خطے کے عوام تذبذب کا شکار ہیں
عجیب اصول ہے! دنیا حکومت کو تسلیم کرتی ہے، تسلیم کرتے وقت ریاست کے دیگر اجزاء (قطعہئ اراضی، عوام، عدلیہ اورمقننہ) کو اہمیت نہیں دی جاتی۔حکومت تشکیل دینے کے دو طریقے رائج ہیں۔ اول:عوام انتخابی عمل کے ذریعے چار یا پانچ سال کے بعد ملک میں کام کرنے والی سیاسی پارٹیوں میں سے کسی کو زیادہ ووٹ دیں تو وہ پارٹی ایک رکن پارلیمنٹ کو ”قائد ایوان“مقرر کرتی ہے، اور پھر قائد ایوان اپنی پسند کی کابینہ تشکیل دیتا ہے۔یہ کابینہ بشمول قائد ایوان جو پارلیمانی نظام میں وزیر اعظم (اور صدارتی نظام میں صدر)حکومت کہلاتی ہے۔دوم یہ کہ کبھی کبھی کسی ملک کی فوج اپنے وزیر اعظم یا صدر اور اس کی کابینہ کی کارکردگی یاکسی اقدام سے ناراض ہوکر (یا غیر ملکی اشارے پر)اقتدار پر قبضہ کرلیتی ہے،(مارشل لاء نافذ کر دیتی ہے)۔ایسی صورت میں (آرمی چیف کے حکمنامے کے ذریعے آئین، اسمبلیاں اور حکومتیں (مرکزی /صوبائی) ختم ہو جاتی ہیں۔عموماً اس تبدیلی کوبھی تسلیم کر لیاجاتا ہے۔مگرافغانستان میں صورت حال مختلف ہے۔یہاں 20سال قبل امریکہ نے عرب ملک کے ایک شہری کوامریکہ میں دہشت گردی کی واردات کا مرکزی ملزم کہہ کراس وقت کی حکومت سے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔طالبان کی حکومت تھی، اس نے اپنی روایات کے تحت جواب دیا:”اسامہ بن لادن ہمارے مہمان ہیں، ہم ان کی حفاظت کے پابند ہیں،کسی دوسرے ملک یا حکومت کے حوالے نہیں کر سکتے، البتہ وہ خود کہیں جانا چاہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا“۔اس کے علاوہ طالبان حکومت (جسے پاکستان کے سواکوئی دوسرا ملک ”تسلیم“ نہیں کرتا تھا) نے امریکہ سے وہ شواہد بھی مانگے جنہیں دیکھ کر اسامہ بن لادن کے ملزم ہونے کا تعین کیا جاسکے۔امریکہ نے اسامہ بن لادن کو زندہ یا مردہ گرفتار کرنے کا نعرہ لگاتے ہوئے اپنے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ حملہ کر دیا۔اوراس موقعے پر طالبان حکومت کو ”پتھر کے زمانے میں پہنچانے“کا دعویٰ بھی کیا۔اس دوران افغانستان میں امریکہ نے اپنی پسند کی حکومتیں قائم کیں،افغانستان کے چپے چپے پر بلکہ ہمسایہ ملک پاکستان پر بھی سینکڑوں ڈرون حملے کئے۔ان حملوں میں متعدد طالبان رہنما شہید ہوئے۔بعض رہنماؤں کو پاکستان نے رضاکارانہ طور پر امریکہ کے حوالے کیا،ان میں ملا عبدالغنی برادر بھی شامل ہیں۔واضح رہے کہ یہ وہی ملا عبدالغنی برادر ہیں جن کی حکومت ختم کرنے کے لئے امریکہ نے ماضی میں حملہ کیا تھااور حالات سے مجبور ہوکر انہی کے ساتھ امریکی حکومت نے دوحہ میں فروری2020میں ایک معاہدہ پر دستخط کئے تھے اور تحریری طور پر مانا تھا:
”14مہینے میں افغانستان سے اپنی فوجیں نکال لیں گے“۔
یہ مدت مئی میں ختم ہو گئی اورامریکی صدر کے بیانات سے افغان عوام کو یہ پیغام ملا کہ امریکہ معاہدے پر عملدرآمد میں مخلص نہیں۔یہی وجہ ہے انخلاء میں روا رکھی گئی تاخیر کو دنیا نے کہا:”امریکہ کو کسی منصوبہ بندی کے بغیراتنی”عجلت“ میں انخلاء نہیں کرنا چاہیے تھا۔“، مستقبل کا مؤرخ ان واقعات کو بے اصولی کی بدترین مثال قرار دے گا۔ یہ دوغلہ پن ایسے ملک کی حکومت کو زیب نہیں دیتا جو 76برس سے خود کوعالمی طاقت کہتی چلی آئی ہے۔یاد رہے2001میں طاقت کا توازن امریکہ کے حق میں تھا،اس طاقت کے بل اس نے جو چاہا کیا۔ انخلاء سے ایک سال قبل ہی امریکہ نے اپنی ہار تسلیم کر لی تھی ورنہ پاکستان کی منت سماجت کرکے طالبان سے مذاکرات نہ کئے جاتے۔امریکی مقتدرہ نے سیانوں کے اس قول کو بھی نظر کر دیا تھاجو بیس برس پہلے بھی سچ تھا اور آج بھی اسے کوئی جھٹلا نہیں سکتا کہ جنگ شروع کرنااپنے ہاتھ میں اور بہت آسان ہے مگر اسے ختم کرنادوسروں کے ہاتھ میں اور بہت مشکل ہوتا ہے۔اب فیصلہ افغان طالبان کے پاس تھا اور وہی اپنے فیصلے پر عملدرآمد کرا رہے ہیں۔امریکہ اور اس کے اتحادی ڈکٹیشن لیتے نظر آئے۔بھارت نے اس غیر منصفانہ جنگ میں افغان عوام کی بجائے غیر ملکی حملہ آوروں کا ساتھ دیا،غلطی کی،پریشانی میں مبتلاء ہے،اپنا سفارت خانہ بھی خالی کرنا پڑا۔ اس غلطی کے بعد اس کے پاس دوسری غلطی کاچانس نہیں رہا۔پاکستان کے لئے بعض وجوہات کے سبب یہ مصیبت اپنے بھیس میں نعمت چھپائے ہوئے تھی، اس کے ڈی جی آئی ایس آئی کابل میں چائے کا کپ اٹھائے فوٹو کھنچوا رہے ہیں۔ حکمرانوں کو فیصلہ کرتے وقت ہزار بار سوچنا چاہیے۔ہمسایہ کے بارے میں بزرگ گہہ گئے ہیں:
”غیرہمسایہ اس سگے بھائی کی نسبت زیادہ قیمتی ہے جو پڑوس میں نہ رہتا ہو“؛
افغانستان بھارت سے ایک ملک کے فاصلے پر ہے، امریکہ ہزاروں میل دور سات سمندر پارواقع ہے۔کولمبس انڈیا پہنچنے کے لئے مغرب کاسمندری راستہ اختیار نہ کرتا تو شاید دنیا کو اس براعظم کی موجودگی کا طویل عرصے تک علم بھی نہ ہوتا۔حادثاتی طور پر دریافت ہونے والے ملک کی دولت اور اسلحے سے مسحوراور مرعوب ہوکر اپنے ہمسایوں کو حقیر سمجھنا درست نہیں۔یہ رویہ ماضی میں غلط تھا اور مستقبل میں بھی نقصان دہ ثابت ہوگا۔جو ہو چکا، سو ہو چکا۔ماضی کو بھلا کر مستقبل کے بارے میں سوچا جائے،بہتر حکمت عملی اپنائی جائے۔ہمسائے کو عزت دی جائے،جواباً ہمسائے سے عزت کی امید رکھی جائے۔سارک کا پلیٹ فارم موجود ہے۔اس پلیٹ فارم سے استفادہ کیا جائے، اسے نفرتیں بڑھانے کی بجائے محبتوں کے فروغ کے لئے استعمال کیا جائے۔امریکہ کل بھی ہزاروں میل دور تھا،آئندہ ہزاروں سال بھی یہ دوری برقرار رہے گی،ہمسایہ کبھی نہیں بن سکتا۔اصلاح کی گنجائش ہمیشہ موجود ہوتی ہے،اصلاح کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ہمسایہ تو ہر مشکل وقت میں سرہانے کھڑا ہوتا ہے۔اس نعمت کو اپنی غلط سوچ سے عذاب نہ بنایاجائے۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے۔شنگھائی تعاون کانفرنس کا پلیٹ فارم بھی ترقی، اور خوشحالی کے دروازے کھول سکتا ہے۔یہ پلیٹ فارم بھی ہمسایہ ملکوں کو بیٹھک اور پنچایت کا موقع فراہم کرتا ہے۔ جنگ جب بھی لڑی جائے، کوئی بھی لڑے آگ، میتیں، بھوک اور افلاس دیتی ہے۔امریکہ افغانستان سے جاتے وقت بھی 13 تابوت اور درجنوں زخمی فوجی ساتھ لے کر گیا ہے۔ عوام کو بھوک، افلاس، بیماری اور بے روزگاری سے نجات دلانے کی ضرورت ہے۔ بنیادی فرض اداکیا جائے۔دوسروں کو اپنا محکوم بنانے کی احمقانہ کوشش درست نہیں۔ امریکی انجام سے سبق حاصل کیا جائے۔درست فیصلے کئے جائیں۔ قدرت نے انسانوں کو عقل عطا کی ہے،کوئی عقلمند شخص جنگ کی حمایت نہیں کرتا،مسلط کر دی جائے تو تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق”طالبان“ بن سکتا ہے۔


