فیصلہ پنجشیر میں ہوگا؟
پہلے دنیا کابل کی طرف دیکھ رہی تھی،صدراشرف غنی کی حکومت طالبان کے خلاف مزاحمت کرے گی،مگر اشرف غنی بقول ان کے ملک میں خونریزی سے بچنے کے لئے وہ بیرون ملک روانہ ہو گئے۔چنانچہ کسی مزاحمت کے بغیر افغان طالبان صدارتی محل میں داخل ہوگئے اور آج کل اپنی وسیع البنیاد حکومت تشکیل دینے کے لئے افغانستان کے بااثر افراد سے رابطوں میں مصروف ہیں۔لیکن ابھی یہ کام پایہئ تکمیل کو نہیں پہنچا تھا کہ وایئ پنجشیر سے مزاحمت کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئیں۔ان میں سب سے توانا آواز احمد ولی مسعود کی ہے جو احمد شاہ مسعود کے صاحبزادے ہیں۔عرب میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں کہا ہے کہ پنجشیر طالبان کے حوالے نہیں کیاجائے گا۔طالبان نے قبضے کی کوشش کی تو مزاحمتی جنگجو لڑنے کے لئے تیار ہیں۔احمد شاہ مسعود کا بیٹا ہوں، ”سرنڈر“ کا لفظ میری لغت میں نہیں۔لڑنے کے لئے تیار ہیں۔سوویت یونین کا مقابلہ کیا ہے، طالبان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ وادیئ پنجشیر ان چند علاقوں میں سے ایک ہے جہاں افغان طالبان کا کنٹرول نہیں۔میڈیا اطلاعات کے مطابق افغان طالبان نے بھی اپنے جنگجو دستے وادیئ پنجشیر کی جانب روانہ کر دیئے ہیں۔ تاہم اس دوران میڈیا کے ذریعے ایسی خبریں بھی مل رہی ہیں کہ احمد مسعود نے امید ظاہر کی تھی کہ کابل پر قبضہ کرنے والوں کے ساتھ پر امن مذاکرات ہوں گے،طالبان فورسز ابھی تک پنجشیر سے باہر ہیں، اگر حملہ کیا گیاتو ہم لڑنے کے لئے تیار ہیں۔وہ کسی بھی مطلق العنان حکومت کے خلاف مزاحمت کریں گے۔انہوں نے بین الاقوامی برادری سے بھی کہا ہے کہ مطلق العنان حکومت کو تسلیم نہ کیا جائے۔”وسیع البنیاد حکومت“ سے احمد مسعود کی مراد ایک ایسی حکومت ہے جس میں افغانستان کے تمام نسلی گروہوں کی نمائندگی ہو۔دوسری جانب افغان طالبان بھی اسی مؤقف کے حامی ہیں،انہوں نے حکموت سازی میں کسی عجلت کا مظاہرہ نہیں کیا، تمام اہم سیاسی، عسکری اور لسانی گروہوں سے رابطہ کر رہے ہیں، ان کی بھی یہی خواہش ہے کہ ملک میں خانہ جنگی نہ ہو،سب مل کر ملک اور عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کام کریں۔ایسی فضاء میں توقع کی جانی چاہیئے کہ افغان قیادت (بشمول شمالی اتحاد)ماضی کے مقابلے میں بہتر حکمت عملی اپنائے گی۔انہوں نے اپنے چار دہائیوں پر محیط طویل تجربات سے اتنا ضرورسیکھا ہوگا کہ جنگ مسائل کو حل نہیں کرتی بلکہ نئے مسائل کو جنم دیتی ہے۔امریکہ جیسی عالمی قوت نے بھی 20سال اپنا تمام گولہ بارود افغانستان پر برسانے کے بعد اسی نتیجہ پر پہنچی ہے کہ گولہ بارود صرف انسانی جسم گراسکتا ہے، فکر اور جذبے کو زیر نہیں کر سکتا۔ فریقین کی کوشش ہونی چاہیئے کہ خانہ جنگی نہ ہو، اورباہمی مذاکرات نتیجہ خیز ہوں۔افغان عوام کی دلی خواہش امن کاقیام ہے،فریقین ذاتی اناکی بجائے وسیع تر قومی مفاد کو سامنے رکھیں،ایک ایسا معاہدہ کرنے کی کوشش کریں جوافغانستان میں دیرپا امن کی ضمانت دے سکے۔ افغان عوام چار دہائیوں سے ہمسایہ ممالک میں پناہ گزین ہیں، تکلیف دہ زندگی بسر کر رہے ہیں، وہ اپنے گھروں میں گزاری آرام دہ زندگی کوبھی بھولتے جارہے ہیں، کچرا جمع کرکے اس جمع کردہ کچرے کے بیگ سے ٹیک لگا کر سو جاتے ہیں تاکہ کوئی دوسرا نہ چرا لے۔