کرکٹ سیریز کی منسوخی: انٹرپول سے معاملے میں معاونت طلب کی ہیں، فواد چوہدری
اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات نے نیوزی لینڈ کی ٹیم کا دورہ پاکستان منسوخ ہونے کے ’پس پردہ حقائق‘ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہمیں ہائبرڈ وار اور ففتھ جنریشن وار کا سامنا ہے، کرکٹ سیریز کی منسوخی کے معاملے پر انٹر پول سے معاملے میں معاونت طلب کی ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ جب نیوزی لینڈ کی ٹیم کا دورہ پاکستان منسوخ ہورہا تھا تب ایس سی او کا اجلاس جاری تھا اور وزیراعظم کی تقریب سے 15منٹ پہلے ہمیں اطلاع ملی لیکن مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ وزیر اعظم کو فوری آگاہ نہیں کیا جائے تاکہ وہ پریشان نہ ہوں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے جعلی نام سے 19 اگست 2021 کو فیس بک پوسٹ سامنے آتی ہے جس میں نیوزی لینڈ اور اس کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ دورہ پاکستان منسوخ کردے کیونکہ آئی ایس کے پی نے ٹیم پر حملے کا منصوبہ بنایا ہے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ ’اس کے بعد 21 اگست 2021 کو بھارتی ویب سائٹ سنڈے گارڈین ابی نندن میشرا کے بیورو چیف نے ایک آرٹیکل شائع کیا نیوزی لینڈ ٹیم پاکستان میں دہشت گردی کا شکار ہوسکتے ہیں‘۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ’ابی نندن میشرا کے افغانستان کے سابق نائب صدر امراللہ صالح سے بہت قریبی تعلقات ہیں اور امر اللہ صالح پاکستان مخالف ہونے کے حوالے سے مشہور ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے چند دن بعد نیوزی لینڈ کے کھلاڑی مارٹن گپٹل کی اہلیہ کو ایک ای میل موصول ہوتی ہے کہ جس میں اطلاع دی جاتی ہے کہ مارٹن گپٹل کو دورہ پاکستان میں قتل کردیا جائے گا‘۔
انہوں نے کہا کہ ’جب تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ جس ای میل ایڈریس سے مارٹن گپٹل کی اہلیہ کو ای میل کی وہ کسی بھی سوشل میڈیا نیٹ ورک سے منسلک نہیں تھی، کسی ایس این ایم سے تعلق نہیں تھا، یہ ای میل ایڈریس 24 تاریخ رات 5 بجے بنایا گیا اور 11 بجے ان کی اہلیہ کو ای میل کی گئی‘۔
فواد چوہدری نے کہا کہ اس ای میل سے اب تک صرف ایک ہی ای میل کی گئی جو مارٹن گپٹل کی اہلیہ کو کی گئی تھی، دراصل ای سی پروٹون سرور سے کی گئی جس کی تفصلات عام حالات میں دستیاب نہیں ہوتی اس لیے ہم نے انٹرپول سے اس ای میل سے متعلق معلومات طلب کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کے باوجود نیوزی لینڈ ٹیم اپنا دورہ منسوخ نہیں کیں کیونکہ دونوں ممالک کی ایجنسیوں نے دھمکی پر مبنی ای میل کو جعلی قرار دے دیا تھا، نیوزی لینڈ کی ٹیم پاکستان پہنچی اور انہیں غیر معمولی سیکیورٹی فراہم کی گئیں اور انہوں 13 تاریخ کو پہلی پریکٹس کی۔
انہوں نے کہا کہ 17 تاریخ کو جس دن میچ ہونا تھا، صبح کے وقت نیوزی لینڈ کی ٹیم نے اپنی حکومت کا حوالہ دے کر کہا کہ سیکیورٹی خدشات ہیں اس لیے دورہ منسوخ کررہے ہیں، متعلقہ حکام نے کیویز ٹیم سے سیکیورٹی خدشات شیئر کرنے کا بھی کہا لیکن وہ اس بارے میں اتنے ہی نابلد تھے جتنے ہم تھے کیونکہ سیکیورٹی خدشات یہاں نہیں تھے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ اس دوران ہم نے وزیر اعظم کو نیوزی لینڈ کے دورے سے متعلق آگاہ کیا اور ہماری درخواست پر عمران خان نے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم سے بات کی جس میں جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ ’اہم معلومات‘ موصول ہوئی ہیں اور کھلاڑیوں کی حفاظت سب سے اہم ہے۔


