ترقی اور خوشحالی
پاکستان کے عوام کی دلی خواہش ہے کہ انہیں، بھوک، افلاس، بیماری، جہالت اور بیروزگاری سے نجات حاصل کریں۔لیکن ان کی خواہش کوابھی تک عملی تعبیر نہیں ملی۔جمہوریت اور آمریت دونوں ادوار میں انہیں دکھوں کے سواکچھ نہیں ملا۔دکھ برقرار رہے۔اس کی بنیادی وجہ سماجی دانشور ابھی تک تلاش کر رہے ہیں، مگرتاحال کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے۔ تیسری نسل جوان ہوکر غربت اور جہالت کا بوجھ اٹھنے کے لئے میدان میں اتر چکی ہے۔سوال یہ ہے کہ انہیں اس غربت اور جہالت میں کس نے دھکیلا اورباہر کون نکالے گا؟سادہ اور بے ضرر سا جواب ہے،ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اپنے عوام کو مناسب غذا کی فراہمی، علاج معالجے کی سہولت،وقتی تقاضوں کے مطابق تعلیم و تربیت، رہائش اورروزگار کے مواقع فراہم کرے۔ مگر ریاست کسی خلائی مخلوق کا نام نہیں۔اس کی پہلی شرط ہے کہ لوگوں کی اپنا دفاع کرنے کے قابل تعداد طویل عرصے سے زمین کے معقول حصے پر آباد ہو، ان کی اپنی انتظامیہ، اورمقننہ ہو، اور کسی بیرونی طاقت کے زیر تسلط نہ ہوں۔ریاست قلات کی جانب سے محمد علی جناح کوان کے وزن کے برابر سونا انعام یا جذبہ خیرسگالی کے تحت پیش کیا گیا۔تاریخ کے ریکارڈ پر یہ بھی موجود ہے کہمحمد علی جناح ریاست قلات کی جانب سے وکیل تھے۔ بلوچستان کا ایک حصہ تاج برطانیہ کے زیر تسلط بھی تسلیم کیا جاتا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد حالات اس تیزی سے گڈ مڈ ہوئے کہ آج تک سمجھ نہیں آ سکے۔شمال سرحدی علاقہ جات میں پختونوں نے ریفرنڈم کرایا، جبکہ بلوچستان میں اس حوالے سے کوئی واضح اور فیصلہ کن اقدامات نظر نہیں آتے، اسی لئے دوٹوک الفاظ میں کچھ کہنا آسان نہیں۔تاریخ میں کسی وجہ سے تسلسل ٹوٹ جائے، اکثریت خاموش ہو کر گھروں بیٹھ جائے تو پھر وہی کچھ ہوا کرتا ہے جو بلوچستان میں نظر آتا ہے۔افغان طالبان کہہ رہے ہیں:”ہم چاہیں توایک ہفتے میں مکمل قبضہ کر سکتے ہیں،85فیصد علاقہ ہمارے قبضے میں ہے“۔امریکی صدر جو بائیڈن نیویارک میں اعتراف کرتے ہیں:”افغان طالبان آج2001 کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہیں“۔یاد رہے ہمیشہ طاقت ور فریق معاہدہ ڈکٹیٹ کرتا ہے، کمزور فریق ڈکٹیشن لیتا ہے۔ افغان طالبان نے میدان میں اپنی طاقت منوائی اس لئے امریکی صدر بلا جھجک ہر تقریب میں اعتراف کرتے ہیں۔زمینی حقائق خود کو منوا لیا کرتے ہیں۔روس 1989 میں افغانستان سے نکلا، مگر زمینی حقائق آج تک تسلیم کرتا ہے،افغان طالبان کے ساتھ کھڑا ہے بلکہ اس نے ماسکو میں 2015میں اس جامع مسجد پر کروڑوں ڈالر خرچ کرکے از سرنو تزئین و آرائش کی اور اس قابل بنایا جہاں آج10ہزار مسلمان باجماعت نماز ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے یہ مسجد 1917 کے انقلاب کے بعد ویران ہوگئی تھی،یہاں پہلے اصطبل قائم کئے گئے اور ریسٹورنٹ کے طور پر زیر استعمال رہی، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ زمینی حقائق کے برعکس دعوے ہوا میں تحلیل ہوجاتے ہیں۔ تاریخ اپنا فیصلہ سناتے وقت یہ نہیں دیکھتی کس کی دلآزاری ہوگی اور کون مسکرائے گا۔دنیا کی فطرت ہے،جیتنے والے کا ساتھ دیتی ہے، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔جنوبی افریقہ کے عظیم ہیرو نیلسن منڈیلانے گوروں کی برتری کے تمام دعوے خاک میں روند ڈالے۔تاریخ تبدیل ہوتی رہتی ہے، جغرافیہ بھی بدلتا رہتا ہے،لیکن فطرت کا اٹل قانون ہے،تبدیلی کی شرائط پوری کئے بغیر تبدیلی ر ونما نہیں ہوتی۔ اس کے لئے مرثیئے، اور نوحے کام نہیں آتے نہ ہی قصیدہ خوانی سے یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ بھوک، افلاس، بیماری، جہالت اور بیروزگاری چاروں صوبوں کے عوام کا مشترکہ مسئلہ ہے، اس کے خاتمے کے لئے مشترکہ حکمت عملی بنانا ہوگی۔اعلیٰ مقاصد سامنے رکھے بغیر، عوام کی اکثریت کو اپنا ہمنوا بنائے بغیر، کسی تھانے میں کچھ دن اور کچھ راتیں گذار کر کوئی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی۔ آج بلوچستان پر ایک خاندان کی تیسری نسل وزیراعلیٰ ہاؤس میں اختیارات کی مالک ہے، اوربلوچ عوام کی تیسری نسل بھوک، افلاس، بیماری، جہالت اور بیروزگاری کے مسائل کاشکار ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجا سکتا کہ بلوچستان کا وزیر اعلیٰ ہمیشہ بلوچ سردار رہا ہے، سوائے ڈاکٹر عبدالمالک کے۔یاد رہے جعلی ڈومیسائل استعمال کئے بغیرایک بھی غیر بلوچ کسی اعلیٰ عہدے تک نہیں پہنچا، (جسٹس چوہدری افتخار محمد اورجسٹس جاوید اقبال زندہ مثالیں ہیں)، جعلی ڈومیسائل جاری کئے جانے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔بلدیاتی فنڈز کھانے والے سزایافتہ سیکرٹری خزانہ بلوچ ہے۔ 2ارب25کروڑ فنڈ ان کی جیبوں سے نکلوایا گیا ہے۔یہ پہلو بھی آنکھوں کے سامنے رہے کہ کل رقم2ارب34کروڑ روپے تھی۔کھانے والوں نے 97فیصد رقم کھا لی تھی۔ عوام کی بدحالی کے اصل مجرم ایسے ہی کردار ہیں۔حیدرآباد دکن میں انہیں میر صادق کہا جاتا ہے، بنگال میں یہ میر جعفر کہلاتے ہیں۔پنجاب میں دولتانے اور ٹو انے ہیں۔بلوچستان میں بھی ایسے بدکرداروں کی فہرست مرتب کر نے کی ضرورت ہے۔مجرم بے نقاب نہ کئے گئے تو یہ خطرہ غریب عوام کے سرپر ہمیشہ موجود رہے گا کہ کوئی مجرم اپنے چہرے پر خوبصورت نقاب سجائے عوامی وسائل کی لوٹ مار کرسکتا ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ عوام کے بنیادی وسائل(بھوک، افلاس، بیماری، جہالت اور بیروزگاری) دنیا بھر میں عوام کے حقیقی نمائندوں نے حل کئے ہیں۔خود غرض لٹیروں نے ہر جگہ موقع ملتے ہی صرف اور صرف لوٹ مار کی ہے، اپنی جیبیں بھری ہیں۔عوام کو تاریخی شعور دیئے بغیر اگر کوئی مبصر، تجزیہ کار اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ انہی چوروں میں سے کوئی چور ایک دن ان کا نجات دہندہ بن کر ابھرے گا،اسے یاد دلایا جائے؛ تین نسلوں میں ایسا نہیں ہوا، اور اس سے یہ بھی پوچھا جائے مزید کتنی نسلوں کو اس ہیرو کا انتظار کرنا ہوگا؟جو انہی چوروں میں چھپا بیٹھا ہے!


