اب ہیجانی کیفیت سے باہر نکلیں

مانا کہ مغربی پڑوسی ملک افغانستان سے 20سالہ جنگ کے خاتمے پرامریکہ سمیت غیر ملکی فوجوں کا انخلاء ایک غیر معمولی واقعہ تھا،خطے کے تمام ملک ایک بار پھر خانہ جنگی کا خطرہ محسوس کر رہے تھے۔ڈر تھا کہ خانہ جنگی کے نتیجے میں لاکھوں افغان شہری جان بچانے کے لئے پاکستان اور دیگر ملکوں میں پناہ لیں گے۔ان کے ساتھ داعش، ٹی ٹی پی اور القاعدہ کے دہشت گرد بھی ہمسایہ ملکوں میں داخل ہو جائیں کے اور امن و امان کی صورت حال بے قابو ہو جائے گی۔مگر دنیا یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ ایک گولی بھی نہیں چلی اور افغان طالبان کابل کے صدارتی محل میں داخل ہوگئے۔حکومتی تبدیلی کی کوئی رسم ادا نہیں کی گئی مگر اقتدار امریکہ نوازاشرف غنی حکومت سے افغان طالبان کو منتقل ہو گیا۔ امریکہ مکمل انخلاء سے گریزاں تھا،دوحہ معاہدے پر عمل کرنے کی بجائے مختلف تاریخیں دینے لگا۔افغان طالبان نے تاخیر سختی سے مسترد کردی۔امریکہ غیر متوقع صورت حال دیکھ کر بوکھلاہٹ میں کسی منصوبہ بندی اوراشرف غنی حکومت کو اعتماد میں لئے بغیرہی افراتفری میں اپنے فوجیوں کی بڑی تعداد واپس بلا لی۔دہشت گردی کا صرف ایک واقعہ کابل ایئر پورٹ پرپیش آیا جس میں 13امریکی فوجی، 28افغان طالبان اوردرجنوں دیگر افراد مارے گئے، زخمی ہوئے۔ذمہ داری داعش نے قبول کی، امریکہ نے افغان طالبان کی اجازت سے داعش کے ٹھکانوں پر ڈرون حملہ کیا اور دعویٰ کیا کہ کابل ایئر پورٹ حملے کا ماسٹر مائنڈ مارا گیا ہے، ہم نے بدلہ لے لیا۔جبکہ بعد میں تسلیم کیا کہ مارے جانے والے جنگجوؤں میں مطلوب ماسٹر مائنڈشامل نہیں تھا۔31اگست تک انخلاء مکمل کئے جانے کی کوشش جاری ہے۔ پاکستان نے چند ہزار آخری غیر ملکی شہریوں کو تین ہفتے کا عبوری ویزہ دینے کی حامی بھری ہے جوبقول وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اپنے خرچ پر اسلام آباد کے ہوٹلوں میں قیام کریں گے۔صدمے کی شدت پر امریکی صدر جو بائیڈن میڈیاکے روبرو رو پڑے۔افغان طالبان نے برطانوی سفارت خانے میں موجود ملکہ کی تصویر کی حفاظت کا اعلان کیا ہے، جبکہ ماضی میں عالمی مطالبے کورد کرتے ہوئے ان طالبان نے بامیان میں مہاتما گوتم بدھ کاایک بڑااور تاریخی مجسمہ دھماکے سے اڑا دیا تھا۔تصویر کی حفاظت کا اعلان فکری تبدیلی کاعلامتی اظہار سمجھا جانا چاہیئے۔40سال سے زائدعرصے تک روس، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ(اور آپس میں بھی) مسلسل حالت جنگ میں رہنا آسان کام نہیں تھا، امن کی خواہش افغان عوام اور طالبان سے زیادہ کسی دوسرے کے دل میں نہیں ہو سکتی۔پنجشیر کا معاہدہ اسی جذبے کا واضح اور منہ بولتا ثبوت ہے۔سیانے کہہ گئے ہیں:”وقت سب سے بڑااستاد ہے“۔ وقت کا سکھایا ہواسبق دیر تک یاد رہتا ہے۔ اصل فکری تبدیلی غیر ملکی افواج کے مکمل انخلاء کے بعد دیکھنے میں آئے گی۔حکومت سازی اور اس کے بعد متوقع پالیسی اعلان سے سب کچھ واضح ہو جائے گا۔ تمام شکوک دور ہو جائیں گے۔ابھی تک عالمی رد عمل افغان طالبان مخالف نہیں، چند روز میں دھند چھٹ جائے گی۔دنیا جا ن لے گی کہ افغان طالبان امن پسند ہیں، یا شمشیر بکف زندگی گزارنا چاہتے ہیں؟اپنی حفاظت کا افغان طالبان کو بھی اتناہی حق حاصل ہے جتنا امریکہ اور اس کے اتحادی اپنے لئے چاہتے ہیں۔جوقومیں اپنی حفاظت نہیں کر سکتیں صفحہئ ہستی سے مٹ جاتی ہیں،طاقتوراقوام انہیں خس و خاشاک کی طرح اپنے قدموں تلے روند دیتی ہیں۔