اور فجر کی اذان ہوتے ہی دوبارہ کچرے کے ڈھیر پر پہنچ جاتے ہیں۔ان کے شب و روز کچریکے گرد گھومتے ہیں، انہوں نے اس کے سوا کچھ دیکھا ہی نہیں۔ان میں سے بعض اپنے گھروں کو واپسی سے بھی مایوس ہو چکے ہیں۔انہوں نے اس در بدری سے ایک خاموش سمجھوتہ کرلیا ہے۔ انہیں اس تکلیف دہ مایوسی سے نجات دلانا افغانستان میں متحارب گروہوں کی اخلاقی، سیای اور قومی ذمہ داری ہے۔اقتدار میں شراکت کی خواہش اتنی غالب نہ ہوجائے کہ غیر ممالک میں آباد اپنے لاکھوں پناہ گزین افغان بھائیوں کو بھول جائیں جو اپنے گھروں میں بسنے کی اب بھی امید رکھتے ہیں۔در بدری ایک عذاب ہے،اس عذاب کے کرب سے وہی واقف ہے جو اس کا نشانہ بنتا ہے۔ تماشائی اس کرب کی شدت و حدت سے بے خبر ہیں۔افغان قیادت،خواہ اس کا تعلق کسی بھی لسانی گروہ سے ہو، بیرون ملک آبادافغانیوں کے اس کرب کوہرگز نظر انداز نہ کرے۔ موجودہ منظر کو اس لحاظ سے خوش آئند کہا جا سکتا ہے کہ فیصلہ کن جنگ پنجشیر وادی کے ایک محدود علاقے میں لڑی جائے گی۔ملک کا بہت بڑا حصہ جنگ سے براہ راست متأثر نہیں ہوگا۔معمولاتِ زندگی کسی بڑی رکاوٹ کے بغیر چلتے رہیں گے۔اغلب امکان ہے کہ جنگ طول نہیں پکڑے گی، جلد ہی فریقین مذاکرات کی اہمیت جان لیں گے۔ وسیع علاقے پر پھیلی جنگ کو سمیٹنا مشکل ہوتا ہے۔امریکہ جیسی عالمی طاقت کو سمیٹنے کا فیصلہ کرنے میں 20سال لگے، اور سمیٹے بغیر جانے کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔اپنے معاونین کے لئے اڑوس پڑوس میں جگہ تلاش کرنے میں مصروف ہے۔توقع کی جانی چاہیئے کہ وادیئ پنجشیر کی جنگ کو طول پکڑنے سے پہلے ہی کوئی معاہدہ ہوجائے گا۔ اس لئے کہ دونوں جانب زمانہ شناس قائدین موجود ہیں۔یہ جنگ کسی غیر ملک کے خلاف نہیں لڑی جائے گی،بلکہ اپنے ہم زبان مخالفین سے لڑی جائے گی۔دوسری وجہ یہ ہے کہ افغان طالبان لڑنے کی بجائے اقتدار میں شراکت داری کی پیشکش کر رہے ہیں۔وہ چاہتے ہیں ملک میں جلد از جلد امن قائم ہو، تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک امریکہ، برطانیہ، اور یورپی یونین میں شامل26ملک بھی جنگ سے عاجز آچکے ہیں۔اس تناظر میں وادیئ پنجشیر کی جوشیلی قیادت بھی یہی چاہے گی کہ اقتدار میں مناسب حصہ لے کر افغانستان میں عوامی مسائل حل کرنے میں مصروف ہو جائے۔اگر کسی وجہ سے ہوش پر جوش غالب آگیا تب بھی اتنے بلند درجہئ حرارت پر دیر تک ٹھہرے رہنا آسان نہیں ہوگا۔عین ممکن ہے احمد مسعود کے اپنے رفقاء ایک معاہدے کی ترغیب دینے لگیں۔ جیسا کہ افغان طالبان کی لیڈر شپ پر امن طریقے سے معاملات حل کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی تشکیل بھی جنگ کے خطرات سے بچنے کی کوشش تھی۔یہ انسانی المیہ ہے کہ اقوام متحدہ اپنے اعلیٰ و ارفع مقاصد سے آنکھیں بند کرکے پانچ ویٹو پاور ممالک کی لونڈی بن کر رہ گئی۔ان میں 3(برطانیہ، روس اور امریکہ)کو دنیا اپنی ملکی حدود تک محدود کر چکی ہے۔اور ہر مرتبہ افغانستان کا نام سرفہرست لکھا نظر آتا ہے۔چین اورروس اس بار افغانستان کے اتحادی ہیں۔چین اس سارے معاملے کا عینی شاہد ہے، لہٰذاتوقع کی جا سکتی ہے کہ مستقبل قریب میں ”امریکہ“ بننے سے اجتناب کرے گا۔حسنِ ظن سے کام لیا جائے، اَللہ نے(سورۃ الحجرات آیت12میں) زیادہ بدگمانی سے منع کیا ہے۔اَللہ کی ہدایت سے رہنمائی لی جائے۔


