،تمام رہائشی مکانات اور تجارتی مراکز کو مسمار کرکے لاکھوں لوگوں کو اپنے علاقوں سے بیدخل کیاگیااس بدترین صورتحال کا پشتونوں کی کمزوری اور بے غیرتی سے تعبیر کیا گیا۔ لیکن ہم حکمرانوں پر واضح کرتے ہیں کہ پشتون افغان ملت پر دنیا کی کسی بھی بڑی طاقت نے جبر واستبداد کے ہتکھنڈوں سے اقتدار قائم نہیں کیا۔ پاکستان کے حکمران بھی طاقت کے استعمال سے اس غیور ملت کو محکوم نہیں بنا سکتے۔انہوں نے کہا کہ پشتونوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ آپ کے جھگڑوں میں ایک دوسرے کا خون بہاتے رہے ہیں، کل سلیمانخیل مندوخیل اور غبیزئی کے آپس کی خونریزی اور اس سے قبل زیارت میں خونریزی ہمارے سامنے ہیں اگر پشتون افغان ملت آپ کی لڑائیوں کی بجائے قتل ہونیوالے افراد کا نصف بھی اپنے وطن اور اپنی قومی بقاء کیلئے قربان کرتے تو آج ان کی محکومی اور تباہ حالی کی صورتحال اتنی اذیت ناک نہ ہوتی۔ ہماری آپس کی دشمنی کے باعث دشمنوں نے ہمارے وطن کو محکوم بناکر ہمیں تقسیم رکھ کر ہمارے اقتدار اور قومی وسائل پر غاصبانہ قبضہ جمایاہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآنی تعلیمات، ملکی آئین اور عالمی اصولوں کے مطابق ہمارے قومی وسائل پر سب سے اولین حق ہمارا ہے لیکن دریاؤں، جنگلات، معدنیات اور ہماری افرادی قوت کی حاصلات سے اغیار استفادہ کرتے رہے ہیں اور ہم ناداری اور تباہ حالی کی شب وروز گزارنے پر مجبور ہیں۔ پشتون افغان ملت کو محکومی وغلامی کی اس صورتحال کو تبدیل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان اور افغان حکومت کے مابین جاری خونریزی تمام حدود سے تجاوز کرگئی ہیں اس انسانیت سوز اور افغان کشی کی جنگ کا خاتمہ تمام افغانوں کا اولین قومی اور دینی فریضہ ہے۔ ہم افغان حکومت اور طالبان سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ افغانستان میں امن کے قیام کو ممکن بنانے مین اپنا کردار ادا رکریں۔ جب پاکستان میں مولانا فضل الرحمن الیکشن کے ذریعے اپنے عوام کی نمائندگی کرسکتے ہیں تو طالبان بھی عوام کے ووٹ اور جمہوری طریقے سے افغانستان کے حکمران بن سکتے ہیں۔ افغانستان میں امن کا قیام اقوام متحدہ کے سیکورٹی کونسل کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتون قومی تحریک نے پاکستان میں آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنے قومی حقوق واختیارات کے حصول کو ترجیح دی ہے اگر ہمارے خلاف استعماری اور جابرانہ اقدامات کا خاتمہ نہ کیا گیا تو نتائج کی ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوگی۔انہوں نے کہا کہ آئین وقانون کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی بالادستی پر عملدرآمدکرنے سے ملک کے تمام بحرانوں کا خاتمہ ممکن ہوسکتا ہے۔ ملی اتل شہید محمد عثمان کاکڑ کے فرزند ارجمند نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میر ے والد نے اپنی تمام زندگی پشتون افغان غیور ملت کیلئے وقف کی تھی انہوں نے خان شہید کے راستے کا انتخاب کرکے اپنی زندگی کو قومی نجات کی راہ میں قربان کیا شروع میں تو ہمیں ان کی شہادت کے سانحہ کا بہت صدمہ ہوا لیکن پشتون افغان ملت ملک کے محکوم اقوام اور 22کروڑ عوام، افغانستان، خطے اور دنیا کے لوگوں نے ہمارے والد کو عظیم ملی شہید کی حیثیت سے جس محبت اور احترام کے ساتھ ان کی قربانیوں پر جس انداز سے شاندار خراج عقیدت پیش کیا تو اس سے ہمارا اور ہمارے خاندان کے حوصلہ اور ہمت بڑھا ہے۔ ملی شہید عثمان خان نے پشتونوں کی قومی حق حاکمیت،عوام کی جمہوری اقتدار، قوموں کی برابری، ملک میں قوموں اور عوام کی جمہوری حکمرانی کا قیام، آئین وقانون کی بالادستی اور آزاد جمہوری افغانستان میں امن کا قیام اور پشتون غیور ملت کی خوشحال ترقی یافتہ اور پر امن مستقبل کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا تھا۔ ان کی شہادت پر پشتون قوم کے علاوہ ملک کے قوموں اور عوام نے جتنا آنسو بہایا اْس سے ثابت ہوا کہ ہمارے والد صرف ہمارا نہیں ان سب کا بھائی اور ساتھی تھے۔ ان کو اپنے محبوب وطن اور اپنے غیور ملت سے جنون کے حد تک محبت تھی اور اپنے قوم اور وطن کی خاطر اپنی جان کی قربانی کو وہ افتخار تصور کرتے تھے۔ وہ خان شہیدعبدالصمد خان اچکزئی سے از حد متاثر تھے انہوں نے ارواشاد عبدالرحیم مندوخیل جیسے عظیم استاد سے سیاسی تربیت حاصل کی تھی اور محترم محمودخان اچکزئی کی قیادت میں پشتونوں کی قومی نجات کی راہ میں پر افتخار جدوجہد کرتے ہوئے جام شہادت نوش کی۔ ان کی شہادت کے ذمہ دار بدنام زمانہ ریاستی اداروں کی نشاندہی انہوں نے اپنی زندگی میں کی تھی اگر استعماری ریاست کی ان دہشتگرد اداروں کا خیال ان کو شہید کرکے گم نام کھاتے میں ڈالنا تھا تو وہ اس استعماری مقصد میں بدترین طور پر ناکام ہوئے۔ ہمارا لالا ملک خطے اور دنیا کے اقوام وعوام کی تمام وطن دوست انسانیت دوست اور امن پسند قوتوں کا عظیم ملی شہید کا مقام حاصل کرچکے ہیں جو ہمارے لیئے باعث افتخار ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں قومی تحریک کو متحد ومنظم کرنے اور اپنی قومی سیاسی پارٹی پشتونخواملی عوامی پارٹی کو اپنی قومی محکومی کا اہم ترین وسیلہ اور پشتون افغان غیور ملت کا سب سے بڑا سرمایہ بنانے میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ پشتونخوامیپ اور پشتون افغان وطن کی تمام وطن پال جمہوری قوتوں کو لالا عثمان شہید کی ارمانوں کی تکمیل کی راہ میں قومی نجات کی جدوجہد کو تیز کرنا ہوگا۔ اور پشتونخوامیپ کے تنظیمی صلاحیتوں اور سیاسی تعلیم وتربیت اور ڈسپلن کو بہتر بنانا ہوگا۔


