صوبے کے حقوق کیلئے جدوجہد کرنے کی پاداش میں طلباء کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بی ایس او
کوئٹہ:بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنماؤں جہانگیر بلوچ، عظیم بلوچ و دیگر نے کہا ہے کہ بلوچستان کے طلباء اور صوبے کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے کی پاداش میں طلباء کو ہراساں کیا جارہا ہے تاہم وہ ایسے ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں ہوں گے۔ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے طلباء و طالبات نے میڈیکل انٹری ٹیسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کررہے تھے تو انہیں حکومتی ایماء پر تشدد کا نشانہ بنا کر گرفتار کیا گیا جو کہ بلوچ اور پشتون قوم کے نوجوانوں کو تعلیم سے دور کرنے کے مترادف ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن بلوچ نوجوانوں کا نمائندہ طلباء تنظیم ہے جس کا مقصد آئین و قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے شعوری بنیادوں پر نوجوانوں کا تربیت کرنا ہے تاکہ وہ جمہوری طرز جدوجہد کے ذریعے بلوچستان کے تعلیمی مسائل سمیت سیاسی، معاشی حقوق کا تحفظ کرسکے مگر انہیں اس جدوجہد سے دستبردار کرانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز مبینہ طور پر گوادر میں تنظیم کے مرکزی سیکرٹری انفارمیشن سنگت بالاچ قادر کی فیملی کو اپنے ہی گھر میں ذہنی اذیت سے دوچار کیا گیا جس کا مقصد سنگت بالاچ قادر کو ان کے جمہوری طرز سے جدوجہد سے دستبرار کرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کسی صورت بھی جمہوری اور سیاسی جدوجہد سے دستبرار ہونے والے نہیں ہیں۔