قدرت نے چیونٹی سمیت اپنے دفاع کا حق سب کو دیا ہے۔ہاتھی جیسے عظیم الجثہ جانور کو بھاگنے پر مجبور کر دیتی ہے۔انسانی آنکھ سے دکھائی نہ دینے والاننھا سا کوروناوائرس(Covid-19)دنیا کی نیندیں اڑا چکاہے۔ویکسین لگائے بغیر ایک ملک سے دوسرے ملک سفر نہیں کیا سکتا۔جن والدین نے ویکسین نہیں لگوائی ان کے بچے اسکول نہیں جاسکتے۔پاکستان میں کہا جارہا کہ پیٹرول بھی اسے ملے گا جو ویکسین کا سرٹیفکیٹ دکھائے گا۔سچ ہے؛جان ہے تو جہان ہے۔احتیاط علاج سے بہتر ہے۔کہنے کا مقصد ہے ہر جاندار کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور اس فہرست میں افغان عوام بھی شامل ہیں۔اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ خوابِ غفلت سے بیدار ہو،اپنے قیام کے اغراض و مقاصد ایک بار پھر توجہ اور سنجیدگی سے پڑھے،ہر قسم کی ناانصافی کے خلاف سینہ سپر ہو جائے۔ مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر جیسے دیرینہ سلگتے ہوئے مسائل کو حل کرے۔5اگست2019سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہے، اسرائیل جب چاہتا ہے فلسطینی عوام پر گولیا ں برسانا شروع کر دیتا ہے۔کیا ان کے انسانی حقوق نہیں ہیں؟ کیا وہاں نہتے شہری قتل نہیں ہو رہے؟پاکستان میں مسنگ پرسنز کا مسئلہ حل طلب ہے، بلا تاخیرحل کیا جائے۔ اپنی فکر، پسند اور مرضی سے زندہ رہنے کا حق سب کو ملنا چاہیئے۔اس پر ناروا پہرے بٹھانا درست نہیں۔سی پیک کے معاہدے خفیہ نہ رکھے جائیں۔عوام کو معلوم ہونا چاہیئے کہ انہیں ترقی کے نام پر غلام تو نہیں بنایا جارہا؟ان کی آزادی تو سلب نہیں کی جا رہی؟ انہیں یقین دلایا جائے کہ کسی دوسری قوم کے ہاتھوں فروخت تو نہیں کیاجارہا؟پاکستان کے شہری انسان ہیں، انہیں انسان سمجھا جائے، بھیڑ بکریوں جیسا سلوک نہ کیا جائے۔ پارلیمنٹ کو بے خبر رکھ کر کئے جانے والے معاہدے شکوک کو جنم دیتے ہیں۔ان معاہدوں سے قوم فروشی کی بو آتی ہے۔ایک اسلامی ملک سے کیا جانے والا پندرہ سالہ گیس کا معاہدہ عدالتوں تک پہنچنا اسی ”رازداری“کی ایک مثال ہے۔ بجلی کے نام پر کئے گئے معاہدے قوم کے گلے میں معاشی غلامی کا طوق بن کر لٹک رہے ہیں، عوام کی رگوں سے جونک کی طرح خون چوس رہے ہیں۔ انہیں ہٹانا ممکن نہیں ورنہ غیر ملکی کمپنیاں معاہدہ شکنی کہہ کر عالمی عدالت جاسکتی ہیں۔ریکوڈک کاپر اینڈ گولڈ پروجیکٹ،بلوچستان اور رینٹل پاور، سندھ کے معاہدوں کا حشر یاد رہے۔ اصولی بات ہے، بجلی کے ہر یونٹ کی ادائیگی عوام نے اپنی جیب سے کرنی ہے اس کے بارے میں تمام شرائط سے عوام کو معلومات حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔ معاہدوں پر دستخط کرنے والے افراد(بیوروکریٹس اورسیاست دان دونوں)عوام کے نمائندہ کی حیثیت سے دستخط کرتے ہیں، حقیقی مالک اور وارث عوام ہیں۔لہٰذاعوام سے تجارتی معاہدوں کو خفیہ رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ اگر اس ضمن میں کوئی قانونی رکاوٹ ہے تو پارلیمنٹ مجاز قانون ساز ادارہ ہے،اس رکاوٹ کو با آسانی دور کر سکتی ہے۔مانا کہ یہ قانون سازی مؤثر بہ ماضی نہیں ہوگی مگر مستقبل میں عوام کے نام پر کئے جانے والے اس قسم کے خود غرضانہ، ظالمانہ اور غیر منصفانہ معاہدوں کاراستہ بندہو جائے گا۔یہ عوام دشمن راستہ فوری بند کیا جائے۔افغانستان میں معمول کی زندگی بحال ہونے کے آثار دکھائی دینے لگے ہیں، پاکستان کو بھی چاہیے ہیجانی کیفیت سے باہر نکلے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں