اے این پی آنیوالے انتخابات میں کسی سے اتحاد نہیں کریگی، ایمل ولی خان
پشاور: عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی آنے والے انتخابات میں کسی سے اتحاد نہیں کرے گی۔ موجودہ حکومت شکست سے بچنے کے لئے بلدیاتی انتخابات سے بھاگ رہی ہے۔ اے این پی اپنے منشور کیساتھ بلدیاتی اور عام انتخابات میں حصہ لینے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ صوبہ بھر میں ہر حلقہ پر لالٹین کے نشان پر امیدوار موجود ہوگا۔ دورہ ہنگو کے پہلے روز تحصیل ہنگو کے تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی وسائل پر عوام کے اختیار اور انکے حق حکمرانی پر یقین رکھتی ہے۔ اے این پی نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے اسلام آباد سے پختونوں اور دیگر قومیتوں کے حقوق اور صوبائی خودمختاری حاصل کی۔ اس بار اگر موقع ملا تو عوام کو ضلعی خودمختاری کا تحفہ دیں گیاور ایسی قانون سازی کریں گے کہ ہر ضلع کے وسائل پر اسی ضلع کا اختیار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کی نااہلی کی بدولت پختونخوا کے عوام اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ثمرات سے آج بھی محروم ہیں اور آج بھی صوبے کے عوام کو انکے آئینی حقوق دینے سے گریز کیا جارہا ہے۔ پختونوں کے نمائندگی کے دعویداروں نے پچھلے آٹھ سال میں خیبر پختونخوا کے عوام کو ذرا برابر بھی فائدہ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ نوے دن میں نیا پاکستان بنانے کے دعویدار آجکل تبدیلی کے بٹن کو ڈھونڈ رہے ہیں۔مہنگائی اور بے روزگاری کا جن بیقابو ہوچکا ہے۔ حکومت غربت کی بجائے غریب کش کی پالیسی پر عملدرآمد کررہی ہے۔ غریب عوام دو وقت کی روٹی کے لئے خوار ہورہے ہیں، جرائم اور دیگر مسائل میں اضافہ ہورہا ہے لیکن چور دروازے سے اقتدار میں آنے والوں کیکانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ موجودہ حکومت عوام کو ریلیف پہنچانے کی بجائے اپنے لانے والوں کو ریلیف پہنچانے کے لئے کام کررہی ہے۔مہنگائی اور بے روزگاری پر قابو پانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن موجودہ حکومت اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان ایک نازک اور خطرناک دور سے گزر رہا ہے۔ افغانستان کے حالات کا پاکستان پر اثر انداز ہونا لازمی ہے۔پاکستان کو تمام ہمسایہ ممالک کی خودمختاری اور آزادی کا احترام کرنا ہوگا۔ اے این پی تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی خواہاں ہے جسکا مثبت اثر عوام کے روزگار، کاروبار اور تجارت پر ہوگا


