بھارت نے قندھار سے ’سفارتی عملہ‘ واپس بلا لیا
بھارت نے افغانستان میں طالبان جنگجوؤں کے بڑھتے ہوئے کنٹرول کے پیش نظر قندھار میں اپنے قونصل خانے سے ’عارضی‘ طور پر عملے کو واپس بلا لیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق بھارت کی وزارت خارجہ کے چیف ترجمان اریندم باغچی نے ایک بیان میں کہا کہ قندھار شہر کے قریب شدید لڑائی کے سبب بھارتی عملے کو فی الحال واپس لایا گیا ہے۔
علاوہ ازیں بھارت کے وزیر خارجہ نے تشدد میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ زدہ ملک کی صورتحال کا براہ راست اثر علاقائی سلامتی پر پڑتا ہے۔
واضح رہے کہ طالبان نے صوبہ قندوز کے نواح میں شدید لڑائی کے بعد شہر پر کنٹرول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
اپریل کے وسط میں امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے اعلان کے بعد طالبان نے پورے ملک میں پیش قدمی کی ہے۔
انہوں نے حال ہی میں کئی اضلاع کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور اکثر لڑے بغیر ان کے قبضے میں آگئے، گزشتہ ایک ہفتے کے دوران انہوں نے تاجکستان، ازبکستان اور ایران کے ساتھ سرحدی گزرگاہوں پر قبضہ کر لیا۔
تاہم روس کے دارالحکومت ماسکو میں پریس کانفرنس کے موقع پر طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ صوبائی دارالحکومتوں پر حملہ یا زبردستی قبضہ نہیں کریں گے اور افغانستان کی قیادت کے ساتھ سیاسی حل کی امید ظاہر کی۔


